عمران خان کا ’’قتل کی سازش‘‘ کا بیانیہ

13

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور عالمی شہرت کے حامل عمران خان 10 اپریل 2022 کو ایوان اقتدار سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے کے بعد عوامی پذیرائی کی نئی بلندیوں کو چھونے کی کوششیں کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایوان اقتدار میں بری طرح شکست کھائے جانے کے بعد انہوں نے ’’انکار‘‘ اور ’’بغاوت‘‘ کا جو رویہ اختیار کیا ہے اس سے وہ مطمئن ہی نہیں بلکہ سرشار نظر آ رہے ہیں۔ وہ اپنی انتقامی سیاست میں ہر مخالف اور ادارے کو برباد کرنے کی روش پر بھاگے چلے جا رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی خاص مشن کے تحت ایسا کچھ کر رہے ہیں حد یہ ہے کہ وہ وطن عزیز پر ایٹم بم گرانے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنے قتل کئے جانے کی سازش کا اعلان کر کے سیاست کے سمندر میں لہریں نہیں بلکہ طوفان برپا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے سازش کی تفصیلات بارے انہوں نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرا کے محفوظ کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے یہ ویڈیو ان کے قتل کے بعد منظرعام پر لائی جائے گی۔
پاکستان کی تاریخ میں سیاستدانوں اور عوامی پذیرائی کی حامل شخصیات کو منظر سے ہٹانے (قانونی و آئینی طریقے سے) اور منظر سے غائب (قتل کر کے) کرنے کی کئی روایات موجود ہیں۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو قتل کر کے منظر سے غائب کرنے اور وزیراعظم نوازشریف کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے منظر سے ہٹائے جانے کی تاریخ موجود ہے۔
زیادہ دور کی بات نہیں جنرل ضیاء الحق کے C-130 کے حادثے کو لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کو ملٹری انٹیلی جنس، آئی ایس آئی اور دیگر ذرائع سے پتہ چل چکا تھا کہ انہیں منظر سے غائب کئے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے الذوالفقار، سی آئی اے، خاد ، واد اور دیگر عالمی ایجنسیاں جنرل ضیاء کو منظر سے ہٹانے کی سرتوڑ کاوش کر رہی تھیں ضیاء الحق کو بطور صدر مملکت اور بطور آرمی چیف اعلیٰ سکیورٹی حاصل تھی لیکن وہ سازش سے بچ نہیں سکے۔ محمد نوازشریف سیاستدانوں کو ’’قانونی سازش‘‘ کے ذریعے منظر سے ہٹایا گیا۔
یہ سلسلہ 1951 میں وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان کے راولپنڈی میں قتل سے شروع ہوا۔ پھر 1958 میں صوبہ سرحد کی مشہور شخصیت عبدالجبار خان، المشہور ڈاکٹر خان صاحب کو 9 مئی 1958 کو قتل کر دیا گیا آپ خان عبدالغفار خان (باچا خان) کے بھائی اور عبدالولی خان کے چچا تھے۔ پیپلز پارٹی کے شریک بانی رکن اور صوبہ سرحد کی معروف سیاسی شخصیت حیات محمد خان شیرپائو کو ایک بم دھماکے میں 1975 میں قتل کر دیا گیا۔ پنجاب سے چودھری ظہور الٰہی 1981میں قتل کر دیئے گئے۔ ستمبر 1982، 37 سالہ سیاستدان و صحافی ظہور الحسن بھوپالی کو برسٹ مار کر قتل کر دیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے دست راست اور صوبہ سرحد کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر گورنر اور چیف منسٹر جنرل فضل حق کو 3 اکتوبر 1991 میں ایک نامعلوم قاتل نے ہلاک کر دیا۔ 1993 میں وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں، 1996 میں ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو، کو کراچی میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ معروف شخصیت و سابق گورنر سندھ حکیم سعید کو 1998 میں ہلاک کیا گیا۔
معروف سیاسی رہنما اور سابق وزیر مملکت صدیق کانجو جولائی 2001 میں ہلاک کئے گئے۔ 2003 میں انجمن سپاہ صحابہ کے چیف اور ممبر قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کو نامعلوم قاتل نے اسلام آباد میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، 2003 میں جنرل مشرف پر راولپنڈی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن وہ بچ نکلے۔ 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار کے بیٹے کو ہلاک کیا گیا۔ دسمبر 2012 میں، صوبہ سرحد کے سینئر منسٹر بشیر احمد بلور کو خودکش دھماکے میں ہلاک کیا گیا۔ اس طرح تحریک لبیک پاکستان کے مقبول عام مولانا خادم حسین رضوی کی وفات کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں ایک سازش کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ طبعی اموات کو بھی سازش قرار دینا ہماری سیاست کا ایک چلن رہا ہے۔
حکومت نے عمران خان کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اس حوالے سے کسی قسم کی کمی یا نرمی کا مظاہرہ کرتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی عمران خان کی طرف سے ان کے قتل کی سازش کے بیان پر کہا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے تیار ہیں عمران خان اگر اس سازش کے بارے میں بتانا چاہیں اور تحقیقات کرانا چاہیں تو وہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے تیار ہیں وگرنہ وہ ان کے بیان کو دیگر بیانات کی طرح ہی سمجھیں گے۔
عمران خان جس طرز سیاست کو ایک عرصے سے فروغ دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کا موجودہ طرز فکروعمل اس کی معراج ہے وہ اب انکار اور نہ مانوں کی سیاست کے ذریعے ہر شے کو روند ڈالنے کے لئے تلے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ بدتمیزی اور بدتہذیبی کے فروغ کے ذریعے انہوں نے اپنے ماننے والوں کی ایک تعداد کو اپنا ہم نوااور ہم مسلک بنا لیا ہے جسے اب وہ آخری امتحان میں ڈالنے کی طرف جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں موجودہ موسمی حالات کسی طور بھی عوامی رابطہ مہم چلانے اور لوگوں کو کسی تحریک چلانے کے لئے تیار کرنے کے لئے موافق نہیں ہیں لیکن انہوں نے پارلیمان میں اپنی شکست کو تسلیم ہی نہیں کیا انہیں اس بات کی بھی پروا نہیں ہے کہ انہیں نہ صرف ان کے اتحادی چھوڑ چکے ہیں بلکہ ان کے کئی ممبران اسمبلی بھی ان سے اپنی راہیں جدا کر چکے ہیںعمران خان اپنے ان منحرف ساتھیوں کو عدالت سے نااہل کرانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ پنجاب میں بھی ان کے اپنے ممبران کی خاصی تعداد اعلانیہ ان سے برأت کا اظہار کر چکی ہے۔ ان کا اپنا ڈپٹی سپیکر بھی ان کا ساتھ چھوڑ چکا ہے انہوں نے خود بھی اپنے ساتھی گورنر کو برے طریقے سے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
عمران خان نہ صرف اپنے بڑوں کی حمایت سے ہاتھ دھو چکا ہے جس کا ثبوت ان کی پارلیمان میں شکست ہے اب وہ اپنے بڑوں کو بھی کوسنے دے رہے ہیں۔ انہیں موردِالزام ٹھہرا رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ اپنے اتحادیوں اور اپنے کئی ممبران کی حمایت بھی کھو چکے ہیں۔ ان کی سیاست کا شیرازہ بکھر چکا ہے اس لئے وہ انکار اور انکار کی سیاست کو بلند مقام کی طرف لے جا رہے ہیں وہ ہر شے سے ٹکرانے اور اسے الٹ پلٹ کرنے کے لئے میدان عمل میں اتر آئے ہیں۔ وہ اپنے بچے کھچے ممبران اسمبلی اور فالوورز کو خوف و ہراس کی چھتری تلے جمع رکھنا چاہتے ہیں اس لئے وہ اس طرح کا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں ہمدردی کا جذبہ بھی شامل ہو۔
ایسے لگ رہا ہے کہ ان کا ’’قتل کی سازش‘‘ کا بیانیہ بھی ان کے دیگر بیانیوں کی طرح اپنی موت آپ مر جائے گا۔ فوری الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں وہ ایسے ہی سڑکوں پر احتجاج کرتے اور بیانیے بناتے اور بدلتے رہیں گے۔ حتیٰ کہ عام انتخابات کا اعلان ہو جائے۔

تبصرے بند ہیں.