اسلام آباد ہائیکورٹ کا شہزاد اکبر اور شہباز گل کا نام سٹاپ لسٹ سے فوری نکالنے کا حکم

5

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام سٹاپ لسٹ سے فوری نکالنے کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ کسی کو ہراساں نہ کیا جائے۔ 
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے، کیا ملک میں مارشل لاءلگ گیا تھا؟ ایف آئی اے کب سے اتنی آزاد ہو گئی تھی کہ حکومتی لوگوں کے خلاف انکوائری شروع کی؟ 
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ عدالت اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دے گی، حکومت بالکل انتقامی کارروائی نہیں کرے گی۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 18 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران شہزاد اکبر اور سابق وفاقی وزیر شہبازگل کا نام نو فلائی لسٹ میں ڈالنے کا نوٹیفکیشن ایک روز کیلئے معطل کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کئے تھے۔ 
 دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں کیا معاملہ ہے، عدالت بلیک لسٹ کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور ہمارے فیصلے کے تحت تو نام اس طرح لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ 
شہزاد اکبر اور شہباز گل کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوئی وزیراعظم بھی ملک میں نہیں تھا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ نوٹس جاری کر کے کل پوچھ لیتے ہیں، وفاقی حکومت کے علاوہ کوئی نام بلیک لسٹ میں ڈال نہیں سکتا۔ 

تبصرے بند ہیں.