الیکشن وقت پر ہوں گے، دھمکیوں میں نہیں آئیں گے، عمران خان سے چوری کا حساب لیں گے: مریم 

6

 

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کسی کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے، الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے، عمران خان نے ملک کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، عدالتیں جب ان کے مقدمات کی سماعت کریں تو دھمکیاں دی جاتی ہیں، یہ سوال نہیں جواب دینے کا وقت ہے، عمران خان الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کا حساب دیں،چوری، جھوٹ، منافقت، نالائقی، نااہلی، بدمعاشی، غنڈہ گردی کا برانڈ عمران خان ہیں، نااہل اور ناکام شخص نے چار سال سے اقتدار میں رہ کر ملک کو معاشی تباہی کا شکار کیا، بے روزگاری، کشمیر فروشی اور لوڈ شیڈنگ کے تحفے عوام کو دیئے۔

 

منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کراچی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ وزیراعظم ہائوس نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف نواز شریف نے تمام صوبوں کے ساتھ مل کر نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت اقدامات اٹھائے تھے، وفاق کی تمام اکائیوں نے اس میں حصہ ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیح ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر سے بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لئے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دو ہفتے پہلے اقتدار کی کرسی پر مسلط ٹولہ عوام کو لوٹ رہا تھا جس نے ساٹھ لاکھ نوجوانوں کو بے روزگار کیا، مہنگائی کو 3.1 فیصد سے 6 فیصد تک پہنچایا، 43 ہزار ارب کے قرضے لئے، آج سوال کر رہا ہے کہ دو ہفتے میں لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری کیوں ہو رہی ہے، کسانوں کو ڈیزل کیوں نہیں مل رہا، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، چار سال تک اقتدار کی کرسیوں پر مسلط رہنے والا ٹولہ بے شرمی سے سوال کر رہا ہے کہ دو ہفتے میں کیا ہوا؟۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو بے وقوف نہ بنایا جائے، بیرون ملک سازش کا بہانہ اور الیکشن کمیشن پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نااہل اور ناکام شخص نے چار سال سے اقتدار میں رہ کر ملک کو معاشی تباہی کا شکار کیا، بے روزگاری، کشمیر فروشی اور لوڈ شیڈنگ کے تحفے عوام کو دیئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور میں اپوزشین کو سوال کرنے پر بند کر دیا جاتا، پارلیمان کو سوال کرنے پر تالہ لگا دیا جاتا، میڈیا سوال کرتا تو اس پر پابندیاں عائد کر دی جاتیں۔ ان کی آئین شکنی پر جب عدلیہ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو مسترد کیا تو یہ آئین اور پارلیمان پر حملہ آور ہوئے۔

 

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے عوام اور آئین کو یرغمال بنایا تو عدالتیں کھلیں اور ان کے خلاف فیصلے آئے تو کہا گیا کہ عدالتیں کیوں کھلیں، انہوں نے عدلیہ پر بھی حملے کئے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ آٹھ سال سے زیر التواء فارن فنڈنگ کیس پر انہوں نے جواب دینا ہے، آٹھ سال سے انہوں نے غیر قانونی فنڈنگ کا جواب نہیں دیا، 70 لاکھ ڈالر سے زائد کی غیر قانونی فنڈنگ ہوئی، 16 سے زائد اکائونٹس انہوں نے ڈیکلیئر نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آٹھ سال بعد الیکشن کمیشن چلے گئے ہیں تو وہاں جا کر جواب دیں کہ 70 لاکھ ڈالر پاکستان میں منی لانڈرنگ کے ذریعے آیا تو وہ کہاں گیا، الیکشن کمیشن اگر سوال کرتا ہے تو یہ اس پر حملہ کرتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ امید تھی آٹھ سال کے بعد عمران خان فارن فنڈنگ کا جواب چیف الیکشن کمشنر کو دے کر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ستر لاکھ ڈالر اپنے ذاتی ملازمین کے اکائونٹس میں منگوائے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ فنڈ میں اوورسیز پاکستانیوں اور شوکت خانم ہسپتال کے عطیات پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ میں منتقل ہوئے، یہ پیسہ کہاں گیا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے امید تھی کہ آج الیکشن کمیشن جو سوال پوچھ رہا ہے یہ اس کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ الیکشن کروائے جائیں۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے، جب پاکستان کے عوام چاہے گی اس وقت الیکشن ہوگا، عمران خان کی اناء، فساد، نفرت، گالی، دھمکی، غنڈہ گردی پاکستان میں الیکشن نہیں کروائے گی۔ پاکستان میں الیکشن کمیشن انتخابات کروائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے روز روز کی رٹ لگا رکھی ہے کہ الیکشن کمیشن استعفیٰ دے، الیکشن کمشنر کیوں استعفے دیں؟ کیونکہ وہ آپ سے آپ کی چوری کا سوال کر رہے ہیں؟ اب جواب دینے کا وقت ہے، عمران خان اب کٹہرے میں ہیں، ہم کہتے تھے کہ عوام کے ہاتھ ہوں گے اور آپ کے گریبان ہوں گے، اب آپ کا سوال کرنے کا وقت نہیں جواب دینے کا وقت ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی 16 فیصد ہے تو وہ عمران خان کی وجہ سے ہے، آج پٹرول مہنگا ہے تو عمران خان کی وجہ سے ہے، ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ عمران خان نے چار سالوں میں لیا، آج ڈالر 115 سے 190 روپے پر ہے تو وہ بھی عمران خان کی وجہ سے ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پر دستخط بھی عمران خان کے حکم پر ان کے فنانس منسٹر کر کے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں، ان کا پھیلایا ہوا گند صاف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے اندر لوڈ شیڈنگ عمران خان کی وجہ سے ہے، دو ہفتے پہلے ہمیں بریفنگ دی گئی تھی کہ 27 پاور پلانٹس بند ہیں، ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی صرف ان یونٹس کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے دستیاب نہیں تھی۔

 

انہوں نے کہا کہ تیل، گیس، ایل این جی نہ خریدنے کی وجہ سے بھی آج توانائی کے مسائل ہیں۔ 2018ء میں جب نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی تھی تو زیرو لوڈ شیڈنگ تھی، آج یہ پوچھتے ہیں کہ دو ہفتے میں کیا کیا، دو ہفتے کے اندر 27 بند یونٹس تھے، آج صرف سات بند ہیں، ہم نے 20 پاور یونٹس کو بحال کیا، وزیراعظم نے ہدایت کر دی ہے کہ یکم مئی سے ملک میں زیرو لوڈ شیڈنگ ہوگی، یہ منصوبہ بندی ان نالائقوں نے کرنا تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چینی، آٹا، گھی سستا کیا، پاکستان کے عوام کو سستا آٹا اور سستی چینی فراہم کرنے کے لئے پرائس میکنزم بنایا، جو پوچھتے ہیں کہ ہم نے دو ہفتے کیا کیا، اس مافیا نے چار سال تک معاشی دہشت گردی کی، چار سال تک ملک کے عوام کو لوٹا، دو کروڑ لوگوں کو غریب کیا، آج یہ لوگ جو سوال کر رہے ہیں ان کا جواب بھی انہوں نے ہی دینا ہے۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کی نالائقی، نااہلی کو عوام نہیں بھولے گی، عمران خان ناکام شخص تھا جس نے پاکستان کے عوام، میڈیا اور اپوزیشن کو یرغمال بنا رکھا تھا، جو سوال کرے اسے گالی، دھمکی دیتے اور اس پر حملہ آور ہوتے، اب ایسا نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ چوری، جھوٹ، منافقت، نالائقی، نااہلی، بدمعاشی، غنڈہ گردی کا برانڈ عمران خان ہے، انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ نہ اقتدار کی طاقت ان کے پاس ہے اور نہ وہ کرسی ان کے پاس ہے جس کے استعمال کر کے یہ لوگوں کی زبان بندی کرتے تھے۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے ان کے فاشزم کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو بے روزگاری، معاشی تباہی کا شکار کرنے اور کشمیر فروشی پر انہیں جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج روپے کی قدر میں کمی، مہنگی بجلی اور گیس کا جواب بھی انہیں دینا ہوگا۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم عوام کو ہر قدم پر ریلیف فراہم کریں گے جبکہ یہ ٹولہ عوام کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ جب سی پیک کا منصوبہ آ رہا تھا یہ تو کنٹینر پر چڑھ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں۔ عمران خان کاغذ لہرا لہرا کر باتیں بتا رہے ہیں لیکن عوام سوال کر رہے ہیں کہ انہوں نے آٹا، چینی، بجلی، گیس مہنگی کی، مہنگائی کا ذمہ دار عمران خان ہے، الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرنے کی بجائے یہ لوگوں کو بتائیں کہ 43 ہزارب ارب کا قرضہ انہوں نے کیوں لیا؟

 

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف دن رات پاکستان کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن دوسری طرف ایک شخص جو چار سال تک اقتدار کی کرسی پر مسلط رہا، وہ عوام کو تکلیف پہنچانے کے لئے میٹنگز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے احتساب اور جواب دینے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایل این جی کے منصوبے بند پڑے ہیں، جب سستی ایل این جی مل رہی تھی اس وقت مافیاز نے اپنی دکانیں سجانے کی کوششیں کی۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف نے 2018ء میں محنت کے ساتھ لوڈ شیڈنگ ختم کی، ہم انشاء اللہ ختم کریں گے۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کے دورہ سعودی عرب اور شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں فرق یہ ہے کہ عمران خان کا دورہ سرکاری خرچے پر جبکہ شہباز شریف کا دورہ ذاتی خرچے پر ہے۔ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں اپنی سہولت کے لئے ایک بلین کا ہیلی کاپٹر چلایا۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی وزیراعظم کا بیرون ملک دورہ ہوتا ہے تو وزارت خارجہ کی طرف سے پی آئی اے کو ایس او پی کے تحت خط لکھا جاتا ہے جس میں پلاننگ کی جاتی ہے کہ وہ اسٹینڈ بائی رہیں۔ ابھی جس خط کا ذکر کیا جا رہا ہے اس میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ بک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس خط کے لئے نہ وزیراعظم کی ہدایت ہے اور نہ ہی وزیراعظم ہائوس کی ہدایت پر لکھا گیا ہے۔ یہ وزارت خارجہ کا ایس او پی ہے اور اسی ایس او پی ے تحت یہ خط لکھا جاتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پی آئی اے چیئرمین کو کال کر کے کہا ہے کہ جو لوگ سعودی عرب جائیں گے وہ اپنے ذاتی خرچ پر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف بطور چیف منسٹر پنجاب دس سال تک تمام انٹرنیشنل دوروں کے اخراجات اپنی جیب سے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں بزدار حکومت کے دور میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ انٹرنیشنل وزٹس پر شہباز شریف کے تمام اخراجات ان کے ذاتی ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے ساتھ سعودی عرب کے دورہ پر 13 رکنی وفد جائے گا، یہ تمام افراد اپنے ذاتی اخراجات پر جائیں گے، یہ فائنل ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر اطلاعات نے الزامات بھی عائد کئے، میں اس کی مذمت کرتی ہوں، کوئی صحافی سرکاری خرچے پر سعودی عرب کے دورہ پر نہیں جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ان کے ذاتی خرچ پر اور پاکستان کے عوام کے لئے ہے۔ پی ٹی آئی کے لوگوں نے اگر پاکستان کے عوام کو ریلیف دیا ہوتا تو آج انہیں جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا نہ لینا پڑتا۔

 

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قلت کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، ایندھن کی ذخیرہ اندوزی پر سخت کارروائی ہوگی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے جو پلانٹس بند تھے، انہیں بحال کیا جا رہا ہے، یکم مئی سے زیرو لوڈ شیڈنگ کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دو ہفتے کے اندر چار سال کی نالائقی، بے حسی پر قابو پاتے ہوئے لوڈ شیڈنگ کے لئے اقدامات اٹھائے، گزشتہ چار سال کے دوران بجلی میں ایک میگاواٹ کا اضافہ نہیں ہوا، کسی ہسپتال میں ایک کمرہ تک یہ لوگ نہیں بنا سکے، بے روزگاری اور مہنگائی کے تحفے انہوں نے عوام کو دیئے۔ ایک اور سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر خزانہ واپس آ رہے ہیں، وہ میڈیا کو بریفنگ بھی دیں گے۔

تبصرے بند ہیں.