میر جعفر و میر صادق ؟

118

بظاہر غیر سیاسی سیاست دان کا تعارف رکھنے والے عمران احمد نیازی سابقہ ’’وزیراعظم‘‘ اللہ زندگی دے کہ شخصیت کے مکمل انکشافات ہونے تک زندہ رہیں، ابھی تک اپنی رہنمائی کے لیے کسی ایک مکتبہ فکر پر اپنے آپ کو قائل نہیں کر پائے تو قوم کی رہنمائی کیا فرمائیں گے۔ ملائیشیا، ترکی، چین، امریکہ، آسٹریلیا، انگلینڈ، ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ سے ہوتے ہوئے ریاست مدینہ کی خیالی سیر کرا دی۔ موصوف جنرل حمید گل کی انگلی پکڑ کر سیاست میں اور وطن عزیز کی متفقہ سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کے پاس محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خلاف اکسانے چلے گئے، انکار پر دھمکی دی جس کی ویڈیو گوگل پر موجود ہے۔ سیاست میں انصاف کے نعرے اور مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ کے ساتھ آئے۔ شیخ رشید چپڑاسی کے قابل نہیں، ایم کیو ایم نازی پارٹی ہے، پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے، پٹرول مہنگا ہو تو وزیراعظم چور ہے، ڈالر مہنگا ہو تو وزیراعظم چور ہے ایک ایک کر کے سب کے سب چور قرار پائے۔ وطن عزیز کی بطور وزیراعظم دنیا میں جہاں بھی گئے خوب بدنامی کی کہ منی لانڈرز، کرپٹ اور نہ جانے کیا کیا ہیں، صرف میں ہی ہوں جو گنگا نہایا ہوا ہوں۔ پہلے 90 دن میں جو وعدے کیے وہ پوری قوم کو یاد ہیں۔
آپ میرا پیغام لے کر جایا کریں، عمرہ اتنا ضروری نہیں جتنا ان کے جلسوں میں آنا عمران نیازی کی باتیں دھرانا بھی ایک ادنیٰ سے مسلمان کو زیب نہیں دیتا، سلیکٹڈ حکومت آئینی طریقہ سے ختم ہوئی تو شدت جذبات میں اپنے اعضا کھانے لگے۔ کچھ گریس دکھاؤ مگر نہیں، بس! لوگوں پر حملے کرو، ان کو گھروں سے نہ نکلنے دو، ان کے بچوں کے رشتے نہیں ہوں گے اور پرویز الٰہی ہاتھ پاؤں اٹھا اٹھا کر بددعائیں۔۔۔ کیا ہو گیا یار! تم کون سے غیر آئینی طریقے سے جا رہے ہو مگر عمران نیازی نے جو اپنے جنونیوں کو تربیت دی۔ اس میں آئین، قانون، اخلاقیات، قانون کی حکمرانی، رواداری، وضع داری، انسانیت کا شائبہ تک نہیں۔ زبان ایسی ایجاد کی کہ سیکھنے کی تہذیب اجازت نہیں دیتی۔ تحریک عدم اعتماد پر بھرپور جوڑ توڑ کیا ہارنے لگے تو جیب سے خط نکال لیا جس میں ان کے خلاف سازش تھی حالانکہ موصوف جب سے سیاست میں آئے ہیں سازش ہی کی ہے۔ ٹرمپ کو کہہ دیا بھارت سے ثالثی کرا دیں، ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے پہلے حکمران ہماری بات نہیں مانتے تھے سابقہ
وزیراعظم نے کہا کہ میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں ٹرمپ حصول زندگی بن گیا۔ پیوٹن سے برابری کی سطح پر عصر حاضر میں بھی با معنی ملاقات پالیسی سازی کے لیے صدر زرداری نے کی پھر میاں نوازشریف نے کی۔ چائنہ کے ساتھ صدر زرداری کے معاہدات کو میاں نوازشریف نے آگے بڑھایا۔ جو امریکہ کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ بندہ پوچھے نیازی صاحب آپ نے کیا کیا؟ صرف فرح گوگی کا دفاع۔ ذلفی بخاری کا علم نہیں کیا کرتا ہے، اور فرح گوگی کا پتہ ہے کہ وہ 20 سال سے پراپرٹی کے دھندے میں ہے۔ عصر حاضر کے سیاسی ’’مفتی‘‘ نے جب دیکھا کہ سیاسی، آئینی، سماجی طور پر شکست فاش ہو چکی۔ عدم اعتماد کی دعا قبول ہو چکی۔ چوری اور کرپشن کے تمام کھرے بنی گالہ کی طرف نکلنے لگے۔ مخالفین کو ٹرمپ سے ملاقات، مودی کی جیت اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد مہنگائی، بے روزگاری، پونے چار سالہ کارکردگی کا حساب دینے کے بجائے صرف پیوٹن سے اس دن ملاقات کر کے جس دن وہ یوکرین کی آزاد خارجہ پالیسی روکنے کے لیے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور ہوا کو بنیاد بنا کر جعلی بیانیہ جیسا کہ جھوٹ بول کر جب سچ سامنے آتا ہے تو موضوع بنتا ہے اس طرح نیازی صاحب خبروں میں رہنے کا فن جانتے ہیں مخالفین کو میر جعفر اور میر صادق کہنا شروع کر دیا۔ اب ذرا آئیے ان کے محبوب کرداروں کی طرف، سید میر جعفر علی نجفی خان بہادر نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کے ماتحت بنگالی فوج کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں، لیکن پلاسی کی جنگ کے دوران اس کے ساتھ دھوکہ کیا اور 1757 میں برطانوی فتح کے بعد دولہ کا جانشین بنا۔ میر جعفر کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے فوجی مدد حاصل رہی۔ 1760 جب وہ برطانوی مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ 1758 میں، رابرٹ کلائیو نے دریافت کیا کہ میر  جعفر نجفی  نے اپنے ایجنٹ خواجہ واجد کے ذریعے چنسورہ میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ دریائے ہوگلی میں اس لائن کے ڈچ جہاز بھی نظر آئے۔ جعفر کا انگریزوں کے ساتھ تنازع آخرکار چنسورہ کی جنگ پر منتج ہوا۔ برطانوی کمپنی کے اہلکار ہنری وینسیٹارٹ نے تجویز پیش کی کہ چونکہ جعفر مشکلات سے نمٹنے کے قابل نہیں تھا، میر قاسم ، جعفر کے داماد کو نائب صوبیدار کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ کمپنی نے اسے قاسم کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کیا۔ تاہم، ایسٹ انڈیا کمپنی نے بالآخر تجارتی پالیسیوں پر تنازعات کی وجہ سے قاسم کو بھی سے 1763 میں میں معزول کر دیا۔ جعفر کو کمپنی کے تعاون نواب کے طور پر بحال کیا گیا۔ تاہم میر قاسم نے یہ ماننے سے انکار کر دیا اور کمپنی کے خلاف جنگ نکل گئے۔ جعفر نے 5 فروری 1765 کو اپنی موت تک حکومت کی اور مرشد آباد، مغربی بنگال کے جعفر گنج قبرستان میں دفن ہوئے۔ میر جعفر ہندوستانی اور بنگالی تاریخ دونوں میں ایک متنازع شخصیت رہے ہیں اور ہندوستانیوں، پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کے درمیان گہرے دغا بازی اور غداری کی علامت بن چکے ہیں۔میر صادق میسور کے ٹیپو سلطان کی کابینہ میں وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ 1798-99 میں چوتھی اینگلو میسور جنگ میں، اس نے مبینہ طور پر ٹیپو سلطان کو سری رنگا پٹانہ کے محاصرے کے دوران دھوکہ دیا، جس سے برطانوی فتح کی راہ ہموار ہوئی۔ اس نے ٹیپو کو دھوکہ دیا، ٹیپو کے وفادار غازی خان کو قتل کیا اور بعد میں ٹیپو کو بند دروازوں کے پیچھے پھنسانے کا بندوبست کیا۔ صادق کو شکست کے فوراً بعد مایوس میسور کے کچھ فوجیوں نے مار ڈالا جب اس نے  انگریزوں کا استقبال کرنے کی کوشش کی۔
اب ذرا پوچھ لیتے ہیں تاریخ سے ماجد خان کرکٹر کا میر جعفر اور میر صادق کون تھا، جنرل باجوہ کو تاریخ کا بہترین جرنیل قرار دینے والے عمران خان سے پوچھتے ہیں کہ جنرل باجوہ کا میر جعفر اور صادق کون ہے۔ شوکت خانم کے لیے جگہ اور خطیر رقم دینے والے نوازشریف کا میر جعفر اور میر صادق کون ہے۔بنی گالہ کی سڑک بنوانے والے نوازشریف کا میر جعفر اور میر صادق کون ہے۔ جناب علیم خان، جہانگیر ترین کا میر جعفر اور میر صادق کون ہے، نیوٹرل کا میر جعفر اور میر صادق کون ہے۔ (یاد رہے کہ عدلیہ، سپیکر اسمبلی، بیورو کریسی، گورنرز، صدر پاکستان، ٹیکس محتسب، وفاقی محتسب تمام سٹیک ہولڈرز آئینی طور پر نیوٹرل ہوتے ہیں اور یہی آئین کی منشا ہے)۔ پاکستان کے عوام، بیرون ملک پاکستانیوں، اپنی جماعت، اپنے ملک و قوم کے ساتھ کیے گئے وعدے کہہ مکرنیاں اور سبز باغ دکھا کر زندگی تو زندگی، موت کو مہنگا کر دینے والا میر جعفر اور میر صادق کون ہے؟ یزید کے بعد 3 سال 7 ماہ 22 دن اقتدار کا دورانیہ کس کے نصیب میں آیا۔ سابق وزیراعظم سے جس نے وفا کی ، اس نے بدلے میں جفا کی، وہ خواجہ جمشید امام بٹ ہو یا کوئی اور ؟

تبصرے بند ہیں.