اللہ کی مرضی!

60

پی ٹی آئی اور خان صاحب کے پجاری خصوصاً ’’قوم یوتھ‘‘ شہباز شریف کے وزیراعظم انتخاب پر بہت سیخ پاہے، کل پی ٹی آئی کے ایک سابقہ وزیر مجھ سے ملنے آئے، وہ بے تکلف دوست ہیں، چھوٹے بھائی جیسے ہیں، میں دل کی بات اُن سے کھل کر کرلیتا ہوں، اور وہ بھی دل کی بات مجھ سے نہ بھی کرنا چاہیں، میں بڑے سلیقے سے اُن سے اُگلوا لیتا ہوں، خان صاحب کے اقتدار کے بجھتے ہوئے چراغ کی آخری شب کیا بنی گالہ پر کیا قیامت گزری، یہ سچ بھی میں نے اُن سے اُگلوالیا، وہ ’’موقع کے گواہ‘‘ تھے، میں نے اُن سے پوچھا ’’ کیا آپ کا اس پر یقین ہے اللہ کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا ؟، وہ بولے بحیثیت مسلمان میں اس بات سے منکر کیسے ہوسکتا ہوں؟… میں نے دوسرا سوال اُن سے یہ کیا 2018ء میں خان صاحب اس ملک کے وزیراعظم کس کی مرضی سے بنے تھے؟ وہ بولے ’’ظاہر ہے اللہ کی مرضی سے بنے تھے‘‘ … پھر میں نے پوچھا ’’اب شہباز شریف کس کی مرضی سے وزیراعظم بنے ہیں؟ ۔پہلے تو وہ سوچ میں پڑ گئے، پھر بولے ’’وہ امریکہ کی مرضی سے بنے ہیں‘‘ … میں اُن کی اس سوچ پر مسکرادیا ۔ظاہر ہے میں اس کے علاوہ اور کیا کرسکتا تھا، اُوپر میں عرض کررہا تھا خان صاحب کے اقتدار کی آخری رات کیا ہوا؟، ظاہر ہے یہ سچ میں من وعن تو کیا اشاروں کنایوں میں بھی عرض نہیں کرسکتا، سوائے اِس کے میں اِس پر ماتم کروں، کاش خان صاحب سارے معاملے کو عزت آبرو کے ساتھ نمٹا لیتے، کاش وہ اس اٹل حقیقت کو پیش نظر رکھتے، نواز شریف کی طرح بار بار وہ بھی یہ نہ بھول جاتے کہ جولے کر آتے ہیں، اُن کا حق ہوتاہے وہ جب چاہیں واپس لے جائیں، جب چاہیں بوریا بستر گول کردیں، خصوصاً اس وقت بوریا بستر گول کرنا ہی بنتا ہے جب لانے والوں کو اپنی اس غلطی کا شدت سے احساس ہونے لگے کہ اس بار اپنے انتخاب میں ماضی سے کچھ بڑی چول وہ مارگئے ہیں، جس کا خمیازہ قوم یعنی ’’ہجوم ‘‘ نے تو ظاہر ہے چاربرسوں تک بھگتا، خود لانے والوں نے بھی اس طرح بھگتا کہ اُن کے اس ’’حسن انتخاب ‘‘ کا ڈالا ہوا سارا گند اُن کے کھاتے میں پڑ گیا،… اِس ملک کی اصلی قوتیں اپنا ڈالا ہوا گند کسی نہ کسی طرح مینج کرلیتی ہیں، مگر یہ وہ برداشت نہیں کرتیں کسی اور کا گند مسلسل اُن کے کھاتے میں پڑتا رہا، سو اپنے اِس ’’گندے پلاٹ‘‘ سے جب اُنہوں نے دستبرداری اختیار کی، یعنی جیسے ہی وہ نیوٹرل ہوئے اُن کا ’’حسن انتخاب‘‘ کئی طرح کی سیاسی ودیگر مشکلات کا شکارہوگیا، اُس کے ناراض اراکین کھل کر سامنے آگئے جو پہلے اس وجہ سے کُھل کر سامنے نہیں آرہے تھے وہ اِس یقین میں مبتلا تھے حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں، ان حالات میں وہ اگر کھل کر سامنے آئے اُن کے لیے کئی طرح کی مشکلات ہو سکتی ہیں، خان صاحب کی منتقم مزاجی کا بھی اُنہیں اچھی طرح اندازہ تھا، اُن کے ایک رُکن اسمبلی نے ایک بار میرے سامنے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ خان صاحب شریف برادران سے بڑے ڈکٹیٹر ہیں، اُنہوں نے بالکل بچوں جیسی ذہنیت پائی ہے، کئی بار ایسے ہوا کابینہ کے اجلاس میں کسی نے ذرا جرأت کرکے کوئی ایسی بات کہہ دی جو خان صاحب کو ناگوار گزری وہ بچوں کی طرح روٹھ کر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، … غیرت مندی اور عزت مندی کا تقاضا یہ تھا خان صاحب کو جب یہ پتہ چل گیا تھا اُنہیں لانے والے اُنہیں لے جانے آگئے ہیں، اُن کی حکومت اب حالتِ نزع میں ہے اُنہیں فوراً اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو جانا چاہیے تھا، اقبال ؒ اُنہیں بہت پسند ہیں، وہ اکثر اپنی تقریروں میں اقبال کے اشعار واقوال اقبال کا حوالہ دیتے ہیں، اقبال کا یہ شعر شاید اُنہوں نے نہیں سن رکھا ہوگا، …’’اے طاہر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی …جس رزق آتی ہو پرواز میں کوتاہی ‘‘ … جب اُنہیں یہ پتہ چل گیا تھاوہ  اکثریت سے محروم ہوچکے ہیں، تو بجائے اِس کے اپنے لوگوں یا لوٹوں سے وہ طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے، اُنہیں گالیاں دیتے، اُن کے لیے بدتہذیبی کرتے، اُن کے لیے اخلاق سے گری زبان استعمال کرتے، اُنہیں گھٹیا انتقام کا نشانہ بناتے، اُن پر رشوت کا الزام لگانے اِس سے ہزار درجے بہتر تھا وہ ایک آخری خطاب فرماتے، عوام سے کہتے، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں، میں آپ کی بے شمار اُمیدوں پر پورا نہیں اُترا، اِس ضمن میں میرے راستے میں کئی رکاوٹیں تھیں، سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی میرے پاس سادہ اکثریت تھی، اِس سادہ اکثریت سے میں ان خوابوں کو تعبیر نہ دے سکا جو آپ کو الیکشن میں ہم نے دکھائے تھے، میں سسٹم ٹھیک کرنے آیا تھا، میری بدقسمتی یہ ہے سسٹم نے مجھے خراب کردیا ہے، میں ’’تبدیلی‘‘ کے دعوے کے ساتھ مزید اقتدار میں رہنے کے قابل نہیں رہا، میں اکثریت سے محروم ہوچکا ہوں، لہٰذا میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں، دوبارہ اگر آپ نے مجھے موقع دیا، میں کوشش کروں گا اپنی غلطیوں سے سبق سیکھوں، پہلے سے بہتر انداز میں آپ کی خدمت کروں … یقین کریں ان کے ان جذبات کی لوگ بہت قدر کرتے، …مگر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا جو تصادم کا راستہ ہے، اُنہوں نے غیرآئینی اقدامات کا سہارا لیتے ہوئے پہلے تو قومی اسمبلی کا اجلاس کئی روز تک روکے رکھا، اِس دوران وہ اپنی ساتھی اُن قوتوں کے پائوں میں بیٹھنے کے لیے تیار ہوگئے جن سے وہ ہاتھ ملانے کے روادار نہیں تھے، وہ ہرحال میں عہدے سے چمٹے رہنا چاہتے تھے، اُن کے بعض اقدامات سے یوں محسوس ہورہا تھا وہ اقتدار میں نہ رہے شاید دنیا میں ہی نہیں رہیں گے، اُنہوں نے کسی معاملے میں ’’سپورٹس مین سپرٹ‘‘ کا مظاہرہ نہیں کیا، اُن کا غصہ، اُن کی کم ظرفیاں خصوصاً ان کے کچھ وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کی بدتمیزیاں بڑھتی جارہی تھیں۔ اقتدار کھونے کے خدشے میں وہ بائولے ہوتے جارہے تھے، جیسے ہی اپنے کسی مخالف کو دیکھتے اُس کے پیچھے بھاگنا شروع کردیتے … یہ ہرگز غیرت مندی کا راستہ نہیں تھا، پھر اسے غیرت مندی کا راستہ بنانے کے لیے اچانک ایک مبینہ خط کو اُنہوں نے اپنی ڈھال بنا لای، اس خط کی کچھ حقیقت آئی ایس پی آر نے بیان کردی ، بقیہ حقیقت شاید سپریم کورٹ کے ذریعے باہر آجائے، مجھے بہرحال اس خط کی حقیت معلوم ہے، مگر خان صاحب کی ساتھ ایک ذاتی تعلق کے بھرم کو قائم رکھتے ہوئے میں اِس حقیقت کو من وعن بیان کرنے سے قاصر ہوں، میں چاہتا ہوں یہ حقیقت سپریم کورٹ یا کسی اور قابل اعتماد ادارے یا کمیشن کے ذریعے ہی باہر آئے۔(جاری ہے)!!

تبصرے بند ہیں.