پی ٹی آئی کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کی بازیابی کی درخواست، پولیس نے عدالت میں رپورٹ جمع کرا دی

38

لاہو: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 منحرف اراکین اسمبلی کو بازیاب کروانے سے متعلق کیس میں قائم مقام سی سی پی او لاہور نے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق قائم مقام سی سی پی او لاہور نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس کو کسی ایم پی اے کے اغوا یا غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، جیسے ہی کسی ممبر صوبائی اسمبلی یا اس کی فیملی سمیت دیگر کی کوئی شکایت موصول ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 4 ایم پی ایز کو فون کر کے پوچھا گیا لیکن انہوں نے اغوا یا غیر قانونی حراست کی تردید کی، ایم پی اے عظمیٰ کاردار اور اعجاز آنگسٹن نے اغوا کی تردید کی جبکہ مزید ممبران صوبائی اسمبلی سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جسٹس وحید خان نے صوبائی وزیر سبطین خان کی درخواست پر کارروائی 18اپریل تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ سبطین خان نے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ حمزہ شہباز کی جانب سے پی ٹی آئی ممبران کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، ممبران صوبائی اسمبلی کو اغوا کرتے سب نے دیکھا الیکٹرانک میڈیا پر بھی نجی یوٹل میں ان کو دکھایا گیا۔ 
پاکستان تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اسمبلی 3 اپریل کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے اکٹھے ہوئے لیکن اجلاس 6 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا جس کے بعد حزب اختلاف کے ارکان کی جانب سے ان پر حملہ کیا گیا اور اسمبلی کے احاطے سے نکلتے وقت انہیں اغوا کیا گیا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ سی سی پی او لاہور کو 24 صوبائی اسمبلی ممبران کو بازیاب کر کے پیش کرنے کا حکم دے۔ 

تبصرے بند ہیں.