انتخابات 2023ء اور الیکشن کمیشن!

20

وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی اورجمہوری عمل کا تسلسل ہی ملکی ترقی کا راز ہے، باہمی تعاون سے جلد ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پالیا جائیگاجبکہ آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات 2023ء کے آخر میں موجودہ پارلیمنٹ کے معیاد مکمل ہونے پرہوگی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یکم اگست سے ملک بھر میں ساتویں مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسکی وجہ سے ملک بھر میں عام انتخابات کا انعقاد التواء میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ادارہ شماریات نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا،مشترکہ مفادات کونسل نے بھی منظوری دے رکھی ہے۔ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی اور نئے وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کے بعد عام انتخابات کی باز گشت جاری ہے جسکی بڑی وجہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور انکی جماعت تحریک انصاف کا یہ مطالبہ ہے کہ فوری طور پر الیکشن کروائے جائیں،جبکہ مسلم لیگ ن کاموقف ہے کہ اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ 11 اپریل کو جب ایک طرف نئے وزیر اعظم شہباز شریف منتخب ہو چکے تھے تو تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہم فوری انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے عوام کو فیصلے کا موقع دیا جائے کہ وہ کسے اپنا وزیراعظم منتخب کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف چیئرمین اسمبلی سے مستعفی ہونے کے بعد عوامی اجتماعات کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔اگر کسی صورت عام انتخابات کروانے کا فیصلہ ہو بھی جائے تو الیکشن کمیشن کتنی جلدی الیکشن کروا پائے گا کیونکہ حال ہی میں پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کم از کم سات ماہ سے قبل نہیں ہو سکتے کیوں کہ صرف انتخابی حد بندیوں کیلئے اضافی چار ماہ درکار ہیں۔الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ جب تک نئی حلقہ بندیاں نہ ہوں، انتخابات صاف اور شفاف نہیں ہو سکتے۔
حال ہی میں صدرِ پاکستان عارف علوی کی طرف سے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں صدر نے کمیشن سے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کیلئے تاریخ تجویز کرنے کو کہا تھا۔ صدر کی طرف سے یہ خط قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے چند روز بعد لکھا گیاتھا۔ تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جوابی خط کے ذریعے صدر کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت صاف اور شفاف انتخابات کروانے کیلئے اکتوبر تک کا وقت چاہیے۔ سات ماہ کا وقت مانگنے کی بڑی وجہ الیکشن کمیشن نے یہ بتائی ہے کہ اسے آبادی کے نئے تخمینے کے حساب سے نئے انتخابی حلقوں کیلئے حلقہ بندیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین اور الیکشن کے قوانین کے مطابق نئے حلقے کی حد بندی الیکشن کروانے کیلئے بنیادی قدم ہے۔ صدارتی ریفرنس کے ذریعے الیکشن کمیشن کو پرانی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ایمرجنسی انتخابات کروانے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم قومی اسمبلی کی نشستوں میں کمی کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت اور انتخابات کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا معاملہ بھی جلدانتخابات منعقد کرانے کی راہ میں حائل ہے۔ ان تمام قانونی، آئینی اور تکنیکی مسائل کے باوجود الیکشن کمیشن کے پاس کوئی ایسا راستہ ہے کہ وہ 90 دن میں الیکشن کروا پائے؟ آئین کے آرٹیکل 51(5) اور الیکشن قوانین 2017 کے سیکشن 17 کے مطابق نئی حلقہ بندیاں آبادی کی اس آخری مردم شماری کی بنیاد پر کی جاتی ہیں جو سرکاری طور پر شائع کی جا چکی ہو۔ 2017 میں ہونے والی چھٹی مردم شماری کے عبوری نتائج جنوری 2018 میں شائع کیے گئے تھے۔ ان عبوری نتائج کے مطابق الیکشن کمیشن نے اْس سال ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات کیلیے حلقہ بندیاں کی تھیں لیکن یہ ایک وقت کیلئے دی گئی رعایت تھی جو آئین کے آرٹیکل 51(5) میں ترمیم کے ذریعے ملی تھی۔
صدارتی ریفرنس کے ذریعے پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن ممکن ہے۔تاہم اگر انتخابات کروانا پڑ جائیں تو اسکے لیے ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اگر صدر ایک آرڈیننس جاری کر دیں کہ انتخابات سنہ 2018 کے انتخابات والی پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق کروا لیے جائیں تو قانونی طور پر الیکشن کمیشن کو اختیار مل جائے گا اور وہ الیکشن کروا سکتے ہیں۔ ایک اور آئینی مسئلہ سابقہ فاٹا یعنی قبائلی علاقوں کا 25ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں چھ نشستیں کم ہو گئی ہیں یعنی قومی اسمبلی کی کل نشستیں 272 سے کم ہو کر 266 رہ گئی ہیں، جس وجہ سے خیبرپختونخوا میں نئی حلقہ بندیاں کرنے کی ضرورت تھی تاہم یہ حلقہ بندیاں اسلیے نہیں کی جا سکیں کیونکہ ادارہ شماریات نے مردم شماری کے سرکاری نتائج شائع نہیں کیے تھے۔نئے انتخابات کیلئے الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں ای وی ایم کے استعمال کے حوالے سے ابہام بھی تاحال موجود ہے۔سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے پارلیمان کے ذریعے الیکشن قوانین 2017 میں ترامیم کے ذریعے ای وی ایم اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا قانون منظور کروا لیا تھا۔ تاہم اس قانون سازی میں اپوزیشن کی جماعتیں شریک نہیں ہوئی تھیں۔تب پی ٹی آئی کی قیادت اس بات کی طرف اشارہ کر چکی تھی کہ آئندہ انتخابات ای وی ایم کے ذریعے ہوں گے۔ تاہم الیکشن کمیشن کیلئے اس موقع پر ای وی ایم پر الیکشن کروانا ممکن نہیں ہو گا۔ایمرجنسی صورتحال میں الیکشن کروانے میں الیکشن کمیشن کیلئے ممکن نہیں ہو گا کہ وہ اتنی جلدی ای وی ایم پر انتخابات کروا سکے۔ اسکے لیے لاکھوں میں مشینیں خریدنا ہوں گی،اور لاکھوں کے عملے کو ٹریننگ دینا ہو گی اور پھر نتائج کو مرتب کرنے کا طریق کار بنانا ہو گا۔ اس تمام عمل کیلیے وقت درکار ہو گا جو کہ تین مہینے میں مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ اسطرح بیرونِ ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو ووٹنگ کا حق دیناالیکشن کمیشن کیلئے ممکن نہیں ہو گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں پہلے ہی ان دو معاملات پر خاص طور پر اعتراضات کر چکی ہیں اور نئے انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات چاہتی ہیں۔
انتخابات کروانے کی ذمہ داری صرف الیکشن کمیشن کی نہیں ہے اور اس کیلئے وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ملنے والی آرا و سپورٹ پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے صرف کمیشن کو کسی تاخیر کا واحد ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئین اور الیکشن کے قوانین کے مطابق نئے حلقے کی حد بندی الیکشن کروانے کیلئے بنیادی قدم ہے۔ صدارتی ریفرنس کے ذریعے الیکشن کمیشن کو پرانی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ایمرجنسی انتخابات کروانے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ اصل میں ہم اپنی خامیوں پر نظر ڈالنا ہی نہیں چاہتے ورنہ مسئلہ کسی نظام کا نہیں بلکہ اسکے حل اورہمارے رویوں کا ہے۔ ہم میرٹ کو نہیں مانتے، آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری پر یقین نہیں رکھتے، ہم اداروں کو بنانے اور اْنہیں مضبوط کرنے کے قائل نہیں ۔قوانین، قاعدوں اور پالیسیوں کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا ہمارا عمل بن چکا۔درحقیقت مسئلہ کاحل اور کامیابی کا تعلق کسی ایک نظام سے نہیں بلکہ بہترین طرزِ حکمرانی سے ہوتاہے۔

تبصرے بند ہیں.