نیا آئینی بحران: صدر عارف علوی نے شہباز شریف حکومت کو بڑا جھٹکا دے دیا 

180

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر پنجاب کو ہٹانے  کی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی ۔کہاگورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا،اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں۔

 

صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ  آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق "گورنر صدر مملکت کی رضا مندی تک عہدے پر قائم رہے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ  موجودہ گورنر پر نہ تو بدانتظامی کا کوئی الزام ہے اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے سزا ہوئی،  گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا۔ ہٹایا نہیں جا سکتا، ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے صدر مملکت کا فرض ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے۔

 

صدر مملکت نے کہا کہ  گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ اور وفاداریوں کی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ ارسال کی تھی، مجھے یقین ہے کہ گورنر کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا، ضروری ہے کہ موجودہ گورنر ایک صحت مند اور صاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی اور فروغ کے لیے عہدے پر قائم رہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ  آئین کا آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں، گورنر پنجاب کو ہٹانے کے وزیر اعظم کی ایڈوائس کومسترد کرتا ہوں۔

 

تبصرے بند ہیں.