’’کپتان کاکوئی علاج نہیں‘‘

23

نادان کہتے ہیں کہ فوری یاجلدانتخابات کپتان کابہترین علاج ہے لیکن ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ کپتان کاکوئی علاج نہیں۔کپتان جسم میں سرسے پاؤں تک پھیلنے والی اس کینسراورناسورکی طرح ایک ایسی خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے جواب مرتے دم تک پاکستان کے سیاستدانوں اورسیاسی پارٹیوں کاپیچھاکرے گی بلکہ ان کوتڑپاتڑپاکربھی رکھے گی۔ہمارے سیاستدان ہزار نہیں لاکھ کوششوں کے باوجوداس بیماری سے اب جان چھڑانہیں سکیں گے۔یہ کہتے ہیں کہ کپتان کوکھیلنانہیں آتا۔یہ سیاست اورحکومت اس کے بس کی بات نہیں۔ اگریہ سچ ہے توپھرایک سچ یہ بھی ہے کہ اس کپتان نے آپ کوبھی کبھی کھیلنے نہیں دیناہے۔کیونکہ کپتان کاماٹوہی یہ ہے کہ ۔میں نہیں توتم بھی نہیں۔ملک میں اگرفوری انتخابات ہوئے اوراس میں کپتان کامیاب نہ ہوئے تو یاد رکھنا۔کپتان نے دھاندلی کی وہی وہ پرانی والی ٹوکری سر پر اٹھاکر اپنے کھلاڑیوں اور مریدوں سمیت پھرڈی چوک اورآپ کے دروازوں کے آگے خیمے وتمبولگاکر بیٹھ جاناہے اوروہی پرانے والے انداز میںیہ چیخناوچلاناہے کہ میرے پاکستانیو۔ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ہمارا  ووٹ چوری کیا گیا ہے۔ اس لئے میں ان دھاندلی زدہ انتخابات کوتسلیم نہیں کرتا۔آپ کویادنہیں۔پہلے بھی توچارپانچ سیٹوں کولیکرانہوں نے اسی طرح آسمان سر پر اٹھایا تھاکہ جیسے پورے ملک کے اندرانتخابات میں دھاندلی ہوئی ہو۔سابق وزیراعظم عمران خان جیسے لوگوں کے ساتھ مقابلے اورمیچ کھیلنے سے تو شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا۔ایسے لوگوں کاخیال،وہم اور گمان یہ ہوتاہے کہ اس مٹی اورزمین پران سے زیادہ قابل،ایماندار،امانت دار،محب وطن، مخلص، امیر، کبیر اور بہادر اور کوئی نہیں۔ اسی لئے یہ سمجھتے ہیں کہ میچ کرکٹ کاہویاسیاست کا۔جیت،فتح اورکامیابی ان۔۔ صرف ان کی ہوگی۔لیکن ایسا نہیں۔ جیت،فتح اورکامیابی کے ساتھ شکست،ناکامی اورہاربھی ہے اوراسی ہارنے ایک نہ ایک دن عمران خان جیسے وقت کے ہرسیاسی فرعون کے گلے کاہاربھی بنناہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ کپتان خودبھی اس حقیقت سے بخوبی واقف اورآشنا ہیں۔خان کوپتہ ہے کہ کرکٹ ہویاسیاست۔ہرباراورہرجگہ صرف جیت نہیں ہوتی۔پھرخودکپتان کی زندگی بھی کئی بارایسی شکست اورناکامی کے سائے میں گزری ہے۔کرکٹ کے ایسے کتنے میچز اورسیاست کے ایسے کتنے مقابلے ہیں جن میں کپتان کوشکست پرشکست کامنہ دیکھناپڑا۔ویسے کابنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کپتان حقیقت کوبھی آسانی کے ساتھ ماننے کے لئے تیارنہیں ہوتے۔سامنے شکست بالکل واضح اورناکامی سوفیصدکنفرم ہی کیوں نہ ہو کپتان پھر بھی ’’میں میں‘‘ میں مگن رہتے ہیں۔لیکن تاریخ کاسبق یہ ہے کہ ہر جگہ ’’میں میں‘‘ والاکام نہیں چلتا۔ کپتان توملک کی حکمرانی اوروزارت عظمیٰ کے لئے بھی ’’میں میں‘‘ سے ہٹ کرکوئی اور بات کرنے اورسننے کے لئے تیارنہ تھے لیکن پھررات بارہ بجے اس ’’میں میں‘‘ کا جو حشر نشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔پر لگتاہے کہ کپتان نے ’’میں میں‘‘ کے اس جنازے سے بھی کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ کپتان کے طور طریقے اور لہجہ بتارہاہے کہ کپتان اب بھی اسی ’’میں میں‘‘ کے خول سے باہرنہیں نکلے ہیں۔ کپتان کے دل ودماغ اوراعصاب پرجب تک ’’میں میں‘‘ کا یہ بھوت سوار رہے گا تب تک فوری انتخابات سے بھی کپتان کاکچھ نہیں ہوگاکیونکہ انتخابات میں اگر ’’میں‘‘ کو شکست ہوگئی توکپتان نے پھر آسمان سر پر اٹھا لینا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں ۔ انتخابات جلدہوں یالیٹ لیکن کپتان کو اس ملک میںصرف وہ انتخابات قابل قبول ہوں گے جن میں کپتان صرف کپتان کی جیت اورکامیابی ہو۔ الیکشن میں اگرن لیگ، پیپلزپارٹی یا کوئی اور پارٹی وجماعت کامیاب ہوئی توکپتان نے پھریہی کہناہے کہ میں ایسے انتخابات کومانتاہی نہیں ۔ کرکٹ کاتونہیں پتہ لیکن 2018کے بعدکی سیاست میں کپتان اب صرف اورصرف جیت وکامیابی کوہی جانتے ہیں۔یہ جیت اورکامیابی کس طریقے سے ہواس سے بھی کپتان کاکوئی سروکارنہیں۔ کپتان کامقصد،کام اورمطلب بس اس جیت وکامیابی سے ہے جس کے بل بوتے پروہ ملک کے وزیراعظم اورحکمران بن جائیں۔ان حالات میں اگرکوئی یہ سمجھتاہے کہ وہ فوری انتخابات کراکے کپتان کوخاموش کرادیں گے تویہ اس کی خام خیالی ہے۔کپتان کے بدلتے تیوراورچیخ وپکاریہ بتارہی ہے کہ یہ بندہ اب اقتداراوروزارت عظمیٰ سے کم کسی چیزپرراضی وخاموش نہیں ہوگا۔اگرکوئی یہ کہتااورسمجھتاہے کہ ملک میں فوری انتخابات سے کپتان ٹھنڈے یاخاموش ہوجائیں گے تووہ ابھی سے یہ بات اورخوش فہمی دل سے نکال لیں۔ کپتان نے کھیلناہے اورنہ کسی کوکھیلنے دیناہے۔ساڑھے تین چارسال یہ کوئی کم عرصہ نہیں پوری دنیانے دیکھ لیاکہ ملک اورحکومت چلاناعمران خان کے بس کی بات نہیں لیکن اس کے باوجودکپتان آرام سے بیٹھنے کے بجائے ان کوششوںمیں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح دوبارہ انہیں حکومت مل جائے۔ عمران خان کے ساتھ توکوئی نیاکام نہیں ہوا۔اس ملک میں چندکوچھوڑکرباقی تقریباًہروزیراعظم کواسی طرح وقت سے پہلے گھربھیجاگیالیکن ان میں سے کوئی ایک وزیراعظم بھی دوبارہ آنے کے لئے اس طرح بے تاب اوربے قرارنہیں ہواجس طرح دوبارہ وزیراعظم بننے کی خواہش نے کپتان کوبے قرار کر کے پاگل بنادیاہے۔پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں اورکپتان کی نااہلی کی وجہ سے ملک جس گرداب میں پھنس کررہ گیاہے۔ان حالات میں اگرملک کے اندرفوری انتخابات ہوبھی گئے تو لگتا نہیں کہ لوگ دوبارہ پی ٹی آئی کوووٹ دے کرکپتان کووزیراعظم بنادیں گے۔یہ تواس ملک کی روایت اورعوام کی عادت ہے کہ وہ آزمائے ہوئے کواتنی جلدی دوبارہ پھر آزمانا پسند نہیں کرتے ۔اس لئے ٹھنڈے دل ودماغ سے اگر سوچااورحالات وواقعات کی روشنی میں انصاف کی نظروں سے دیکھاجائے توموجودہ حالات میں کسی کے پاس بھی کپتان کا کوئی علاج نہیں۔

تبصرے بند ہیں.