پاگل پن!

49

عطاء الحق قاسمی نے گزشتہ روز اپنے کالم میں بالکل درست فرمایا ہے اس وقت عوام کی جو حالت ہے یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان کوئی ملک نہیں ایک ’’پاگل خانہ‘‘ ہے۔ کل لاہور کے ایک پل سے گزرتے ہوئے نیچے سڑک پر میں نے دیکھا جس انداز میں گاڑی پہ گاڑی چڑھی ہوئی تھی، موٹر سائیکل سوار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں جس طرح ’’ہارن گردی‘‘ کر رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے جس انداز میں ’’ون ویلنگ‘‘ کر رہے تھے۔ گداگروں کو جس طرح گاڑیوں کے آگے پیچھے ہوتے میں نے دیکھا۔ بے ہنگم ٹریفک کے جو مناظر تھے۔ یقین کریں ایک لمحے کے لئے مجھے بھی یہی محسوس ہوا میں کسی ’’پاگل خانے‘‘ میں ہوں۔ سچ پوچھیں تو ہم ’’نارمل لوگوں‘‘ کے جو حالات اب ہوتے جا رہے ہیں میں اکثر سوچتا ہوں پاگل خانوں سے سارے پاگلوں کو نکال دیا جائے تو وہ انہیں پاگل قرار دے دیں جو پاگل خانوں سے باہر ہیں۔ اس حوالے سے مجھے ایک بڑا دلچسپ واقعہ یاد آ رہا ہے۔ کالم کے بوجھل پن کو تھوڑا کم کرنے کے لئے عرض کئے دیتا ہوں۔ ایک بار جنرل ضیاء الحق جب صدر پاکستان و آرمی چیف تھے وہ ایک پاگل خانے کے دورے پر گئے۔ ایک پاگل سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس سے کہنے لگے ’’میں صدر پاکستان ہوں‘‘۔ پاگل بولا’’ چل اوئے ایتھے جیڑا آندا اے ایہو کہندا اے‘‘ (یہاں جو بھی آتا ہے یہی کہتا ہے)۔ سوپاگل خانوں کے اندر جو لوگ ہیں وہ پاگل خانوں کے باہر کے لوگوں سے ہزار درجے شاید بہتر ہی ہوں گے۔ جیسے ’’جنگل کے قانون‘‘ کو ہم نے بدنام کر رکھا ہے۔ قانون کے حوالے سے ہماری جو حالت ہے ممکن ہے جس طرح ہم نے جنگل کے قانون کو بدنام کر رکھا ہے اس طرح جنگل میں موجود جانوروں نے ہمارے قانون کو بدنام کر رکھا ہو۔ وہ بھی ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوں ’’جنگل میں پاکستان کا قانون نہیں چلے گا‘‘۔ہم نے تو کبھی نہیں سنا جنگل کے بادشاہ شیر نے کبھی کسی بندر کو فری پلاٹ الاٹ کیا ہو یا جنگل کا کوئی ریچھ اپنے علاج کے لئے برطانیہ یا امریکہ گیا ہو۔ یا کسی چیتے نے جنگل کے خزانے سے قرض لے کر شیر سے معاف کروا لیا ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے شیر کا پیٹ جب بھر جاتا ہے تو اس کے سامنے چاہے اس کی کتنی ہی مرغوب غذائیں نہ رکھ دی جائے وہ اسے منہ لگانا تو دور کی بات ہے اس کی طرف دیکھتا تک نہیں۔ ایک ہمارے ’’شیر‘‘ ہیں ان کے پاپی پیٹ بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ اس ملک کو معاشی تباہی کے بدترین مقام پر پہنچانے والوں کو آج بھی ملک بچانے کے بجائے اپنے اقتدار میں آنے یا اقتدار کو بچانے کی فکر ہے۔ گزشتہ پچاس ساٹھ برسوں سے اس ملک کے کچھ سیاسی و اصلی حکمرانوں نے جو ’’بلنت کار‘‘ اس ملک کے ساتھ کیا کوئی اللہ کا سچا بندہ اقتدار میں یہاں آیا ہوتا ان سب کو سڑکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی دے دی ہوتی۔ اس ملک کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔ یہاں اندرونی دشمن ہی اتنے ہیں کسی بیرونی دشمن کو ان کے ہوتے ہوئے کسی سازش کی یا مداخلت کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ملک کی معاشی و اخلاقی تباہی کے ذمہ دار صرف کچھ سیاسی و اصلی حکمران ہی نہیں۔ عوام بھی ہیں جنہوں نے بدمعاش و کرپٹ حکمرانوں کو ہر بدمعاش و کرپشن پر نہ صرف خاموشی اختیار کئے رکھی بلکہ ان کا ساتھ بھی انہیں ووٹ دینے کی صورت میں دیتے رہے۔ یہاں کھربوں روپے لوٹے گئے۔ سرعام ڈکیتیاں ہوئیں۔ مجال ہے عوام کے کام پر جوں تک رینگی ہو۔
دہشت گردی ، کرپشن ، ظلم ، مہنگائی و غربت عروج پر پہنچ چکے ہیں ، بدحالی گھر گھر رقص کر رہی ہے۔ ملک کے دیوالیہ ہونے کی خبریں ہیں اور عوام ملک اور اپنی فکر کرنے کے بجائے اس ’’سیاسی بدمعاشیہ‘‘ کی فکر میں مبتلا ہیں جس نے جھوٹ ، منافقت ، کرپشن ، نااہلی ، اقربا پروری اور مذہب فروشی کی انتہا کر دی۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا ہوتا ہے عمران خان کا کیا بنے گا۔ وہ دوبارہ اقتدار میں آئے گا یا نہیں؟ جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن ملے گی یا نہیں؟۔ بلاول بھٹو زرداری اگلے الیکشن میں وزیر اعظم بنے گایا نہیں؟ فضل الرحمن صدر بنے گا یا نہیں؟۔ کسی کو یہ فکر نہیں اس ملک کا کیا بنے گا؟ اور عوام کا کیا بنے گا جن کے پاس کھانے کے لئے اب صرف مار ہی بچی ہے؟۔ گلی محلوں میں ایک کمرے میں گزارا کرنے والے و آبادی بڑھانے والے ایک ہی گھر کے دس پندرہ افراد بجلی چلی جانے کی صورت میں باہر تھڑے پر بیٹھ کے ہاتھ کے ایک پنکھے سے ایک دوسرے کو ہوا دیتے ہوئے ایک دوسرے سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں ’’ امریکہ نے عمران خان کے ساتھ بڑی زیادی کی ہے‘‘۔ بندہ پوچھے خاں صاحب نے جو زیادتیاں گزشتہ پونے چار برسوں میں آپ کے لئے کچھ نہ کر کے ، بلکہ الٹا اپنی نااہلی کی ’’مابدولت‘‘ پہلے سے زیادہ آپ کا نقصان کر کے آپ کے ساتھ کیں ، وہ آپ کو یاد نہیںآتیں؟۔ ایسی ہی بدحالی میں مبتلا دوسرا ٹبر(خاندان) یہ ڈسکس کر رہا ہوتا ہے بے چارہ نواز شریف اب وطن واپس آ سکے گا یا نہیں؟ بندہ پوچھے وہ جب یہاں تھا تب کون سے اس نے آپ کے لئے محل کھڑے کر دیئے تھے جو آپ اپنی پتلی حالت کو فکر کرنے کے بجائے اسے یاد کرتے ہیں؟۔ یہ ’’پاگل پن‘‘ نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ مختلف اقسام کی جاہلیتوں نے اس ملک کو کباڑہ کر کے رکھ دیا۔ ایک شخص اپنے جلسوں میں روزانہ سرعام جھوٹ بولتا ہے۔ آئین شکنی کرتا ہے۔ منافقت کرتا ہے۔ اداروں کو گندا کرتا ہے۔ تکبر کا بے تاج بادشاہ ہے، فنکار اس اعلیٰ درجے کا ہے کہ رنگیلا ، منور ظریف ، لہری اور جانی واکر بھی اس کے مقابلے میں صفر ہیں۔ روز ایک ہی طرح کی وہ باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے تعداد میں لوگ اسے دیکھنے اور سننے پہنچے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ایک خاتون ہے جس کے بزرگوں نے اپنے چار بارہ اقتدار میں اس ملک کو چبا چبا کر کھایا۔ حتیٰ کہ اس کی ہڈیاں تک وہ چوس گئے۔ اس کے جلسوں میں بھی لوگ ایسے پہنچے ہوتے ہیں جیسے کسی زمانے میں کوئی نئی فلم لگتی تھی اس کا پہلا شو دیکھنے لوگ پہنچ جاتے تھے۔ یہ ساری فلمیں سارے ڈرامے بار بار دیکھ کر اللہ جانے لوگ اکتاتے کیوں نہیں؟۔ ایک ڈرامہ برسوں سے سندھ میں بھی چل رہا ہے۔ اس حد تک تو خان صاحب کی بات درست ہے۔ ’’یہ قیامت کی نشانی ہے اب زرداری نیب اصلاحات کرے گا‘‘۔ ویسے ہمیں تو یہ بھی قیامت کی ایک نشانی ہی لگتی ہے خان صاحب اقتدار میں آئے اور ملک کا مزید کباڑہ کر کے اس مزید اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں جو لوگ اپنا وقت ان سیاسی مداریوں کے تماشوں یا جلسوں میں جا کر ضائع کرتے ہیں وہی وقت وہ رزق حلال کمانے پر لگائیں ، وہی وقت وہ اپنی فیملی، رشتہ داروں یا اپنے دوستوں کو دیں، یا کوئی اور اچھا کام کر لیں جس کا انہیں کوئی فائدہ بھی ہو یقین کریں غربت ، بدحالی اور بداخلاقیوں میں بہت حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے !!

تبصرے بند ہیں.