فتنہ اور فسادی!

75

عمران خان جب سے اپنے عہدے سے ہٹے ہیں ان کے دماغی توازن میں مزید بگاڑ پیدا ہو گیا ہے ۔ اول فول تو پہلے ہی خیر سے وہ بہت بکتے تھے۔ پر جس طرح کی بھٹکی ہوئی غیر متوازن گفتگو وہ اب فرماتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہوں گا پاکستان کو نقصان پہنچانے والی گفتگو وہ اپنا اقتدار ختم ہونے کے بعد کر رہے ہیں میں ایک بار پھر صاحبان اختیار کو یہ تجویز دوں گا ان کے دماغی علاج کا کوئی بندوبست جلد از جلد فرما دیا جائے کہیں یہ نہ ہو مستقبل قریب میں وہ سڑکوں پر اینٹیں اٹھا کر ہمارے پیچھے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھائی دیں۔ عمل کو تو خیر چھوڑ ہی دیں، صرف اپنی باتوں سے ہی وہ اس ملک کو نقصان کے اس مقام پر لے گئے جہاں تلافی اب ممکن ہی نہیں رہی۔ جس طرح کی وہ باتیں بطور وزیر اعظم کیا کرتے تھے۔ خدا کی قسم وہ صرف اپنی زبان ہی قابو پا لیتا۔ یعنی اس کے علاوہ وہ کوئی اور کام نہ کرتے یہ ملک ترقی کی اگلی منزل کی جانب رواں دواں ہو گیا تھا۔ یہ شخص تو 2028ء تک کے اقتدار کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مگریہ اس کا ویسا ہی خواب نکلا جیسا خواب 2018ء سے پہلے تبدیلی کا اس نے عوام کو دیکھایا تھا۔ تبدیلی یہ آئی کہ تباہی بڑھ گئی۔ سابقہ چوروں اور ڈاکوئوں کے گزشتہ ادوار اقتدار میں جو تباہی ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ظاہر ہے ملک صرف پچھلے تین چار برسوں میں اس بدترین مقام پر تو نہیں پہنچ گیا جہاں اہل علم اب اس ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں کر رہے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے پچھلے تین چار برسوں میں جو تباہی ’’نااہلی‘‘ نے مچائی وہ کرپشن کی تباہی سے آگے کی تھی۔ کرپشن کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ نااہلی کرپشن کی ایسی قسم ہے جس کا ازالہ مشکل ہوتا ہے ۔ کسی شعبے میں بھی اس شخص نے بہتری لائی ہوتی۔تباہی کو کم کرنے کے اقدامات کئے ہوتے۔ تعلیم ، صحت اور عدل کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا یہ دعویدار پانچ فیصد تبدیلی بھی ان شعبوں میں اگر لے کر آیا ہوتا تو جب اقتدار کی آخری شب ذلیل و رسوا ہو کر وہ ’’رخصت‘‘ ہو رہا تھا پورے ملک سے لوگ اس کی حمایت میں نکل کر اسی وقت اسلام آباد پہنچ جاتے۔ اقتدار کی آخری شب بنی گالہ بلکہ ’’بنی گالی‘‘ میں ویرانیاں ہی ویرانیاں تھیں۔ اپنے اقتدار کے الگ ہونے کے واقعے کو ’’سانحہ کربلا‘‘ جب بنا کر اس نے پیش کیا۔ وہاں موجود لوگوں سے بڑے فنکارانہ جذباتی انداز میں پوچھا ’’کوئی رہ تو نہیں گیا؟۔ یعنی کوئی رہ تو نہیں گیا جو میری مخالفت نہ کر رہا ہو؟۔ اپنی طرف سے اس نے ایسا درد ناک ماحول بنا دیا کہ سب دھاڑیں مار کر روئیں ۔ اہل صحافت نے جواب دیا ’’نہیں خان صاحب کوئی نہیں رہ گیا‘‘ ۔کاش میں وہاں ہوتا ان کی خدمت میں عرض کرتا‘‘ خان صاحب آپ کے ساتھ پرویز الٰہی رہ گیا ہے جسے آپ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے تھے ، اور پھر اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے اسے پنجاب کا وزیر اعلیٰ آپ کو نامزد کرنا پڑ گیا۔ میں ان سے کہتا خان صاحب آپ کے ساتھ وہ شیخ رشید بھی رہ گیا ہے جسے آپ نے اپنا چوکیدار نہیں رکھنا تھا اور پھر اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے اسے آپ نے وزیر داخلہ بنا دیا۔’’ ڈٹ کے کھڑا ہے اب عمران‘‘ کے نغمے اور نعرے بلند کرنے والو حوصلہ کرو ، اور اب تو کہہ دو ’’پٹ کے کھڑا ہے اب عمران‘‘ ۔ بلکہ پٹ کے کھڑا ہے اب عمران ‘‘ اب جتنے چاہے وہ تماشے کر لے ، جتنی چاہے ڈگڈگیاں بجا لے، یہ حقیقت اسے اور اس کے پجاریوں کو تسلیم کرنی پڑے گی وہ اب گئی گزری اک داستان ہے۔ اس کا اقتدار ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ پھر وہی ’’چور اور ڈاکو حکمران بن چکے ہیں جنہیں اپنے سارے اقتدار میں وہ جیلوں میں رلانے کے دعوے کرتا تھا۔ کہتا تھا ’’ہم جیلوں سے ان سے ساری سہولتیں چھین لیں گے‘‘۔ ان کے اے سی اتروا دیں گے ان کے پنکھے بند کروا دیں گے۔ پتہ نہیں ان کا کیا کیا اتروانے کے دعوے کرتا کرتا خود اقتدار سے وہ اتر گیا۔ اوہ بندہ خدا تیرے میں اتنا دم خم اگر ہوتا تو سب سے بڑے ڈاکو نواز شریف کو بیرون ملک کیوں جانے دیتا؟ ۔ اس موقع پر کیوں مصلحتوں کا شکار ہو گیا تھا؟۔ اپنے آقائوں کے آگے ہتھیار کیوں پھینک دیئے تھے؟۔ کہیں تو کسی کردار کا مظاہرہ کیا ہوتا۔ کہیں تو ڈٹ گیا ہوتا۔ سیانا تھا ناں اقتدار میں رہنے کی باریکیاں سمجھتا تھا سو نہ کہیں ڈٹ سکا نہ اڑ سکا۔ اب اس کی یہ تڑپ بالکل جائز ہے کہ اس کی جگہ دوبارہ وہی حکمران بن گئے جنہیں چور ڈاکو چور ڈاکو کہتے ہوئے اقتدار کے چار برس گنوا دیئے اور سوائے اس کے کچھ  بھی نہ وہ کر سکا۔ اگلے الیکشن میں جب امریکی مراسلے کی ہوا خارج ہو چکی ہو گی کوئی اس سے اس کی چار سالہ کارکردگی کا پوچھے گا سوائے اس کے بے چارہ کیا کہہ سکے گا کہ میں چار برسوں تک سابقہ حکمرانوں کو چور ڈاکو چور ڈاکو کہتا رہا ۔ یہ میری کم کارکردگی ہے؟؟‘‘ اس سے بھی زیادہ اس کی ’’کارکردگی‘‘ یہ ہے کہ اس کی بے پناہ نااہلیوں بے وقوفیوں اور نالائقیوں کے نتیجے میں اب وہی چور اور ڈاکو ہم پر ایک بار پھر مسلط ہو گئے ہیں۔ سابقہ حکمرانوں کو چور ڈاکو چور ڈاکو کہتے رہنے کے علاوہ دوسرا کارنامہ اس نے یہ کیا عوام کو بدتمیزیوں اور بداخلاقیوں کے بدترین مقام پر پہنچا دیا۔ میں نے اس شخص کو بہت قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔ خدا کی قسم اپنے مفاد کے لئے یہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے سے لیکر امربا لمعروف تک ہر ’’مذہبی کارڈ‘‘ اس نے اپنے ذاتی مقاصد کے لئے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے استعمال کیا۔ اپنے مخالفین کو نقصان پہنچانے کی آخری حد تک یہ جا سکتا ہے۔ اگلے روز مسجد نبویؐ میں اس کی ایماء پر جو کچھ اس کے پجاریوں نے کیا پوری دنیا اس پر تھو تھو کر رہی ہے۔ اس کے پیچھے پوری ایک پلاننگ تھی۔ ایک سازش تھی۔ یہ انکشاف بالکل درست معلوم ہوتا ہے مسجد نبویؐ میں جو کچھ ہوا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا۔ سعودی پولیس نے عمران کے دوست جہانگیر عرف چیکو سمیت جو گرفتاریاں کیں وہ تمام پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے کارکن ہیں۔ فنڈ کی فراہمی انیل مسرت نے کی یہ لوگ ایک روز پہلے ہی مانچسٹر سے سعودی عرب پہنچے تھے۔ یہ سازش پاکستان میں تیار ہوئی۔ عمران خان کے علاوہ شیخ رشید ، فواد چوہدری سمیت پانچ سابق وزراء اس میں شامل تھے۔ پاکستان سے سنتالیس یوتھیے اس مقصد کے لئے ایک روز پہلے جدہ بھجوائے گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمران خان نے اپنے دوست چیکو کو براہ راست مسجد بنویؐ میں ہنگامہ کرنے کی ہدایات دیں۔ فون کالز کا ریکارڈ بھی مل گیا ہے۔ ایک سو پچاس افراد کو مع چیکو کے گرفتار کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے یوتھیوں سے مسجد نبویؐ میں غدار ، چور حتیٰ کہ کنجری تک کے نعرے لگوائے گئے۔ اس سے زیادہ بدبودار کردار کوئی ہو سکتا ہے ؟؟؟  (جاری ہے)

تبصرے بند ہیں.