انٹربینک میں ڈالر 199.51 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

80

کراچی: ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث معاشی صورتحال بھی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا رجحان برقرار ہے جو ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت امریکی ڈالر کو قابو کرنے میں بے بس ہو گئی ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر نے ڈبل سنچری مکمل کر لی ہے۔

انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 3.77 روپے اضافے کے ساتھ 199.51 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے مہنگا ہو کر 200 روپے تک پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جیسے اقدامات اور انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی عدم بحالی کے خدشات ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پانے تک روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ نہیں رکے گا جبکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی 22 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں جو صرف ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق غیر یقینی سیاسی صورتحال کے علاوہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی اور درآمدی بل میں ریکارڈ اضافے جیسے عوام کے باعث ڈالر کی طلب و رسد کا توازن بگڑ گیا جس کے باعث اس کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.