سیاست میں اخلاقیات

21

اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ہماری نئی حکومت کے کن کن اراکین پر مقدمات ہیں، اکثر وزراء اور خود وزیرِ اعظم مختلف عدالتوں سے ضمانتوں پر ہیں۔ گزشتہ روز وزیرِ اعظم پر فردِ جرم عائد ہونا تھی کہ انہوں نے عدالت میں ایک خط پیش کر دیا چونکہ اللہ کی مہربانی سے وہ ملک کے وزیرِ اعظم ہیں اس لئے وہ آج ملکی بہبود کے بہت سے کاموں میں مصروف ہیں اس لئے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے ہیں۔ان کی وزارتِ عظمیٰ سے قطع نظر قانون کی نظر میں وہ ایک مقدمے میں ملزم ہیں جس کے لئے عدالت نے ان پر فردِ جرم عائد کرنی ہے۔ میاں شہباز شریف کے لئے عزت دارانہ طریقہ یہ تھا وہ اس وقت تک وزارتِ عظمیٰ پر نہ فائز ہوتے جب تک ان پر سے مقدمات ختم نہ ہو جاتے لیکن ہمارے وڈیرہ شاہی ماحول میں سیاست کا اصول اخلاقی قیود کی پروا نہیں کرتا ہے۔  ہمارے ملک میں جو سیاسی کلچر موجود ہے، اس کا خمیر وڈیرہ شاہی پر اٹھا ہوا ہے جہاں سیاسی رہنما وڈیرہ ہوتا ہے اور سیاسی کارکن ہاری خواہ وہ ملک کے اندر رہ رہا ہو یا ملک کے باہر۔ میں ذاتی طور پر کسی سیاسی رہنما کا حامی ہوں نہ مخالف میری حمایت اور مخالفت ہمیشہ اصولوں پر قائم رہی ہے جو سیاسی رہنما اپنی ذاتی اور سیاسی زندگی میں عوام دوست اور پاک صاف رہا ہے، وہ میرے لئے ہمیشہ قابلِ احترام رہا ہے اور جو سیاستدان اپنے سیاسی کردار میں عوام دشمن اور کرپٹ رہا ہو، میں اس کے مخالف رہا ہوں۔
عوام کی اکثریت بھی اس ساری صورتحال پر
سخت برہمی کا اظہار کر رہی ہے اور سمجھ رہی ہے کہ این آر او 2 کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسی طرح ماضی میں بھی جب این آر او 1 دیا گیا تھا تو اسے قانونی برادری اور سیاسی و عوامی حلقوں نے "کرپشن لانڈرنگ” کا قانون قرار دیا تھا جسے مشرف نے مغرب کی مدد سے ہونے والی سودے بازی کے بعد خود کو اقتدار میں رکھنے اور پیپلز پارٹی کی اقتدار میں واپسی کی یقین دہانی کے لئے وضع کیا تھا۔ بد عنوانیوں، اقربا پروری اور اس کے بین بین اس طرزِ عمل نے کہ ہمارے حکمران جو تبلیغ کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے سیاستدانوں کی اکثریت کو پستی کی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔  اکثریت کی رائے میں وزیرِ اعظم کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی خواہش کے مطابق اسمبلیاں توڑ کر قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیں اور عوام سے تازہ مینڈیٹ لے کر اپنی سیاسی ساکھ کا ثبوت فراہم کر دیں کہ وہ حکومت کرنے کاحق رکھتے ہیں۔ اس صورت میں ان کا سیاسی قد مزید بلند ہو جائے گا۔لیکن اگر میاں شہباز شریف اس آپشن کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی باقی کی آئینی مدت پوری کرنے پر مصر رہیں گے تو اپنے لئے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کریں گے ۔
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاست دان ہی جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیتے ہیں۔ اسی لئے دوسرے اداروں سے قطع نظر موجودہ ماحول میں ہماری تکلیفوں کے لئے سیاست دانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا سیاسی طور پر درست ہے۔ سیاست دانوں نے اچھی حکمرانی کے بجائے انتہائی خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو بگاڑا۔ ہم جس مرض میں مبتلا ہیں اس کے لئے صرف ان کو ذمہ دار نہ ٹھہرانا اتنا آسان نہیں۔ ماضی میں میاں شہباز شریف دو بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ رہے تھے تو اکثر وہ مرحوم حبیب جالب کے اشعار موقع بہ موقع پڑھتے رہتے تھے۔ شائد اس طرح انقلابی شعر پڑھنا ان کے لئے تو باعثِ تسکین ہوتا رہا ہو گا لیکن اس سے وہ اس قبیلے کے دیگر لوگوں سے مختلف نہیں ہو جاتے۔ جب کہ آپ اور آپ کے خاندان پر منی لانڈرنگ سمیت دیگر سنگین الزامات بھی ہوں۔
انسان سوچتا ہے کہ اس طرح کا اقتدار کس کام کا ہے، آپ نے ہر ایک پر حکم چلا دیا، ہر ایک کو سر جھکا کر چلنے پر مجبور کر دیا تو اس سے آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟ بس یہی کہ ملک میں صرف آپ کا حکم چلتا ہے آپ یہ نہیں سوچتے کے اوروں کے ساتھ آپ خود بھی رسوا ہو رہے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے کہ لوگوں پر کیا بیت رہی ہے اور آپ کے دل میں کبھی یہ خیال تک نہیں گزرا کہ آپ خدا کی طرف سے عطا کئے گئے اقتدار کو عوام کی فلاح کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اقتدار کا راز طاقت اور جبر میں نہیں احساسِ ذمہ داری میں پوشیدہ ہے اگر آپ اس احساس سے عاری ہیں تو آپ کا اقتدار ایک چھلاوہ ہے۔ آپ لوگوں کو نہیں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ آپ اپنے ماضی کے دورِ اقتدار کو اور پیش رو حکمرانوں کو یاد کیجئے کس طرح بے آبرو ہو کر نکلے۔ آپ کا خاندان ایک بار پھر اقتدار آزما ہے اسے پھر ماضی جیسے الزامات کا سامنا ہے لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ریلا بھی گزر جائے گا۔ لیکن ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ کیا طاقت ور اور با اثر کا کبھی احتساب ہو گا؟بدیہی مفروضہ یہاں یہ ہے کہ سیاست میں اخلاقیات کی نہایت معمولی گنجائش ہے۔

تبصرے بند ہیں.