عزت کا راستہ یہی ہے کہ منحرف رکن استعفیٰ دے کر گھر چلا جائے: سپریم کورٹ

52

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے ہیں کہ عزت کا راستہ یہی ہے کہ منحرف رکن استعفیٰ دے کر گھر چلا جائے۔ 
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی جس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل علی ظفر نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 63 اے کو آئین میں شامل کرنے کا مقصد ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنا تھا اور اس کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی ہے، اس کے نتیجے میں ووٹ کاسٹ تو ہو گا مگر شمار نہیں ہو گا۔ 
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کہ آپ کہہ رہے ہیں ووٹ کاسٹ نہیں ہوں گے، ووٹ شمار کرنا اور انحراف کرنا دونوں مختلف چیزیں ہیں ، اگر سیاسی جماعت کی کوئی ہدایت ہی نہ ہو تو ووٹ گنا جائے گا یا نہیں ، کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ہدایات نہ ہونے پر بھی رکن اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں ہو گا، آئین میں 63 اے شامل کرنے کا مقصد انحراف کے کینسر کو ختم کرنا تھا۔ اس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ پہلے سربراہ ہدایات جاری کرے گا، پھر ممبران کے خلاف ڈیکلریشن جاری کرے گا۔
جسٹس جمال خان نے استفسار کیا کہ کیا ڈیکلریشن کی عدم موجودگی میں بھی ووٹ نہیں گنا جائے گا؟ اگر ووٹ گنا نہ جائے تو مطلب جرم ہی نہیں کیا، 63 اے میں بتایا گیا ہے کہ ووٹ تو کاسٹ کرلیں گے لیکن سیٹ چلی جائے گی، ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد پارٹی سربراہ پہلے شوکاز نوٹس دے کر جواب لے گا اور اگر جواب سے پارٹی سربراہ مطمئن ہو تو وہ شوکاز ختم بھی کر سکتا ہے۔
جسٹس جمال خان نے مزید ریمارکس دئیے کہ کیا سیاسی جماعت اس کینسر کا علاج خود نہیں کر سکتی، سیاسی جماعتوں کو تکلیف ہے تو علاج کریں، ہمارے سامنے اکثر جماعتیں آپ کے موقف کے خلاف ہیں، آپ کیا توقع کررہے ہیں ہم اکثریت کو چھوڑ کر آپ کی بات مانیں گے، صرف ایک سیاسی جماعت منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ق) نے علی ظفر کے دلائل اپناتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے تحریک عدم اعتماد کیخلاف حفاظتی دیوار ہے، جمہوریت کے چیمپین بننے والوں نے مینڈیٹ کے احترام کا معاہدہ کیا تھا، لیکن عملی طور پر جو کچھ کیا گیا وہ میثاق جمہوریت کیخلاف ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دئیے کہ قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے، اسمبلی کی مدت تک ہی منحرف رکن نااہل ہو سکتا، ریفرنس میں پی ٹی آئی کہتی ہے منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہ کیا جائے، ریفرنس سابق وزیراعظم کو عدم اعتماد سے بچانے کیلئے دائر کیا گیا تھا مگر عدالت نے اسمبلی بحال کرنے کا تاریخی فیصلہ دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر جلد از جلد اپنی رائے دینا چاہتے ہیں، ضمیر کے مطابق جو آئین کے تحت درست لگتا ہے وہ کرتے ہیں، دعا ہوتی ہے کہ ہمارے فیصلوں سے ملک میں بہتری ہو۔مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے کہا کہ عدالت کے سامنے اب کوئی مواد نہیں کہ اراکین کیوں منحرف ہوئے، رشوت لینے کے شواہد ہیں نہ ہی یہ معلوم کہ ضمیر کی آواز پر منحرف ہوئے، رکن کیوں منحرف ہوا یہ شواہد دینا اس کا کام نہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت صرف سوال کی حد تک آئین کی تشریح کر سکتی ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالت اپنا اختیار 184/3 میں استعمال کر سکتی ہے، آرٹیکل 63 اے پارٹی سے بے وفائی روکنے کیلئے نہیں ہے۔ملک کو میچور جمہوریت کی طرف لے کر جانا ہو گا جس کیلئے قانون سازوں کی سیر حاصل گفتگو ضروری ہے۔ 
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عزت کا راستہ یہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے اور چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ سیاستدانوں کو قربانیاں دینی ہوں گی۔ عدالت نے کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی ہے۔ 

تبصرے بند ہیں.