جناب وزیر اعظم! کچھ توجہ تعلیم پر بھی

35

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت قصہ پارینہ ہو چکی ہے۔ اب میاں شہباز شریف کی سربراہی میں ایک نئی حکومت قائم ہے۔ رخصت ہو جانے والی جماعت اپنے دکھڑے روتی نظر آتی ہے۔ جبکہ نئی حکومت درپیش مسائل کا رونارو رہی ہے۔ غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو شہبا ز حکومت کے سامنے بیسیوں قومی مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں۔ ملکی معیشت کو سنبھالا دینا ہے۔ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلانی ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہیں۔ امن عامہ کے مسائل حل کرنے ہیں۔خارجہ تعلقات میں بہتری لانی ہے۔ انتخابی اصلاحات کرنی ہیں۔حل طلب مسائل کی ایک طویل فہرست ہے جو حکومت کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ان سب مسائل کا حل کئے بغیر ملک کو درست سمت میں گامزن نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم مسائل کے انبوہ کثیر میں ایک معاملہ ایسا ہے جو وزیر اعظم شہباز شریف کی سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ اسے حکومت کی ترجیحی فہرست میں سر فہرست ہونا چاہیے۔ یہ معاملہ ہے” تعلیم "کا۔ پاکستان جیسے ملک کے لئے تعلیم محض ایک شعبے کا نام نہیں۔ نہ ہی یہ فقط ایک وزارت کا نام ہے۔ اسے ایک حکمت عملی کے طور پر اختیار کرنا چاہیے۔ وجہ یہ کہ تعلیم ، تعمیر و ترقی کا سب سے اہم زینہ ہے۔ پاکستان کو باوقار ممالک کی صف میں شامل کرنا مقصود ہے تو شعبہ تعلیم پر توجہ مرکوز کرنا لازم ہے۔
میں رخصت ہو جانے والوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم چند حقائق بیان کئے بغیر شعبہ تعلیم کی ابتری کی تصویر کشی ممکن نہیں۔تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی میں اپنے کالموں میں یہ حقائق بیان کرتی رہی ہوں۔ گزشتہ تین برسوں میں شعبہ تعلیم، خصوصی طور پر شعبہ اعلیٰ تعلیم پر بحران کی کیفیت طاری رہی۔ تعلیم کیلئے مختص بجٹ میں زبردست کٹوتی کی گئی۔ ملک کے تمام صوبوں کی بیشتر جامعات فنڈز کی کمی کا رونا روتی رہیں۔اندازہ کیجئے کہ وہ وقت بھی آیا جب پشاور یونیورسٹی نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا کہ وہ اساتذہ اور ملازمین کو پوری تنخواہوں کی ادائیگی سے قاصر ہے۔ لہذا صرف بنیادی تنخواہ ادا کی جائے گی۔ لاہور کی معروف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی باقاعدہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ دیوالیہ ہو چکی ہے۔ بلوچستان اور سندھ کی جامعات بھی انتہائی مالی مصائب میں گھری رہیں۔ مزید افتاد یہ کہ گزشتہ دور حکومت میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری اورایوان وزیر اعظم کے مابین رسہ کشی جاری رہی۔ ڈاکٹر بنوری کو ملازمت سے ہٹانے کیلئے راتوں رات ایک آرڈیننس جاری کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب  اسلام آباد ہائی کورٹ سے قانونی جنگ کے بعد بحال ہوئے تو حکومت سپریم کورٹ جا پہنچی۔ ڈاکٹر بنوری کمیشن کے بجٹ اور دیگر معاملات میں وزیر اعظم آفس کی مداخلت کا الزام لگاتے رہے ۔ حکومت ڈاکٹر بنوری پر اختیارات سے تجاوز کرنے کا واویلا کرتی رہی۔بہرحال حکومت اور کمیشن کے مابین جاری اس کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان جامعات کا ہوا۔ایک بدقسمتی یہ رہی کہ پہلے سے قائم جامعات کو مضبوط بنانے کے بجائے نئے نئے تجربے ہوتے رہے۔  سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے کسی یونیورسٹی کے پہلے سے قائم سب کیمپس پر یونیورسٹی کا بورڈ آویزاں کر دیا گیا۔ کہیں کسی کالج کو استعداد کار نہ ہونے کے باوجود جامعہ کا درجہ عنایت کرد یا گیا۔ کہیں القادر یونیورسٹی کے نام پر زمین اور بھاری بھرکم فنڈز مختص ہوئے(بقول خواجہ آصف وہاں آج بھی صرف32 طالب علم زیر تعلیم ہیں)۔کہیں ایوان وزیر اعظم کو اورگورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنے کا چرچا کیا جاتا رہا۔  اسکول ایجوکیشن کے بھی کم و بیش یہی حالات رہے۔ پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ لیکن انہیں اسکولوں میں داخل کرانے کا بندوبست ہوا نہ کوئی قابل ذکر کاوش ۔رہی سہی کسر کرونا کی وبا نے پوری کر دی۔
اب میاں شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وہ انتظامی معاملات کا تجربہ بھی رکھتے ہیں اور سمجھ بوجھ بھی۔ اگرچہ وہ سڑکوں، شاہراہوں، میٹرو اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے بنانے کیلئے مشہور ہیں۔ تاہم ان کی وزارت اعلیٰ کے دور میں دانش اسکول ، پنجاب ایجوکیشنل اینڈوومنٹ فنڈز ، لیپ ٹاپ اسکیم اور طالب علموں کے لئے مختلف اسکالر شپ پروگرامز کامیابی سے چلتے رہے۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے وہ حسب معمول خاصے متحرک ہیں۔ چند روز میں انہوں نے اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کا افتتاح کر دیا۔ بھاشا ڈیم کا دورہ کیا اور اسے جلد تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ معیشت کی کشتی کو سنبھالا دینے کی تدابیر بھی ہورہی ہیں۔ یہ سب کام اہم سہی، مگر نہایت ضروری ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف تعلیم پر بھی توجہ مرکوز کریں۔ اگرچہ رانا تنویر کو وزارت تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تاہم ہمارے ہاں تعلیم کی ابتر صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ شہباز شریف اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر طارق بنوری کو ان کے سلب شدہ اختیارات واپس سونپ دئیے گئے ہیں۔ تاہم وہ چند ماہ بعد رخصت ہوجائیں گے۔ ضروری ہے کہ اگلے چیئرمین کا انتخاب نہایت سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ کوئی ایسا اہل شخص منتخب کیا جائے جو اعلیٰ تعلیم کی ڈوبتی کشتی کو پار لگا سکے۔
اس ضمن میں نئی بات میڈیا گروپ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب نے بھی وزیر اعظم کو ایک خط ارسال کیا ہے۔ ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب نے توجہ دلائی ہے کہ وزیر اعظم ہائیر ایجوکیشن کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں۔ اہم بات یہ ہے کہ شہباز  شریف حکومت نے چند ماہ بعد وفاقی بجٹ پیش کرنا ہے۔ یہ شہباز شریف کا پہلا امتحان ہوگا۔ دیکھتے ہیں کہ وہ تعلیم کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ کاش وہ تعلیم کے لئے مناسب بجٹ مختص کریں۔ اس شعبے پر اتنی ہی توجہ دیںجتنی توجہ وہ ترقیاتی منصوبوں پر دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سڑکیں ، شاہراہیں، موٹرویز اور دیگر بھاری بھرکم منصوبے بہت اہم ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں کسی ملک کی ترقی اور عوامی سہولت کے پیش نظر ان منصوبوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ترکی اور ملائشیا جیسے ممالک ، جن کا ہم بہت حوالہ دیتے ہیں، نے بھی سڑکوں شاہراہوں پر توجہ دی۔ تاہم تعلیم کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی بجٹ کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے۔ دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی، انہوں نے تعلیم پر سرمایہ کاری کی۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہم بھی تعلیم پر سرمایہ کاری کریں۔اٹھارہویں آئینی ترمین کے مطابق تعلیم کے بیشتر معاملات اب صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔ تاہم وزیر اعظم صوبوں کے ساتھ مل بیٹھ کر تعلیمی پالیسی بنانے، معیار تعلیم کی اصلاح کرنے، اسکولوں سے باہر بچوں کو اسکول داخل کرانے ، تحقیق کا معیار بہتر بنانے جیسے معاملات کی بہتری کیلئے حکمت عملی وضع کر سکتے ہیں۔شعبہ تعلیم سے منسلک افراد وزیر اعظم شہباز شریف پر نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں ۔ اللہ کرئے کہ شہباز شریف ان کی امیدوں پر پورا اتریں۔
تعلیم کا شعبہ ترقی کرئے گا تو پاکستان ترقی کرئے گا۔

تبصرے بند ہیں.