وزیراعظم کے سامنے دو راستے نئے انتخابات یا قومی حکومت!

36

پاکستان کی معیشت سمیت جو بڑے مسائل ہیں ان کے حل کیلئے اصلاحات اور سٹرکچرل تبدیلیوں کی ضرورت ہے، تاکہ ان معاملات پراتفاقِ رائے ہو جائے لیکن یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہے۔ جس طرح کا سیاسی ماحول اس وقت ہے اور جس طرح کی تقسیم سیاستدانوں نے پیدا کر رکھی ہے، اتفاقِ رائے تو دور کی بات ہے اس میں تو اکٹھے بیٹھنا ہی ناممکن ہے۔ یہ ماحول تو ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہو۔لیکن اگر چاہیں تو مشکل ترین باتوں پر بھی اتفاقِ رائے ہو جاتا ہے جس کی ایک بہترین مثال 18ویں ترمیم ہے، اس میں وقت لگتا ہے۔ ماضی قریب میں وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے تجویز دی تھی کہ اگر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف کو شامل کیے بغیر پانچ سال کے لیے قومی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ان کی خواہش کے مطابق ایک قومی حکومت قائم ہوگئی ہے جو شاید بمشکل ایک سال بھی نہ نکال سکے اورملک الیکشن کی طرف جائے گا۔ لیکن اگر شہباز شریف کی تجویز کے مطابق اس قومی حکومت میں پاکستان تحریکِ انصاف شامل نہیں ہو گی، تو پھر یہ قومی حکومت کیسے ہوئی؟ ایسی حکومت کو آپ زیادہ سے زیادہ ایک مخلوط حکومت کہہ سکتے ہیں،تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اب ضروری قانون سازی اور فیصلے کرکے عام انتخابات ہونے چاہئیں۔ اس معاملے پر پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر سے مشاورت کرکے فیصلہ اجتماعی بصیرت سے کیا جائے۔ اصل حل قومی حکومت نہیں بلکہ اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ہے۔ پاکستان ٹوٹنے کی بڑی وجہ صوبائی خودمختاری کا تنازع تھا، 18ویں ترمیم نے اس مسئلے کو حل کیا ہے۔ اس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان میں اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے اور مسائل حل کیے جا سکتے ہیں اور یہی دیرپا حل ہے۔
وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد شہباز شریف کو داخلی و خارجی معاملات سمیت کئی چیلنجز درپیش ہیں اور انہیں ہر چیلنج کا برد باری اور سیاسی بصیرت سے سامنا کرنا پڑے گا ورنہ صرف 2 اضافی ووٹوں کے سہارے کھڑی حکومت کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے۔ نئی حکومت کے لیے موجودہ ملکی سیاسی صورت حال میں سیاسی استحکام پیدا کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ اسکے علاوہ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کو کنٹرول کرنے کے ساتھ نوکریوں کیلئے مواقع پیدا کرنا، صنعتوں کو بجلی و گیس کی فراہمی اور ٹیکس ریفارمز بھی نئی حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ پاکستان کے آئین میں قومی حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اگر اس کی سیاسی تشریح کے مطابق چلا جائے تو اسکا مطلب ہے کہ تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک ایسی حکومت بنائی جائے جسے پوری قوم کی حمایت حاصل ہو تاکہ درپیش مسائل کے حل کے لیے بڑے اور بنیادی فیصلے کیے جا سکیں۔ قومی حکومت درحقیقت ایک سیاسی اصطلاح ہے، یہ کوئی قانونی یا دستوری اصطلاح نہیں ہے۔ ملک میں جب بحران ہوتا ہے تو قومی حکومت کی بات سامنے آتی ہے لیکن ماضی قریب میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ البتہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی بات زیادہ ہوتی رہی ہے کہ ٹیکنوکریٹس یا ماہرین کی ایسی حکومت بن جائے جو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر فیصلے کر سکے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ طریقہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ سیاستدان تو اختلاف ہی کرتے رہتے ہیں اور انہیں مختلف شعبوں کے بارے میں زیادہ سمجھ بھی نہیں ہوتی اور ان میں صلاحیت بھی ضرورت سے کم ہوتی ہے۔ تو شاید ٹیکنوکریٹس کی حکومت سے ملک کی معیشت اور دیگر شعبے درست ہو سکیں۔ لیکن یہ بھی ایک غیر حقیقی سوچ ہے کیونکہ سیاستدانوں کے بغیر استحکام کا آنا ایک ناممکن سی بات ہے۔ ٹیکنیکل لوگ اگر یہ کر سکتے تو دنیا میں سیاسی نظام ہوتے ہی نہیں، اتفاقِ رائے سیاستدان ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ قومی حکومت کی اصطلاح جو سیاسی لغت میں استعمال کی جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر جتنی بھی جماعتیں ہیں وہ ساری قومی حکومت کا حصہ ہوتی ہیں۔ تو پھر ایک بڑی جماعت پی ٹی آئی جس کی اس وقت حکومت ہے اور بعد میں بھی وہ اگر اپوزیشن میں ہو گی تو ایک بڑی جماعت ہو گی۔ قومی حکومت بارے سوال ہے کہ قومی حکومت آئین کے کس آرٹیکل کے تحت قائم ہوگی اور اسکو کون منتخب کرے گا؟ آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت قومی اسمبلی جو وفاقی حکومت کو منتخب کرتی ہے، وفاقی حکومت قومی اسمبلی کی موجودگی میں قائم رہ سکتی ہے جس کی اپنی مدت پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔ البتہ اس سے پہلے وفاقی حکومت کو عدم اعتماد اور قومی اسمبلی کو آئین میں درج طریق کار کے مطابق تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 224 کے مطابق مدت پوری کرنے یا تحلیل، ہر دو صورت میں ساٹھ دنوں کے اندر اندر دوبارہ قومی انتخابات کرانے ہونگے۔ آئینی بندوبست میں تو صرف اور صرف پاکستانی عوام کو پانچ سال تک وفاقی حکومت منتخب کرنے کا اختیار ہے۔ یہ وہ چیلنجز ہیں جنکا شہباز شریف اور ان کی حکومت کو سامناہے، نئی حکومت ان مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ملکی موجودہ سیاسی صورتحال بتاتی ہے کہ نئی حکومت کیلئے حالات بالکل بھی آسان نہیں ہوں گے۔ جمہوری کلچر کا تقاضا تو یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے اورکوشش کی جائے کہ ان کو ساتھ ملا کر قانون سازی کریں اور پالیسیاں بنائیں۔ ان کا حکومت میں شامل ہونایانہ ہونااتنی اہمیت نہیں رکھتا۔ اسکی بڑی مثال 18ویں ترمیم ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس کے پاس تو سادہ اکثریت بھی نہیں تھی لیکن انہوں نے وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کیا اور کئی اہم اور اختلافی معاملات طے ہو گئے جن میں صوبائی خودمختاری بھی شامل ہے،لہٰذاقومی حکومت کے بجائے اس طرح کا اتفاقِ رائے پیدا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ملک کی اس وقت جو صورتحال ہے اس میں اگلے ڈیڑھ سال میں تو معاشی صورتحال اور دیگر معاملات بہتر نہیں ہو سکیں گے۔ اب بھی وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے دو راستے ہیں، ایک راستہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں آپس میں طے کر لیں کہ فوراً صدر کو اسمبلی توڑنے کا مشورہ دیں تاکہ اگلے انتخابات کا اعلان ہو جائے۔ دوسرا راستہ عمران خان کی پی ٹی آئی کے ساتھ تمام پارلیمانی سیاسی جماعتیں ملکرحکومت بنائیں اور ملک میں اتفاقِ رائے سے مسائل حل کریںجس کاایک مثبت پہلو بھی ہے کہ ہمارے پاس اگر اتنی اکثریت ہو جائے کہ ہم اکیلے بھی حکومت بنا سکتے ہوں، ہم تب بھی چاہیں گے کہ ہم دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں تاکہ اتفاقِ رائے وسیع ہو اور ملک ترقی کے راستے پر کامیابی سے چل سکے۔

تبصرے بند ہیں.