گورنر پنجاب کی وزیراعلیٰ کا انتخاب کالعدم قرار دینے کی سفارش

295

لاہور: گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے  صدر مملکت عارف علوی سے وزیراعلی ٰ پنجاب کے انتخاب میں قانونی اور غیر آئینی خلاف ورزیاں ہونے کے باعث کالعدم قرار دینے کی  سفارش کر دی ۔

 

 

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب  کے معاملے پر گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے صدر مملکت کو 6 صفحات پر مبنی رپورٹ بھیج دی ہے جس میں وزیرعلیٰ کے انتخاب کی ووٹنگ ٹمپرڈ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ  انتخاب میں آئینی خلاف ورزیاں پائی گئی ہیں۔

رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلی ٰکا انتخاب آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہوا اور پولیس کو رولز کے خلاف ایوان میں داخل کیا گیا جبکہ  ارکان اسمبلی کو ووٹ دینے سے روکا گیا۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کی ووٹنگ کا ریکارڈ ٹیمپرڈ ہے اور ووٹنگ آئین کے سیکنڈ شیڈول کے منافی طریقہ کار اختیار کرکے کرووائی گئی۔ ووٹنگ میں سیکنڈ شیڈو ل کو نظر انداز کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ رولز 21 رولز آف بزنس کے مطابق اسپیکر نے نتائج سے آگاہ کرنا ہوتا ہے اور وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل سے گورنر کا مطمئن ہونا ضروری ہوتا ہے۔ عثمان بزدار کا استعفیٰ ہی متنازع ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 130 سب سیکشن 8 کی خلاف ورزی کی گئی اور گورنر آفس کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا استعفیٰ موصول نہیں ہوا اور جب گورنر کو استعفیٰ موصول ہی نہیں ہوا تو اسے منظور کیسے کرسکتا ہے۔

رپورٹ میں گورنر پنجاب نے  وزیراعلیٰ کا انتخاب کالعدم قرار دینے کی سفارش کی اور موجودہ صورتحال  کے مطابق اقدامات اٹھانے کی تجویز طلب کی۔

تبصرے بند ہیں.