وزیراعظم کون؟

34

حکومت ابھی مکمل طور پر اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوئی اور تحریک انصاف بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مارچ کی کال دے دی ہے اور جلسے کیے جا رہے ہیں. یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پی ٹی آئی پاور شو کر کے ماضی کی طرح اقتدار میں آنا چاہتی ہے لیکن اب کی بار یہ پاور شو اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ فوری ملک میں انتخابات کروائے جائیں۔ عمران خان شہباز شریف کو میر جعفر کہتے ہیں جسے امریکہ نے تعینات کیا ہے۔ خیر میر جعفر والا ٹیگ حکومت کی جانب سے تنقید کئے جانے کے بعد شہباز شریف سے منسوب کردیا تھا۔ فواد چوہدری نے اپنے لیڈر کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ اگر چور ڈاکو ملک پر حملہ کردیں، تو چوکیدار نیوٹرل نہیں رہ سکتا۔ اور عمران خان نے یہ سوال بھی اوپن اینڈ چھوڑ دیا کہ آخرت میں اللہ کو کیا جواب دیں گے سوال پوچھا گیا آپ امپورٹڈ حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے تھے؟
بظاہر حکومت اس وقت تک اپوزیشن کا دباؤ لے رہی ہے جو کہ عیاں ہے۔ مثبت معاشی فیصلے کرنے سے حکومت اس وقت قاصر ہے۔ معیشت کی کشتی ڈاواں ڈول ہے اور الیکشن کس وقت کرانے ہیں اس کا فیصلہ بھی نہیں کیا جا رہا۔عمران خان کے دباؤ کی وجہ سے حکومت بڑے فیصلے لینے سے ہچکچا رہی ہے اور پوری کی پوری کابینہ اسی سلسلے میں نواز شریف کے پاس سیاسی مشورے کے لیے رجوع کرتی ہے۔ اس معاملے کو اگر باریکی سے دیکھا جائے تو حقیقت میں نقصان پاکستان کا ہو رہا ہے، شہباز شریف جوابدہ ہیں کہ اگر ان میں مشکل اور سیاسی طور پر غیر مقبول فیصلے کرنے کی ہمت نہیں ہے اور بطور سیاسی لیڈر عوام پر مشکل فیصلوں کو اعتماد میں لینے کی صلاحیت نہیں ہے تو انہوں نے وزارت عظمیٰ کا حلف کیوں اٹھایا۔ ملک میں بے یقینی کی صورت حال ہے، مارکیٹس کا ملک پر اعتماد ختم ہو رہا ہے، ڈالر کی پرواز جاری ہے، اسٹاک مارکیٹ میں ساڑھے چھ سو پوائنٹس کی کمی ہوئی ہنڈریڈ انڈیکس 43 ہزار کی سطح سے بھی نیچے آگیا، اپرل میں مہنگائی 13 فیصد سے اوپر رہی اور  بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے سٹیٹ بینک نے شرح سود سوا بارہ فیصد کر دی تھی مگر اب موجودہ حکومت کو کمرشل بینک سے 15 فیصد کی مہنگی شرح پر قرضہ لینا پڑ رہا ہے یعنی سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوگا اور بجٹ خسارہ بھی بڑھے گا۔ پچھلی حکومت کے کیے گئے سبسڈی کے وعدوں کو پورا کرنے کی اہلیت موجودہ حکومت میں نہیں ہے اور رواں مالی سال میں ریکارڈ خسارہ ہونے جا رہا ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل واشنگٹن نے میں آئی ایم ایف سے پٹرول بجلی اور ڈیزل پر ان فنڈڈ سبسیڈیز واپس لینے کا وعدہ کیا۔
جسکے بعد آئی ایم ایف نے پریس رلیز میں اس بات کی تصدیق کردی۔یعنی مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کرکے آئے کہ عمران خان کی حکومت نے جو بھی سبسڈیز کے وعدے کیے تھے (پٹرولیم کی قیمتوں میں 3 ماہ کی کمی کا اعلان کیا تھا) اسے واپس لیا جائے گا اور  قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اوگرا کی سمری مسترد کردی. وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف پروگرام میں دو ارب ڈالر اضافے کی درخواست کی مگر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے میڈیا پر آکر اس کی مخالفت کردی اور مطالبہ کر دیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نیا مطالبہ کیا جائے کیونکہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے انتہائی سخت شرائط پر معاہدہ کیا تھا اور اسحاق ڈار نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری مسترد کردی۔ با اختیار وزیر خزانہ اس وقت اس ایک ماہ کی حکومت میں بے اختیار نظر آتے ہیں۔ ایک ملک، دو ممالک، دو وزیراعظم، دو وزرائے خزانہ مل کر ایک ملک چلا رہے ہیں۔
افواج پاکستان اس ملک کے دفاع کے لیے ہمہ تن موجود ہیں اور کسی عالمی سازش کو پاکستان پر غالب آنے نہیں دیں گے ان کو ملکی سیاست میں مداخلت کیلئے اکسانا جمہوریت کا قلعہ قمع کرنے کے مترادف ہے۔ جہاں تک بات ہے موجودہ حکومت کی تو ہوش کے ناخن لینا بہت ضروری ہے کیونکہ وزیراعظم کا عہدہ بہت کلیدی ہے جس کے لیے شہباز شریف کو خود ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا یعنی خود پر اپنے بھائی سے زیادہ یقین کرنا ہوگا۔ مشہور کہاوت ہے کہ جس شخص میں فیصلہ سازی کی طاقت نہیں ہوتی وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.