اسٹیبلشمنٹ

15

حالیہ واقعات سے لگتا ہے کہ ہم مکمل انارکی کے قریب آ رہے ہے۔ جدید ریاست میں عوام کی تائید و حمایت سے قائم ہونے والے منتخب اداروں کو حاکمیت اعلیٰ کا حقدار تسلیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور نظمِ ریاست چلانے کا اختیار منتخب اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں پارلیمنٹ آئین سازی کے فرائض سر انجام دیتی رہی ہے اور اسی کو آئین میں ترمیم کا اختیار ہے۔ قانون سازی بھی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آئین میں طباعت کی حد تک تو یہ باتیں درست معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر تاریخی تناظر میں دیکھیں تو عملی صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں مینڈیٹ کی چوری عام ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح پی ٹی آئی کی حکومت کو فارغ کیا گیا جس کا تذکرہ آج کل سابق وزیرِ اعظم عمران خان ملک کے طول و عرض میں کئے جانے والے جلسوں میں کر رہے ہیں۔ہماری سیاسی تاریخ میں یہ کوئی پہلی واردات نہیں تھی بلکہ اس سے قبل بھی یہ واردات کئی بار ہوئی۔ بس چہرے بدلتے رہے، کبھی کبھار طریقۂ واردات میں تبدیلی آتی رہی۔ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ منصوبے بناتی ہے کسی ایک گروہ کو ساتھ ملاتے اور آخر میں منصفوں سے اپنے حق میں فیصلہ لیتے۔ ہر دفعہ عوام کے مینڈیٹ کے دیواروں میں نقب لگتی لیکن مجبور اور بے بس عوام رو دھو کر چپ ہو جاتے۔
ہم نے دیکھا کہ اسی کی دہائی کے آخر میں محمد خان جونیجو کی حکومت اورا سمبلی کے ساتھ یہ کھیل کھیلا گیا، جنرل ضیاء الحق مرحوم محمد خان جونیجو کو ایک کمزور شخصیت سمجھ کر اقتدار میں لائے، خیال تھا کہ ان کے کمزور کندھوں پر رکھ کر آمریت کی بندوق چلتی رہے گی، اقتدار ضیاء الحق کا ہو گا، سامنا کرنا پڑے گا جونیجو حکومت اور ان کی دکھاوے کی کابینہ کو۔ لیکن
ایسا نہ ہو سکا۔ جونیجو مرحوم نے اپنی اتھارٹی رجسٹر کرانا شروع کر دی۔ جنیوا معاہدہ، ایمر جنسی کا خاتمہ، آئی بی کے سربراہ میجر جنرل (ر) آغا نیک محمد کی برطرفی، صاحبزادہ یعقوب خان کو کابینہ سے نکال باہر کرنا، بیورو کریسی کو نکیل ڈالنا وغیرہ وغیرہ ضیاء الحق اتنے تنگ آئے کہ انہوں 29 مئی 1988ء کو جونیجو حکومت برطرف کر دی، اسمبلی توڑ دی، الزام تھا کہ جونیجو حکومت کرپٹ ہے۔ امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور اسلامائزیشن کا عمل بھی بہت سست رفتار ہے۔ اسی دوران حاجی سیف اللہ اسمبلیوں کی برطرفی کو چیلنج کر چکے تھے، مقدمہ چلتا رہا، برطرفی کے الزامات اتنے مضحکہ خیز اور بے سروپا تھے کہ صاف نظر آنا شروع ہو گیا کہ سپریم کورٹ اسمبلی اور حکومت بحال کر دے گی۔ آخرکار 5 اکتوبر 1988ء فیصلے کا دن آ پہنچا۔ فیصلہ اس قدر یقینی تھا کہ جونیجو مرحوم اپنی ساری کابینہ کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے لیکن جو فیصلہ آیا اس کے مطابق جونیجو حکومت کی برطرفی غیر آئینی اور غیر قانونی تھی،لیکن چونکہ عام انتخابات کا اعلان ہو چکا، قوم انتخابی عمل کے لئے تیار ہے۔ لہٰذا اسمبلی اور حکومت بحال نہیں کی جا سکتی۔ مرحوم جنرل اسلم بیگ سے ریٹائر منٹ کے بعد 4فروری 1993ء کو لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں مدعو تھے، تب اسلم بیگ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا 5 اکتوبر 1988ء کو جونیجو کی حکومت اور اسمبلی بحال ہونے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔اسلم بیگ کے بقول جونہی ان کو خفیہ ایجنسیوں نے اطلاع پہنچائی وہ فوراً متحرک ہو گئے اور اس بات کو دباؤ ڈال کر یقینی بنایا کہ اسمبلیاں بحال نہ کی جائیں۔ جونیجو حکومت کا مینڈیٹ چوری ہوا۔ ایسی چوری اور وارداتوں کی نہ جانے کتنی وارداتیں وقت کے سینے میں پوشیدہ ہیں۔ اب ایک بار پھر پی ٹی آئی کی حکومت کو جس طرح فارغ کیا گیا وہ بھی بڑا مثالی ہے جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کی معاونت سے کام سر انجام دیا وہ کوئی اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی اور عوام اس پر سراپا احتجاج ہیں اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے واضح طور پر آج کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ کو چارج شیٹ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ نیوٹرلز سے میری مراد فوج ہی ہوتی ہے۔ میری حکومت کو انہوں نے کبھی مضبوط ہی نہیں ہونے دیا۔ یہ چاہتے تو نیب اور عدالتیں کرپشن کیسز میں فیصلہ دیتیں۔ 1988ء کی جونیجو حکومت کے بعد جس طرح حکومتیں تبدیل ہوئیں سب سامنے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ سیاست میں بہت گہرائی تک اتر چکی ہے۔ اسے یہاں سے نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے یہ محض الیکشنوں سے نہیں نکل سکے گی بلکہ اس کے لئے فوج کو خود سے سوچنا ہو گا کہ ملک کا مفاد کس بات میں ہے اور عوام کیا چاہتے ہیں موجودہ حالات میں عوام کا غصہ ہر ایک کو نظر آ رہا ہے۔
1912ء سے لے کر 2001ء تک ترکی میں فوج بہت طاقتور تھی۔ لباس سے لے کر نصاب تک ملک کے تمام چھوٹے بڑے فیصلے کرتی تھی لیکن پھرسیاستدان متحد ہوئے انہوں نے گڈ گورنس اور پر فارمنس کو اپنایا، طیب اردوان جیسا لیڈر سامنے آیا، وہ استنبول کا مئیر بنا، اس نے استنبول کی حالت بدل دی، عوام نے ساتھ دیا لیکن ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اسے ایک نظم پڑھنے کے جرم میں قید کر دیا۔ عبداللہ گل نے اس کا پرچم اٹھایا، جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے انتخاب جیتا، آئین میں تبدیلی کی طیب اردوان کو جیل سے نکالا، وزیرِ اعظم بنایا اور طیب اردوان نے سات سال میں معاشی طور پر مسائل کا شکار ترکی کو دنیا کی16ویں بڑی معیشت بنا دیا۔طیب اردوان نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کر دیا اور آج فوج بیرکوں میں جا چکی ہے۔ اب پاکستان میں بھی عمران خان اسی کوشش میں ہے اس وقت تمام پارٹیوں کو سیاستدانوں کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ اسی میں ملک کا اور سیاستدانوں بھلا ہے۔ اسی صورت میں انہیں کسی لیٹر گیٹ سکینڈل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

تبصرے بند ہیں.