سی پیک چیلنجز اور وزیراعظم کی ترجیحات

17

چینی وزارت خارجہ نے سی پیک کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ شہباز شریف نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سی پیک منصوبوں پر تیزی لانے کا اعلان اور سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنانے کی درخواست بھی کی تھی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چین پاکستان میں 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جسکے تحت پاکستان میں سڑکوں، بجلی گھروں، ریلوے لائن، صنعتی زونز کی تعمیر، زراعت اور پانی کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔سی پیک بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک بہت اہم حصہ ہے جسکی بنیاد سنہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) دور میں رکھی گئی۔ ون پلس فورکیاس منصوبے میں ون سی پیک کو کہا جاتا ہے اور چار اسکے تحت منصوبے ہیں جن میں گوادر بندرگاہ، توانائی اور مواصلاتی نظام اور صنعتی زونز کو بہتر بنانا شامل ہیں۔18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سی پیک کے منصوبوں سے متعلق اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو منظوری کیلئے بھیجیں۔
سی پیک پرعمران خان دورحکومت میں دونوں ممالک کی رفتار محتاط ہوگئی اور گرمجوشی نہیں رہی۔ سی پیک کوگیم چینجر سمجھا گیالیکن اب سی پیک کو بہت سیاسی بنا دیا گیاجس سے منصوبوں میں تاخیر باعث تشویش ہے۔ سی پیک منصوبے ترقی کیلئے بہت اچھے ہیں لیکن ان سے قرض میں مزید اضافہ بھی ہوا ہے۔ سڑکوں اور ہائی ویزبنانے پر قرض شرح نہیں بڑھتی جسکے وجہ سے ان منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جا رہا ہے۔تھر کوئلے کے منصوبہ جس رفتار سے پہلے چل رہے تھے اب بھی ویسے ہی چل رہے ہیں۔ البتہ توانائی کے شعبے میں قرض کی شرح محدود کرنے کیلئے ان منصوبوں کو روکا یا اس رفتار کے ساتھ عمل نہیں کیاجارہاہے۔ سی پیک کے منصوبوں میں ایک رکاوٹ آئی ایم ایف شرائط بھی ہیں، جسکے تحت پچھلی حکومت نے فنڈ حاصل کرنے کیلئے سی پیک سے متعلق فنانس بْک اور منصوبوں کی شرائط کا آئی ایم ایف سے تبادلہ کیا۔ پاکستان پر چین کا قرض آئی ایم ایف سے تین گنا زیادہ ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی پچھلی حکومت سی پیک اور اس سے منسلک منصوبوں کو تشویش سے دیکھتی تھی اورتاثر تھا کہ پاکستان کا رجحان چین کی طرف بہت زیادہ ہے جسے بیلنس کرنے کی ضرورت ہے۔اس جھکاؤ کو بیلنس کرنے کیلئے سعودی عرب سے 3بلین ڈالر قرض لیا گیا، تاہم پاکستان کو جلد احساس ہو گیا کہ چین ترقیاتی منصوبوں کیلئے سیاسی شرط نہیں رکھتااورترقیاتی منصوبوں کیلئے چین اور مالیاتی فنڈ کیلئے آئی ایم ایف بہتر ہیں۔ سی پیک منصوبوں میں رکاوٹ یا سست رفتاری کی ایک وجہ چینی کمپنیوں اور کمرشل بینکوں کی طرف سے مطالبہ ہے کہ لین دین میں انشورنس بھی چین کے بینکوں سے لینی پڑے گی، جس سے نتیجتاً پاکستان پر دباؤ بڑھا ہے۔
اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں کمی جبکہ امریکہ سے پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی سرمایہ کاری میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں جاری انفراسٹرکچر اور توانائی کے بہت سارے منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ جو منصوبے زیر تکمیل بھی ہیں انکی مد میں سرمایہ کاری پہلے ہی موصول ہو چکی ہے۔ جبکہ دوسری جانب مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے دور حکومت میں سی پیک کے تحت کسی بڑے منصوبے کا آغاز نہیں کیا گیا۔ اگرچہ کورونا وائرس کے اثرات نے بھی چینی سرمایہ کاری کو متاثر کیا تاہم ان اثرات کے زائل ہونے کے بعد بھی یہ سرمایہ کاری دوبارہ اپنی بلند سطح پر نہیں پہنچ سکی۔ بیرونی سطح پر پاکستان کے چار اقتصادی ستون چین، امریکا، یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ ہیں،ہمیں ان سب سے بگاڑ کی بجائے مضبوط تعلقات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔نوازحکومت نے طویل المدتی ترقی کا منصوبہ وژن 2025 بنایاتھا، اس منصوبے کے 7 پلرز تھے، ساتواں پلر علاقائی روابط ہے۔پاکستان محل وقوع کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے، پاکستان 3 ارب کی آبادی کیلئے رابطے اور پْل کا کام کر سکتاہے۔ ہمیں جیو پولیٹکس سے جیو اکانومی کی طرف بڑھنا ہوگا۔اگر پاکستان کو چین کی معیشت کے ساتھ جوڑ لیں تو اس سے پاکستان کو ترقی کا محرک ملے گا۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کا فریم ورک 2014 سے2030 تک تھا، جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، پہلا حصہ 2014ء سے 2020ء تک کا تھا جس کا فوکس انفراسٹرکچر تھا، پہلے مرحلے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ گوادر پورٹ کو ترقی دی جائے گی۔سڑکوں اور ریل کے ذریعے رابطوں کے موجودہ روٹس میں موجود مسنگ لنکس کو پورا کیاجائے گا تاکہ چین اور پاکستان کے درمیان رابطہ قائم ہو سکے اور اسکے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبہ کو ترقی دے کر پاکستان کو اس شعبہ میں خودکفیل کیا جائے۔ 2020ء سے 2025ء تک کا فیز صنعتی تعاون کا تھا، انفراسٹرکچر بنانے کے بعد اس پر صنعتی پیداوار کے منصوبے لگانے تھے۔ 9 اکنامک زونز کی نشاندہی کی تھی اور یہ تمام اکنامک زونز صوبوں کے اندر تھے۔ اس سے تقریباً 30 سے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ان اکنامک زونز میں آئیگی۔ تاخیر کی وجہ سے اب پہلا زون 2024ء میں تیار ہوگا، دوسرا زون 2025ء میں تیار ہو گا، تیسرا 2027ء میں جبکہ 5 اکنامک زونز پر ابھی تک کام ہی نہیں شروع ہوا۔ 2018ء سے 2020ء تک ان اکنامک زونز کا انفراسٹرکچر تیار کیا جانا تھا جس میں پی ٹی آئی کی حکومت مکمل طور پر ناکام رہی اور تیار نہیں کر سکی۔ ایم ایل ون ریلوے کا ایک بہت ہی اہم پراجیکٹ تھا، مگر تاحال ایم ایل ون منصوبہ وہیں ہے جہاں 2018ء میں تھا۔ نواز حکومت دور میں سی پیک منصوبوں پر 75 ہزار چینی کام کر رہے تھے لیکن گوادر، گلگت،کوئٹہ، کراچی اور داسو میں چینی شہریوں پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات بھی سرمایہ کاری میں کمی کا سبب بنے۔
چین نے ون بیلٹ ون روڈ انیشی ایٹو ایک عالمگیر تصور پیش کیا، جسکا مقصد نئی منڈیاں پیدا کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف ترجیح بنیادوں پرخود جے سی سی کی میٹنگز تواتر سے بروقت کرائیں اور اپنی رفتار سرخ فیتے سے بچاکر چین کی رفتار کے مطابق بنائیں۔ نئی منڈیاں راہداریوں اور رابطوں کے ذریعے پیدا کی جا سکتی ہیں۔ وزیراعظم بلوچستان میں ترقی کا عمل تیز کراکربلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ کریں اور نوجوانوں کیلئے ترقیاتی سکیمز لائیں، جس سے معاشی گروتھ کے مواقع میسرآئیں گے۔ خصوصی طور پرتمام سکیورٹی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کے میکنزم کو زیادہ مربوط کیا جائے اورچین کو سی پیک پر پیشرفت سے آگاہ رکھا جائے۔ان شاء اللہ اگر دانشمندی سے چین سے معیشت جوڑ لیں تو پاکستان کو ترقی کا محرک ملے گا۔

تبصرے بند ہیں.