نوازشریف کی خدمت میں!

42

اگلے روز میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ دیکھ رہا تھا جو شاید میرے عزیز چھوٹے بھائی طارق بزمی نے اپنی فیس بک وال پر شیئر کیا تھا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے کوئی پولیٹیکل اسسٹنٹ یا ایجنٹ یہ فرما رہے تھے’’ ہم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہوں کا سلسلہ شروع کررہے ہیں۔ ‘‘ ظاہر ہے یہ مظاہرے ’’نونیوں‘‘ کی جانب سے ہوں گے ۔ اِس کی وجہ وہ یہ بتارہے تھے کہ چونکہ ’’جنونیوں‘‘ نے یعنی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھی میاں نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاجی سلسلہ شروع کررکھاہے لہٰذا ہم پر لازم ہے اِس کا جواب جمائما کے گھر کے باہر مظاہرے کرکے دیں‘‘۔ نواز شریف کے اِس پولیٹیکل ایجنٹ کی اِس سے بھی بُری بات مجھے یہ لگی اُنہوں نے فرمایا ہم اُس جگہ مظاہرے کریں گے جہاں عمران خان کے بچے رہتے ہیں، … میرے خیال میں اب جبکہ پاکستان میں نون لیگ کی ایک بار پھر حکومت بن چکی ہے، جس کا آج سے چھ آٹھ مہینے پہلے کوئی خطرہ یا خدشہ نہیں تھا۔ اِس سے قبل جب 1999ء کی ’’بارہویں شریف‘‘ کو یعنی بارہ اکتوبر کو جنرل مشرف نے نواز شریف سے اقتدار چھینا اور بعد میں گرفتاری کے بعد اُنہیں کچھ بیرونی قوتوں کی مداخلت یا سفارش پر جدہ بھجوا دیا جس کے لیے ایک دس سالہ تحریری معاہدہ بھی ہوا کہ اِس دوران سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، اُن کے جدہ جانے کے بعد پاکستان میں نون لیگ کو جو حشر ہوا اُسے دیکھتے ہوئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا یہ اب دوبارہ اقتدار میں آئیں گے، سب اِسی یقین میں مبتلا تھے اُن کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی ہے، مگر سب نے دیکھا یہ ایک بار پھر اقتدار میں آگئے، اُس کے بعد 2018ء میں اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرلینے کے بعد ایک بار پھریہ تاثر پیداہوگیا اب یہ کبھی اقتدار میں نہیں آئیں گے، نواز شریف باہر جاکر بیٹھ گئے، شہباز شریف یہاں اپنے بیسیوں کرپشن کیسز میں عدالتوں کے چکر لگالگا کر چکرانے لگے، اور مریم شریف کا جو بیانیہ تھا اُس کے بعد کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا عمران خان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ شہباز شریف وزیراعظم بن جائیں گے، اس کے لیے مریم نواز بی بی نے اپنے بیانیے کی جو ’’قربانی‘‘ دی یہی اس ملک کی اصل سیاست ہے جسے انتہائی گندی سیاست بھی کہا جاسکتا ہے، مگر کیا کریں مریم نواز شریف سے لے کر ان کے بزرگوں تک اور عمران خان سے لے کر ان کے ساتھیوں تک اِسی قسم کی سیاست کو ہی سب نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ ’’بے ضمیری‘‘ اُن سب کے ’’ایمان‘‘ کا باقاعدہ حصہ ہے…بہرحال اب شہباز شریف وزیراعظم بن گئے ہیں، یعنی یہ پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آگئی ہے، اب یہ کب تک اقتدار میں رہتی ہے؟ خصوصاً موجودہ سیاسی افراتفری میں کب تک اقتدار میں رہتی ہے؟ اس کا فیصلہ آنے والے چند دنوں میں یقیناً ہوہی جائے گا، مگرفی الحال یہ پارٹی (نون لیگ) اقتدار میں ہے تو اس پر لازم ہے ایک بار پھر ویسی بداخلاقیوں کا مظاہرہ نہ کرے جو پہلے سے اُن کی ’’خصوصی شناخت‘‘ہے، جس کی یادیں آج بھی تازہ ہیں، یہ زرداری اور بلاول بھٹو ہی کا حوصلہ یا کوئی پلاننگ ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو بی بی کے حوالے سے اور خود اپنے حوالے سے شریف برادران خصوصاً شہباز شریف کے کہے ہوئے انتہائی نازیبا الفاظ بھول جاتے ہیں ورنہ غیرت مند لوگ تو ان الفاظ کی بنیاد پر ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے، … ہماری سیاست میں غیرت کا لفظ ویسے ہی اب بے معنی ہوکررہ گیا ہے، ایک رُکن اسمبلی سے اگلے روز میں نے کہا ’’کچھ غیرت کرو‘‘، اُس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’اوہ کیہ ہوندی اے ؟… (وہ کیا ہوتی ہے)میں اُس کی یہ بات سن کر سوچ میں پڑ گیا، میں نے عرض کیا ’’کل میں کسی سے پوچھ کر آپ کو بتائوں گا کیونکہ بطور صحافی صحیح طرح مجھے بھی نہیں معلوم ’’اوہ کیہ ہوندی اے؟‘‘…میں جمائما خان کے گھر کے باہر احتجاج کو ایک طرح کی بے غیرتی ہی سمجھون گا، وہ ایک گریس فل خاتون ہے، خدا کی قسم عمران خان اگر اس گریس فل عورت کو طلاق نہ دیتا آج وہ اور ہی طرح کا عمران خان ہوتا، کم ازکم اتنا بداخلاق نہ ہوتا جتنا وہ آج ہے، جمائما خان پر منی لانڈرنگ کا کوئی کیس نہیں، وہ اپنے ملک سے بھاگ کر نہیں آئی ہوئی، اس نے کبھی سیاست نہیں کی، عمران خان کے بچے بھی کبھی سیاست میں نہیں آئے، یہ عمران خان کا اعزاز ہے کہ اس نے اپنے خاندان کا کوئی خونی رشتہ سیاست میں نہیں آنے دیا، جمائما خان یا اُن کے بچوں نے کبھی پاکستانی سیاست میں منہ ماری نہیں کی، کبھی کوئی بیان نہیں دیا، میری اطلاع کے مطابق جب سے عمران خان وزیراعظم بنا اس کے بچے کبھی پاکستان نہیں آئے، ورنہ گزشتہ کئی برسوں سے وہ اپنی چھٹیاں پاکستان میں اپنے والد (عمران خان ) کے ساتھ پہاڑی علاقوں پر گزارتے تھے، جہاں خان صاحب اُنہیں پاکستانی خوبصورتی بارے گھنٹوں لیکچر دیتے تھے، … ان حالات میں کوئی تک نہیں بنتا نونیئے یعنی نون لیگ کے ورکر یا کچھ رہنما جمائما خان کے گھر کے باہر جاکر تماشا لگائیں، اور ایسا ماحول قائم کریں جس سے لوگوں کے دل ودماغ میں سویا ہوا یہ احساس ایک بار پھر جاگ جائے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار میں ہوں تو ہتھی پڑتے ہیں اقتدار میں نہ ہوں تو پیری (پائوں) پڑتے ہیں ۔…مجھے نہیں معلوم نواز شریف اپنے ’’پجاریوں‘‘ کے اس منصوبے سے آگاہ ہیں یا نہیں یا اس معاملے میں ان کی آشیر باد نون لیگیوں کو حاصل ہے یا نہیں ؟اگر یہ سارا فساد ان کی آشیر باد سے ہورہا ہے پھر عمر کے آخری حصے میں ایسی سوچ سے ان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ ویسے پتہ نہیں کیوں مجھے یقین ہے وہ اس منصوبے سے اگر بروقت آگاہ ہوگئے وہ اسے روک دیں گے، اگر ماضی میں اپنی غلطیوں سے انہوں نے واقعی کچھ سبق سیکھا ہے تو پی ٹی آئی کے کچھ کارکنوں کے مقابلے کی یہ ’’ جوابی گندگی‘‘ وہ ہرگز نہیں پھیلنے دیں گے، پاکستان میں اب ان کی حکومت ہے، جب اللہ بار بار طاقت عطا کررہا ہو، تو انسان کو اپنا ظرف بڑا کرلینا چاہیے، یہ بھی اللہ کی شکرگزاری کا ایک طریقہ بلکہ سب سے بڑا طریقہ ہی یہی ہے، جو ہمارے اکثر لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں، خان صاحب کو بھی تقریباً ہر ملاقات میں، میں یہ سمجھاتا رہا، مگر بدقسمتی سے بجائے اس کے وہ اپنا ظرف اپنے منصب کے مطابق کرتے اُلٹا اُنہوں نے اپنا منصب اپنے ظرف کے مطاب کرلیا، …اب شہباز شریف اس منصب پر ایک تو اس لیے نہیں جچتے ان پر منی لانڈرنگ کے کچھ کیسز ہیں، اور دوسرے اس لیے بھی نہیں جچتے کہ عمران خان نے اپنی بے شمار نااہلیوں، کم عقلیوں اور کم ظرفیوں سے اس منصب کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے اب اس پر براجمان ہونا ہرگز اعزاز کی بات نہیں رہی، یہ اب شیخ رشید اور شہباز گل کے لیول کا ایک منصب ہے، پاکستان کے بیس بائیس کروڑ کے ’’ہجوم‘‘ کو سزا کے طورپر اس منصب کے لیے ایسے ہی لوگ اب ملتے رہیں گے۔!!

تبصرے بند ہیں.