بے جرم و خطا؟

13

قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کپتان نے ایک دفعہ پھر سڑکوں کا رُخ کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں ایک سازش کے تحت حکومت سے ہٹایا گیا ہے اور اِس سازش کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔خان کے مطابق جو انتخابات میں اُنہیں ووٹ دیں، وہی غیرت مند اور محبِ وطن ہیں اور جو اُن کے نظریے سے متفق نہ ہوں، وہ ضمیرفروش اور غدار۔ اِس لحاظ سے وطنِ عزیز میں 70 فیصد سے زائد ووٹر غدار ٹھہرتے ہیں کیونکہ 2018ء کے عام انتخابات میں عمران خاں نے صرف 30 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے اور وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور مدد کے ساتھ۔
13 اپریل کو پشاور جلسے سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے کپتان نے کہا ’’عدلیہ سے پوچھتا ہوں رات کے وقت عدالت لگائی،کبھی میں نے کوئی قانون توڑا؟۔ کیا میں نے کبھی میچ فِکس کیا؟۔ میں نے کبھی اداروں یا عدلیہ کے خلاف قوم کو نہیں بھڑکایا۔ کیا جرم کیا تھا جو آپ نے رات کو 12 بجے عدالتیں لگائیں؟‘‘۔ اُن کا یہ بھی کہناتھا کہ وہ آزاد عدلیہ کے لیے جیل گئے۔ جی ہاں! کپتان محض تین چار دنوں کے لیے جیل گئے اور پھر منتیں ترلے کرکے رہائی پائی۔ کپتان نے شاید کبھی اپنی اداؤں پہ غور ہی نہیں کیااِسی لیے اُنہوں نے اپنے جذباتی خطاب میں وہ باتیں کیں جن کی سچائی کی گواہی تاریخ دیتی ہے نہ حالات وواقعات۔ یہ وہی عدلیہ ہے جس کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اُنہیں صادق وامین کا لقب دیا حالانکہ وہ صادق ہیں نہ امین۔ اُن کی پوری سیاسی زندگی جھوٹ کی آڑھت سجانے میں گزری لیکن اب اُن کے جھوٹ کا پردہ چاک ہو رہا ہے۔ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر کی کیبل پر اُنہوں نے ایک بیانیہ تشکیل دیااورقومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلا کر گواہی افواجِ پاکستان کی رکھی۔ پاک آرمی نے اِس جھوٹ پر مبنی بیانیے پر چند دنوں تک تو خاموشی اختیار کیے رکھی لیکن جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس سامنے آگئی جس نے عمران خاں کا بیانیہ ریزہ ریزہ کر دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں سازش کا لفظ نہیںاور نہ ہی تحریکِ عدم اعتماد کے پیچھے کوئی امریکی سازش ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی فرمایا کہ امریکہ نے ہم سے اڈوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔ اگر وہ مطالبہ کرتے تو ہم بھی ایبسولیوٹلی ناٹ ہی کہتے۔ اُنہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے توسیع مانگی نہ وہ اسے قبول کریں گے، وہ 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔عدم اعتماد کی تحریک کے دوران عمران خاں بار بار کہتے رہے کہ فوج نے مصالحت کے لیے اُن کے سامنے 3 آپشنز رکھے جنہیں اُنہوں نے مسترد کر دیا۔ میجر جنرل بابر
افتخار نے عمران خاں کے اِس بیان کو سفید جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصالحت کے لیے عمران خاں کی حکومت نے اُن سے رابطہ کیا تھا، ہم نے نہیں۔ یہ تین آپشنز بھی عمران خاں کی طرف سے ہی تھے جنہیں اپوزیشن نے مسترد کر دیا۔ پاک فوج کے ترجمان کی اِس وضاحت کے بعد عمران خاں کے جھوٹ کی آڑھت تو ختم ہوئی لیکن ہمیں یقین کہ اب وہ کسی نئے بیانیے کے ساتھ سامنے آئیں گے کیونکہ اُن کا مقصد انارکی پھیلانا ہے۔ کپتان کے اِس بیانیے کی زہرناکی کا یہ عالم کہ تحریکیوں کے خیال میں اگر عمران خاں نہیں تو پاکستان بھی نہیں۔ یہ پیغام پاکستانی پرچم اور پاسپورٹ جلا کردیا جا رہا ہے۔ اب قارئین خود ہی فیصلہ کر لیں کہ غدار کون ہے؟۔
خاںصاحب کے امین ہونے کی ایک شہادت تو ’’توشہ خانہ‘‘ دے رہا ہے جہاں ’’لُوٹ سیل‘‘ لگا کر کپتان سارے تحائف ڈکار گئے۔ 2018ء کے ترمیم شدہ قواعد کے مطابق توشہ خانہ کے کسی بھی تحفے کی 50 فیصد قیمت ادا کرکے ملکی سربراہ وہ تحفہ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ خاںصاحب کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ وہ اپنی ہی تشکیل کردہ ایولیوایشن کمیٹی کے ذریعے پہلے کسی تحفے کی بہت کم قیمت لگواتے اور پھر معمولی رقم ادا کرکے وہ تحفہ مہنگے داموں بازار میں بیچ دیتے۔ مثلاََ وہ گھڑی، انگوٹھی اور ہار جس کی قیمت ایولیوایشن کمیٹی نے 14 کروڑ لگائی اُس کے صرف 2 کروڑ ادا کرکے 18 کروڑ میں بیچا گیا۔ ہمارے معاشرے میں کسی بھی تحفے کو دل سے لگا کر رکھا جاتا ہے لیکن ’’ایماندار‘‘ نے اِن غیرملکی تحائف کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ ابھی تو فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنا باقی ہے اور اِس کے علاوہ بھی اور بہت کچھ۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ وہ 2 کروڑ آئے کہاں سے جبکہ سوائے تنخواہ کے اُن کا کوئی ذریعۂ آمدن نہیں۔
یوں تو کپتان ہر تقریر میں عدلیہ آزادی تحریک کے دوران اپنی گرفتاری کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے لیکن اُن کے آئین وقانون کے احترام کا یہ عالم ہے کہ جس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو اُنہوں نے ’’ہیرو‘‘ قرار دیا اُس کے خلاف تو آرٹیکل 6 کی کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اُس نے آئین کی صریحاََ خلاف ورزی کی۔ کیا ایسے شخص کو ہیرو قرار دینا جرم نہیں ؟۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی معزز بنچ نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ 9 اپریل کو صبح ساڑھے 10 بجے پارلیمنٹ میں تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔ پھر سب نے دیکھا کہ مختلف حیلوں بہانوں سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کرتا رہا۔ جب رات کے 10 بج گئے تو چیف جسٹس سپریم کورٹ نے عدالت کھولنے کا حکم صادر فرمایا، پارلیمنٹ کے گیٹ پر قیدیوں کی وین پہنچا دی گئی اور فوجی گاڑیاں پارلیمنٹ ہاؤس کے گرد گھومنے لگیں۔ بعد اَز خرابیٔ بسیار رات پونے 12 بجے اسد قیصر نے استعفیٰ دیا اور ایازصادق نے عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کروا کے خاںصاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے پر مُہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ کیا صبح ساڑھے 10 بجے سے رات پونے 12 بجے تک جو تماشا لگایا گیا وہ عدلیہ کے فیصلے کی صریحاََ خلاف ورزی نہیں تھی؟۔ تحقیق کہ خاںصاحب کے لیے قانون توڑنا محض کھیل تماشا ہے۔ اُن کے جرم کی داستانیں تو 2014ء کے دھرنے سے ہی شروع ہو گئی تھیں لیکن اِس میں سارا قصور نوازلیگ کا ہے جس نے دَرگزر کی راہ اپنائے رکھی۔ ہم تو اُس وقت بھی اپنے کالموں میں کہتے رہے کہ
پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سدھانے کی سوچتے ہو
بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وہ اپنے انداز دیکھ لینا
اگر کوئی شخص سول نافرمانی کا اعلان کرے، پی ٹی وی پر قبضہ کرے، پارلیمنٹ کے گیٹ توڑے، پولیس سٹیشن پر حملہ آور ہو کر اپنے کارکُن چھڑوائے اور وزیرِاعظم ہاؤس پر چڑھائی کرے لیکن پھر بھی اُس کے خلاف آرٹیکل 6  کے تحت کارروائی نہ ہو تو پھر یہ تو ہونا ہی تھا۔کپتان کی یہ سوچ پختہ ہو چکی کہ جب 2014ء کے دھرنے میں اتنا کچھ کرنے کے باوجود کوئی اُن کا بال بیکا نہیں کر سکا تو اب کیا تیر مار لیں گے لیکن وہ بھول گئے کہ 2014ء میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک گروپ اُن کی پُشت پر تھا اور 2018ء کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا دستِ شفقت اُن کے سر پر۔ اب وہ سب خواب وخیال ہوا۔ اب وہ جو کھیل کھیل رہے ہیں، عنقریب اُس کے بھیانک نتائج کا سامنا بھی کریں گے۔ خاںصاحب نے فرمایا ’’سازش کے تحت میری حکومت ہٹائی گئی۔ اداروں سے پوچھتا ہوں کیا نیوکلیئر پروگرام کی یہ ڈاکو حفاظت کر سکتے ہیں؟۔ ہماری سالمیت اِن چوروں کے ہاتھوں میں ڈال رہے ہو۔ کوئی خوفِ خُدا نہیں ہے‘‘۔ عرض ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی اور نوازلیگ کے بانی میاں نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کیے۔ جن دنوں قومی ادارے نیوکلیئر طاقت بننے کی بھرپور تگ ودَو کر رہے تھے، اُن دنوں خاںصاحب حکومت سے پلاٹ کی بھیک مانگ رہے تھے۔
حرفِ آخر یہ کہ پنجاب اسمبلی کے اندر تحریکِ انصاف کے اراکینِ اسمبلی نے پرویزالٰہی کی قیادت میں آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے انارکی کی بھرپور کوشش کی۔ ڈپٹی سپیکر پر لوٹے برسائے گئے، بال نوچے گئے اور کرسی سے گرا کر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کی۔ بعد ازاں صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے سادا کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار اسمبلی بلڈنگ میں داخل ہوگئے۔ ہمارا چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے سوال ہے کہ کیا وہ اِس غنڈہ گردی پر ایکشن لیں گے کیونکہ اُنہی کے حکم پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی سربراہی میں وزیرِاعلیٰ کا انتخاب ہونا تھا۔ یہ تو طے تھا کہ حمزہ شہباز پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہو جائیں گے کیونکہ وہ 203 ارکانِ کے ہمراہ صوبائی اسمبلی میں آئے، حمزہ شہباز کو پیشگی مبارک باد۔

تبصرے بند ہیں.