تبدیلی سے آزادی تک …

23

جن لوگوں کوتبدیلی کے نام پردھوکہ دیاگیا وہ اب آزادی کے نام پردھوکہ کھانے جارہے ہیں ،ایک طرف ان کی حالت تویہ ہے کہ امریکہ سے آزادی کاتونعرہ لگارہے ہیں مگر دوسری طرف وہ عمران نیازی کی غلامی میںاس حدتک آگے جاچکے ہیں کہ وہ اپنی قیادت سے یہ پوچھنے کی بھی ہمت نہیں کرپارہے ہیں کہ وہ تبدیلی والے نعرے کاکیابنا؟پہلے ساڑھے تین سالہ حکومت کاتوحساب دو؟پھراگلی منزل پرروانہ ہوں گے مگرذہنی غلاموںمیں یہ ہمت کہاں ؟اس لیے مداری نئے نعرے کے ساتھ چورن بیچنے میدان میں آگیاہے اورقوم یوتھ اس پرایک مرتبہ پھر ناچ رہی ہے ۔
تبدیلی کے نعرے کوعملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت ملی مگرکارکردگی صفررہی ۔کوئی بھی حکومت جب جائزیا ناجائز طریقے سے ختم ہوتی ہے تووہ عوام کے پاس جاتی ہے کہ اس نے ملک کی ترقی کے لیے فلاں فلاں منصوبے شروع کیے تھے مگران کی حکومت ختم کردی گئی لہٰذا قوم انہیں دوبارہ منتخب کرے تاکہ ترقی کاجوسفرجہاں ختم ہواتھاوہاں سے دوبارہ شروع کیاجائے ۔یہ عمران نیازی ہیں کہ جن کے پاس ا س حوالے سے بتانے کوکچھ بھی نہیں ،اس لیے وہ ایک جذباتی نعرہ اورجھوٹ پرمبنی بیانیہ سامنے لائے ہیں جس پران کے کارکن بھنگڑے ڈال رہے ہیں ۔
رمضان کی ان مقدس راتوں میںجب لوگ اللہ کوراضی کرنے کے لیے عبادتوں میں مصروف ہیں وہاں عمران نیازی اوران کے حامیوں نے اقتدارسے بے دخلی کے بعددوبارہ سے پورے ملک کوڈی چوک بنادیاہے جہاں میوزک کنسرن ہورہے ہیں ایک طرف مساجدمیں تراویح پڑھی جارہی ہوتی ہیں تودوسری طرف موسیقی کی دھنوں اورناچ گانوں سے امریکہ سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہدکی جارہی ہوتی ہے ۔عمران نیازی نے نے جس بے حیائی، فحاشی، بد اخلاقی اور سیاسی فاشزم کو فروغ دیا وہ کسی قومی رہنما کو زیب نہیں دیتا۔
سوشل میڈیا پر ہندو نوجوانوں کے ٹویٹس نظروں سے گزرے  ہیں جس میں انہوں نے کہاہے کہ کراچی شہرمیں ہندوبرادری اپنامذہبی تہوار ہنومان جیانتی رمضان کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے بغیربھجن کیرتن اورسائونڈسسٹم کے منارہی ہے مگرپی ٹی آئی کے جلسے کودیکھ کرہمیں بھی شرم آرہی ہے ۔ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ عمران نیازی کاریاست مدینہ بنانے کادعویٰ سراسر دھوکہ ہے مگرکچھ لوگ ماننے کو تیار نہیں تھے ابھی چند دن قبل پریڈ گرائونڈمیں منعقدہ جلسے کو امربالمعروف کانام دیاگیا مگراب وہ نعرہ بھی کہیں ناچ گانے میں گم ہوگیاہے ۔
عمران خان چانکیہ اور میکاولی کی سیاسی تصورات کا حامی ہے ۔اس کا ایک ہی ہدف ہے کہ نوجوانوں کو جذباتی بنا کر اقتدار حاصل کرے اور اپنے آقاوں کے عزائم کی تکمیل کرے ۔اوریہ نوجوان اس وقت اسی جذباتی کیفیت سے گزررہے ہیں اورہرایک کامنہ نوچ رہے ہیں۔یہ جذباتی نوجوان اس وقت ہمارے معاشرے کے لیے مسئلہ بناہواہے سیاسی جماعتوں سے لے کرپاک فوج تک ،میڈیاکے حلقوں سے لے کرمختلف اداروں تک یہ نوجوان حملہ آورہے اورایک خطرناک سازش کے ساتھ حملہ آورہے اوراس وقت یہ ملکی سلامتی سے بھی کھیلنے سے گریزنہیں کررہاپچھلے دنوں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف جوشرانگیزمہم چلائی وہ نہایت خوفناک تھی سکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کاکچھ تدارک تو کیاہے مگرمکمل علاج نہیں کیاگیا ۔
سیاسی اورقومی قیادت کوملک وقوم کومتحدکرنے کی فکرہوتی ہے اس کے لیے اسے بہت سی چیزوں کی قربانی دیناہوتی ہے مگرعمران نیازی اوران کے ہمنواایک آئینی طریقے سے اپنی حکومت کے خاتمے پرتلملارہے ہیں اوراس غم میں وہ کسی بھی ادارے یاشخص کومعاف کرنے کوتیارنہیں ہیں پاکستان کے خلاف نہایت خوفناک کھیل کھیلاجارہاہے اوراس کھیل میں ہمارے پی ٹی آئی کے دوست آلہ کاربنے ہوئے ہیں ،قوم کوتقسیم کیاجارہے معاشرے میں تفریق پیداکی جارہی ہے اداروں کی لڑانے کی سازش کی جارہی ہے ۔اوراس سارے کھیل میں یہ نوجوان استعمال ہورہے ہیں ۔
اس نوجوان کے جذبات سے عمران خان اوران کے آقاکھیل رہے ہیں ہمارے دوست احمداعجازنے غیرملکی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیوسے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان کا فین کلب کبھی بھی سیاسی ورکر نہ بن سکا۔ سیاسی ورکر جمہوریت اور دلیل پر یقین رکھتا ہے جبکہ کپتان کے پرستار اپنے لیڈر کی طرح آمرانہ مزاج اور زعم پارسائی کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ احمداعجازکی اس بات کاعملی نمونہ دیکھناہوتوسوشل میڈیادیکھ لیں جہاں پی ٹی آئی کے فالورزانتہائی غلیظ ٹرینڈچلاتے نظرآئیں گے ، مخالفین کی پگڑیاں اچھال رہے ہوں گے، سیاسی، مذہبی اورعسکری قیادت کے خلاف برے القابات اورتضحیک آمیز جملوں کا استعمال کررہے ہوں گے ،گالی گلوچ کے کلچرکے فروغ دے رہے ہوں گے اوراس معاملے میں وہ تمام اقدار اور حدود کو پھلانگ رہے ہوں گے ۔
معروف تجزیہ نگاراورصحافی سجاد اظہرنے نوجوانوں کے ایسے رویے کے حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ، ثقافتی گہرائی یا تنقیدی نگاہ سے عاری نوجوان نسل نے بس میڈیا دیکھا اور میڈیا پر کپتان ہی کپتان تھا۔ یہ شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والی وہ نسل تھی جن کے ماں باپ رزق کی دوڑ دھوپ میں ان کی تربیت کے لیے وقت نہ نکال سکے۔ ایک ہجوم کی شکل میں یہ نوجوان سوشل میڈیا پر چڑھ دوڑے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا کو ٹول کے طور پر کمال مہارت سے استعمال کیا۔
پاکستان سٹڈی سرکل جامعہ کراچی کے سابق صدر، پچیس سے زائد کتابوں کے مصنف اور پولیٹیکل سائنس کے معروف نام ڈاکٹر جعفر احمد کا دکھ ذرا مختلف ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، پی ٹی آئی نے بدزبانی کے جس کلچر کو فروغ دیا وہ افسوس ناک ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات ایک بہت بڑی تعداد کا اسے قبول کرنا ہے۔
جن لوگوں نے عمران نیازی کی آبیاری کی تھی اب وہ بھی سرپکڑکربیٹھے ہیں کہ یہ ہے وہ تبدیلی کہ جس کاخواب انہوں نے دیکھا تھا ؟مگراب پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی بہہ چکاہے اس لیے اس زہرکاتریاق نہ کیاگیاتویہ ایک خطرنک فتنے کاروپ دھارلے گاعمران نیازی نے تحریک عدم اعتمادسے لے کرپنچاب اسمبلی تک جوتماشالگایاہے اس سے یہ ثابت ہواہے کہ یہ سیاسی جماعت نہیں اورنہ ہی عمران خان میں جمہوری شخصیت کی کوئی نشانیاں موجود ہیںعمران خان سمجھتے ہیں کہ جب تک وہ اقتدارمیں ہیں توسب اچھاہے اورجوں ہی وہ اقتدارسے الگ ہوئے ملک اورملکی سلامتی کے اداروں کوبھی نشانے پررکھ لیا اوران سے جواختلاف کرے وہ غداربن گیا یہ ہے وہ سیاسی سوچ جسے برسوںکی محنت سے پروان چڑھایاگیاتھا  ۔؟
عمران نیازی نے یہ سوچ اورنظریہ دیاہے کہ صرف وہ حق پرہیں باقی سب باطل ہیں ،وہ سلیکٹ ہوکرحکمران بنیں توسب ٹھیک ہے اگران کامخالف الیکٹ ہوجائے توسب غلط ہے ،شیخ الحدیث مولانازاہدالراشدی نے بالکل درست کہاہے کہ ،،امپورٹڈحکومت نامنظور،،کانعرہ بہت خوش کن ہے مگرجہاں فیٹف (FATF)۔سیڈا،،( CEDA) اورآئی ایم ایف کے بھیجے ہوئے امپورٹڈقوانین ڈکارلیے بغیرہضم ہوں وہاں یہ نعرہ دل فریب ہونے کے باوجود عجیب سالگتاہے ۔
اس لیے یہ امریکہ سے آزادی کانعرہ بھی تبدیلی کے نعرے کی طرح ایک دھوکہ ہے جوشخص اپنے کارکنوںکویہ ہدایت کرے کہ امریکہ میں مظاہرہ کرومگرامریکہ مخالف نعرہ نہ لگاناجس کی کابینہ میں درجن بھرافرادکاتعلق امریکہ اوریورپی ممالک سے ہوں جس کی کابینہ کے لوگ امریکہ مخالف نعرہ لگانے سے بھاگیں ،اورجوشخص اپنی حکومت کے خلاف سازش ہوتادیکھ کرامریکی سفیرکوملک بدرنہ کرے امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع نہ کرے اورجس میں یہ ہمت نہ ہوکہ وہ امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرے اوروہاں کھڑے ہوکراپنی زبان سے امریکہ مردہ بادکانعرہ لگائے تو وہ قوم یوتھ کوتودھوکہ دے سکتاہے مگر اہل پاکستان کواس کے فریب میں نہیں آئیں گے۔

تبصرے بند ہیں.