پولیٹیکل فیاسکو

25

آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب سب سے بڑے آئینی بحران کا شکار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس کی کل آبادی ایک سو دس ملین ہے اور ان لوگوں پر سربراہ کے طور پر کوئی موجود نہیں۔ اگر سنجیدہ فیصلے کرنے کے لیے کوئی سربراہ موجود نہیں ہے، تو کس طرح نظام چلے گا۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر صوبے میں حکومت نہ ہو تو سرکاری افسران کام کس طرح کریں گے، سربراہ کے بغیر قوموں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ اشیائے خورد نوش کی قیمتیں بڑھتی چلی جارہی ہیں، معیشت کی کشتی بھنور میں پھنس چکی ہے، عالمی منڈیوں کا پاکستان پر اعتماد ختم ہو رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا روجھان ہے، اپریل کے مہینے میں مہنگائی 13 فیصد سے اوپر جبکہ مئی کے مہینے میں بھی اس میں کمی محض ایک خواب ہی رہا۔
تیرا پارٹیز کی حکومت اور دو وزیر خزانہ موجود ہیں لیکن پھر بھی ہر شہ کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ وزیر خزانہ کہتے ہیں پچھلی حکومت ان کے لئے بارودی سرنگ بچھاکر گئی ہے یعنی حکومت کو مشکل میں ڈال گئی ہے جبکہ دیکھا جائے تو اگر قرضوں میں اضافہ ہوا ہے تو جی ڈی پی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ایسی صورت میں اگر حکومت سبسڈی  کم بھی کر دے تو عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔
تاریخ شاہد ہے کہ تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کو گالیاں بکنے اور کفر کے فتوے لگانے والے سیاستدان اپنے تمام اختلافات بھلا کر کسی ایک شخصیت کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں جسے ووٹ آف نو کانفڈنس کے ذریعے برطرف کیا۔ پہلی دفعہ 1942 میں قائداعظم کے لیے لوگ اٹھے اور ہم آواز ہوئے، عقیدہ انتہائی پختہ تھا کہ سرزمین پاکستان کے خواب کو تعبیر کر دکھایا۔ دوسری بار 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کھڑے ہوئے اور اب ماضی نے خود کو 2022 میں تیسری بار دہرایا ہے عمران خان کی صورت میں۔ عمران خان کی مقبولیت میں دن دگنی رات چوگنی اضافہ ہو رہا ہے آنے والے انتخابات میں سرخرو ہو یا نہ ہو۔
سعد رسول نے پیر کے روز "The  age of Imran Khan” کے نام سے شائع ہونے والے اپنے کالم میں یہی بات لکھی ہے کہ آنے والی نسلیں آج کے دور کو عمران خان کے نام سے جانیں گی۔ عمران خان کو اپنے عہدے سے امریکی بغاوت پر برطرف کیا گیا لیکن تاریخ اپنا فیصلہ لکھے گی جس طرح محمد علی جناح, بھٹو کے دور میں لکھا گیا تھا۔ ستر سالہ عمران خان جذبہ اور جنون کا پیکر ہے۔ بہت سے لیڈر آئے اور بہت سے گئے, وقت کے ساتھ ساتھ ان کی پہچان بھی ٹھنڈی پڑ گئی لیکن عمران خان وقت کے ساتھ مقبول ترین ہوتے گئے۔ موجودہ حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اگر تمام لوگ بھی ایک طرف کھڑے ہوں تو عمران خان ان کا مقابلہ فرد واحد کے طور پر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جہاں تک بات ہے موجودہ معاشی سیاسی اور مالی بحران کی تو اسکی مناسبت سے ایک مشہور کہاوت ہے کے ہاتھوں سے باندھی گئی گرہیں کبھی کبھی دانتوں سے کھولنا پڑ جاتی ہے۔ بظاہر تیرا جماعتیں ایک پیج پر ہونے کا دعوی کرتی ہیں اپسی مفادات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اقتدار میں آنے کیلئے اگر کسی کو کسی کی ٹانگ بھی کھینچنا پڑی تو وہ اس سے گریز نہیں کرے گا اور یہ بات عیاں ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان کے پاور شو سے حکومت فیصلہ سازی کرنے میں ناکام ہے اور دباؤ کا شکار ہے لیکن اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا جائے اور آخر میں ذمہ دار کو اگر تلاش کریں تو کوئی بھی موجود نہ ہو۔ پنجاب کی صورتحال کچھ اسی طرح سے ہے۔ پنجاب میں آئینی بحران کو دور کرنا ہوگا جس کے لیے نئے گورنر کاتقرر بے حد ضروری ہے۔ جس طرح چیف منسٹر کے انتخاب کو سیاسی رنگ دیا گیا اس طرح سیاسی معاملات کو خراب کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ پاکستان اور پاکستان کے عوام اس بے یقینی کی صورت حال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہر پل لوٹ جانے کا اندیشہ جو کاروباری حضرات کو لاحق ہے ان کو اس سے باہر نکالنا حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ اگر ملکی معیشت ترقی نہیں کرے گی ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ اگر الیکشن اس سیاسی بحران کا حل ہے تو ملک کی بہتری کے لئے  یہ اقدام اٹھا لیا جائے۔

تبصرے بند ہیں.