رل کھاؤ تے کھنڈ کھاؤ

21

ملکی سیاسی حالات دگرگوں ہیں، کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا ہونے جا رہا ہے، حکومت اور اپوزیشن کے رویے جیسے کل تھے ویسے ہی آج ہیں ، صرف چند چہرے تبدیل ہوئے ہیں ،پہلے چند جماعتیں حکومت میں تھیں اب بے شمار ہیں، اس بحرانی سیاسی کیفیت میں اگر کوئی پورے ہوش و حواس سے اپنے پتے کھیل رہا ہے تو وہ آصف علی زداری ہیں،نواز شریف سے مل کر عمران حکومت کو گھر بھیجنے میں بھی زرداری کا کلیدی کردار ہے،ورنہ شریف برادران تو ابھی لمبی اپوزیشن اننگز کھیلنے کے موڈ میں تھے،تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد فوری الیکشن کا مطالبہ کیا جا رہا تھا مگر زرداری اکڑ گئے اور موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت پوری کرنے پر اصرار کیا اور گزشتہ ساڑھے تین سال کا گند اٹھا کر شہباز شریف کے سر پر دھر دیا،محسوس ہوتا ہے ان کو کسی خفیہ ذرائع سے گرین سگنل مل چکا ہے،جیسے میثاق جمہوریت کا ثمر محترمہ بینظیر کی شہادت کے بعد ملا تھا،زرداری کو سیاست کا جادوگر یونہی نہیں کہا جاتا،وقتی فائدے کے بجائے انہوں نے ہمیشہ طویل المیعاد مفادات پر نگاہ رکھی،اب بھی ان کی نظر آئندہ سالوں میں پانچ سال حکمرانی کرنے پر ہے،اسی لئے انہوں نے تحریک انصاف حکومت کے خاتمے میں اہم رول ادا کرنے کے بعد حکومت سازی سے خود کو الگ رکھا،مگر مرضی کے عہدے بھی لے لئے،آصف زرداری کی سیاسی زندگی پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ بہت دانشمندی ،عقلمندی سے کھیلتے ہیں ۔
پیپلز پارٹی کی سیاست اب نصف صدی کا قصہ ہے دو چار دنوں کی بات نہیں ، اس کے بالمقابل جماعت اسلامی کے سوا تمام پارٹیاں بعد میں وجود میں آئی ہیں،اس کے با نی ایک کرشماتی شخصیت تھے، معاہدہ تاشقند کے بعد جب بھٹو اور ایوب تعلقات خراب ہوئے تو بھٹو نے نئی پارٹی کے قیام کے لئے یہ موقع غنیمت جانا، 30نومبر1967ء کو بائیں بازو کے دا نشور وں کا اجلاس ڈاکٹر مبشر حس کے گھر منعقد ہوا اورپیپلز پارٹی معرض وجود میں آئی،پیپلز پارٹی کا منشور روایتی پارٹیوں کے ہوتے ہوئے ایک سیاسی دھماکہ تھاجس کی بنیاد رکھتے کہا گیا ، جمہوریت ہماری سیاست، اسلام ہمارامذہب، سوشلزم ہماری معیشت اور قوت کا سرچشمہ عوام ہیں،یہ چارنکات بڑے معروف ہوئے، الیکشن سے پہلے ہی بھٹونے پورے ملک میں ہل چل پیدا کردی،1970ء کے عام ا نتخابات میں ا نہوں نے اپنی مقبولیت 138 میں سے 81 سیٹیں جیت کے ثابت کردی، دائیں بازو کی تمام پارٹیاں بری طرح فلاپ ہوئیں,بعد ازاں 77ء کے الیکشن میں دھاندلی کے الزام پر ملک کی تمام جماعتیں متحد ہو گئیں اور نئے الیکشن کا مطالبہ کیا،یہ بالکل وہی صورتحال تھی جس کا آج عمران خان کو سامنا ہے۔
پیپلز پارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو ایک وقت میں چاروں صوبوں کی زنجیر تھی مگر اب وہ حالات نہیں ہیں، کیا اب پی پی کا سیاسی مستقبل مخدوش ہوگیا ہے؟تجزیہ کاروں کی رائے یہی ہے کہ اب تک پیپلز پارٹی اپنی دو کرشماتی شخصیات کی وجہ سے عوام کے دلوں پر حکمرا نی کرتی رہی ہے، بھٹو اور پھر بے نظیر بھٹو کے بعد اب سیاسی شخصیات اور عوام کو کچھ بھی نظرنہیں آتا،موجودہ قیادت ماضی کی دو شخصیات کا نام کیش کراتی رہی ہے ، اس کے علاوہ بھی کئی اور شہیدوں کے نام اس کی تاریخ کا حصہ ہیں، سیاست صرف گڑھی خدا بخش کے قبرستا ن کے اردگرد ہی گھوم رہی تھی،کوئی نیا خیال کوئی نئی فلاسفی پارٹی متعارف نہیں کراسکی۔، اسے چھوڑ کر جانے والوں کو اب پارٹی کی کامیابی کا امکان دکھائی نہیں دے رہا تھا،صبح گئے یا شام گئے کی کیفیت تھی، گزشتہ دو سال میں بلاول بھٹو،آصف علی زرداری نے لوگوں کو جگا نے کی کافی کوشش کی لیکن عوام کے تالاب میں کوئی بڑا ارتعاش پیدا نہیں ہوا، اس صورت حال کو دیکھ کر علاقائی سیاسی شخصیات تیزی سے پی پی سے تحریک ا نصاف کی طر ف جاتی نظرآئیں لوگ زرداری خاندان کو بھٹو خا ندا ن کا جا نشین ما ننے کے لئے تیار نہیں ہو رہے تھے۔
آصف علی زرداری کا نام تو کرپشن کے سلسلے میں 90ء کی دہائی سے ہی بدنام ہے، لیکن گزشتہ عرصہ میں بھی بہت سے قصے زبا ن زدعام ہوئے،بہت سے مقدمات اب بھی نیب اور دوسرے اداروں کے پاس ہیں، سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں آصف علی زرداری کی جمع کرائی ہوئی دولت کو واپس لا نے کے لئے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا،شریف خاندان نے بھی اپنی سی کوشش کر لی لیکن ایک وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی قربانی کے باوجود کامیابی نہ ملی،1997ء  کے جنرل الیکشن میں بھی پارٹی کو برائے نام ووٹ ملے لیکن قومی اسمبلی کی 18 سیٹوں کے ساتھ پارٹی کا وجود برقرار رہا ایک لمبے عرصے کی جلاوطنی کے بعد بے نظیر2007ء میں واپس آئیں لوگ ا نہیں امید کی نظروں سے دیکھ رہے تھے لیکن دسمبر2007ء میں ا ن کی شہادت پارٹی کے لئے بڑے نقصان کا سبب بنا مگر الیکشن میں پی پی کو مظلومیت کا ووٹ ملا یوں 2008ء سے2013ء تک زرداری، حکومت اور پارٹی پر چھائے رہے،ایک وصیت کے تحت وہ چیئر مین بنے صدارت کے 5 سال تو ا نہوں نے اپنے پیروں کے مشورہ سے مکمل کر لئے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے سیاسی وارث کے طور پر وہ بری طرح ناکام نظر آئے مگر بعد کے حالات میں انہوں نے خود کو نہ صرف سیاستدان بلکہ جادوگر سیاستدان کے طور پر منوایا،اگر چہ پارٹی کو خیر باد کہنے والوں کی لمبی قطار ہے مگر اب بھی نامی گرامی سیاستدان ان کے ساتھ ہیں۔
مشرف دور میں نواز شریف سے میثاق جمہوریت بینظیر سے زیادہ نوابزادہ نصراللہ کا کرشمہ تھا مگر حالیہ دور میں شریف خاندان کو گلے لگانا زرداری کی طلسماتی شخصیت کا کارنامہ ہے جس کے نتیجے میں تحریک انصاف حکومت کو گھر کی راہ دیکھنا پڑی،ورنہ نواز شریف تو لندن جا بیٹھے اور شہباز شریف ابھی راستے تلاش کر رہے تھے مگر زرداری نے بلاول کو آگے کر کے یہ میدان مار لیا،ایسا رویہ رکھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھی ان کی تعریف کرنا پڑی،کوئی مانے نہ مانے مگر زرداری نے اپنے پتے انتہائی مہارت سے کھیلے،اب بھی وہ ماہرانہ چالیں چل رہے ہیں،حکومت میں شامل ہیں مگر حکومت سازی سے الگ ہیں،ان کی نگاہ 2023ء کے الیکشن پر ہے،جس میں سادہ اکثریت سے ہی سہی مگر وہ مرکز اور سندھ پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں کیونکہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ، پنجاب انہوں نے ن لیگ کو دیدیا،کے پی کے میں تحریک انصاف نے اکثریت حاصل کی تب بھی وہ یہ صوبہ جمعیت العلمائے اسلام کو دینے پر راضی ہونگے،ان کا حکومت کرنے کا فارمولا بڑا واضح ہے ’’رل کھاؤتے کھنڈ کھاؤ‘‘یہ فارمولا ہمارے شریف سیاستدانوں کو بھی سمجھ آ رہا ہے یا انہیں سمجھا دیا گیا ہے ورنہ وہ سانجھ کی سیاست پسند نہیں کرتے،یہ تبدیلی اگر انہوں نے قبول کر لی تو ان کے لئے آئندہ بھی امکانات زیادہ روشن ہیں ،موجودہ سیاسی حالات میں بھی مل جل کر چلنا ہی زیادہ بہتر نظرآ رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.