آئین، پارلیمنٹ، انصاف کی جیت

24

عجیب اتفاق ہے کہ 10 اپریل  1973ء کو پاکستان کا آئین منظور ہوا اور 49 سال بعد اسی تاریخ کو آئین توڑنے والوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری دے دی گئی۔ سیانوں نے برملا اسے آئین، پارلیمنٹ اور انصاف کی جیت قرار دیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تمام غیر آئینی حربے ناکام ہوگئے۔ عمران خان کی حکومت گئی، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ’’اپنوں‘‘ کوپیارے ہوگئے۔ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے دھکا کس کس نے دیا۔ تین مشیروں، تین وزیروں نے ڈبو دیا۔ کس آسانی سے آئے تھے کس مشکل سے گئے۔ استاد ذوق نے کہا تھا ’’آنا بھی ہے کیا آنا جانا بھی ہے کیا جانا‘‘ 9 اپریل صبح ساڑھے دس بجے سے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس رات 2 بجے تک جاری رہا سپیکر نے چار بار ملتوی کیا۔ اس دوران ہوش ربا داستانیں اور سنسنی خیز کہانیاں، افواہیں گردش کرتی رہیں وہ آرہے ہیں وہ جا رہے ہیں دروازے کھول دیے گئے عملہ پہنچ گیا۔ کہانیاں خون گرماتی رہیں مگر سپیکر کے مستعفی ہوتے ہی ہیلی کاپٹر سے بنی گالہ پہنچ گئے۔ ’’اڑے تھے ضد پہ کہ سورج بنا کے چھوڑیں گے پسینے چھوٹ گئے اک دیا بنانے میں‘‘ دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ جہاں رہیں خوش رہیں۔ منشیات کے عادی دو دوست جھومتے جھامتے لڑکھڑاتے جا رہے تھے ایک کنوئیں میں گر گیا۔ دوسرے نے اپنے آپ کو تنہا پا کر آواز دی ’’بھائی بشیرے کہاں ہو‘‘ بشیرے نے جواب دیا ’’کنوئیں میں گر گیا ہوں‘‘ دوسرے نے لمبی سانس لے کر کہا۔ ’’جہاں بھی رہو خوش رہو‘‘ اور آگے چل دیا۔ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ملکوں ملکوں حکومتیں بدلتی ہیں۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایک ووٹ کم ہونے سے اقتدار سے محروم ہوگیا۔ یہاں عمران خان کی حکومت کی تبدیلی عالمی مسئلہ بن گئی۔ لیٹر گیٹ سکینڈل امریکا کی جانب سے چار بار تردیدیں ’’بخدا ہم نے جلایا نہیں پروانے کو‘‘ پوٹن کے بیانات کہ عمران کو روس کی حمایت کرنے کی سزا دی گئی۔ بیان نا پختہ ذہن کی سوچ ’’تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو‘‘ تبدیلی تحریک عدم اعتماد پاکستان کا اندرونی معاملہ اس میں غیر ملکی مداخلت کیوں؟ مقطع میں آگئی تھی سخن گسترانہ بات۔ عمران خان اپنی چند خوبیوں سے اقتدار میں آئے تھے بیشتر کمزوریوں
سے گھر چلے گئے۔ محرومی کی بنیادی وجہ ’’جس کا چہرہ ہی نہیں تھا اسے آئینہ دیا تیری بخشش کے ہیں انداز نرالے کتنے‘‘ کئی بار عرض کیا کہ جب کبھی بولنا سوچ کر بولنا مدتو سوچنا مختصر بولنا۔ ڈال دے گا ہلاکت میں اک دن تجھے اے پرندے تیرا فی البدیہہ بولنا۔ تقریروں کے ڈھیر، اجلاس پر اجلاس، عملی اقدامات ناپید، نتائج نامعلوم مگر گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران جو سمجھنی تھی وہی بات نہ سمجھی اس نے اپنی ہر بات کے مفہوم نکالے کتنے اس تمام عرصے میں چوروں ڈاکوئوں کی رٹ لگاتے چہرے کارنگ اڑ گیا۔ اپوزیشن رہنمائوں سے مشاورت کجا دیکھنے سے گریزاں منفی طرز عمل سے پوری اپوزیشن دشمن، کل کے دشمن دوست بن کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے شہباز شریف کی مفاہمتی طبیعت زرداری کا سیاسی الٹ پلٹ کا تجربہ بلاول کا جوش، ولولہ اور مولانا فضل الرحمان کی استقامت نے ملکی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کردیا اور آئین و قانون سے کھلواڑ کرنے والوں کو تاریخ کے ڈسٹ بن (کوڑے دان) میں پھینک دیا پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے حکومت کے خاتمے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ عمران حکومت کے خاتمہ کی وجوہات میں ان کی اپنی ہٹ دھرمی غلط طرز حکمرانی، اپوزیشن کو برداشت نہ کرنے کا رویہ، محاذ آرائی آمرانہ طبیعت، مہنگائی اور پالیسیوں کے حوالے سے پے در پے غلطیاں شامل تھی۔ کسی کی کیا غلطی، اوپر والوں کا کیا دوش کئی بار سمجھایا ان کی گلی مت جانا مگر وہیں گھسے رہے اتحادیوں کی بیساکھیوں پر قائم حکومت کے سربراہ کو تو انتہائی احتیاط اور چاروں کھونت آنکھیں کھول کر قدم بڑھانے چاہئیں یہاں ساڑھے تین سال ذہن اور سوچ کی سوئی بلیک میل نہیں ہوں گا این آر او نہیں دوں گا۔ مر بھی جائوں تو چوروں ڈاکوئوں کو نہیں چھوڑوں گا (پتا نہیں کیسے) اتحادیوں سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہ کیے گئے ایم کیو ایم، ق لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی، وطن پارٹی اور دیگر جماعتوں کو اتنے عرصہ بعد بھی گلہ رہا کہ انہیں کچھ نہیں ملا وعدوں کی تکمیل کا دعویٰ اس نے تو کر ڈالا تھا بات سمجھ میں کیسے آئے ہم سب تو محروم ہیں اب تک ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی کے مسئلہ پر تمام جماعتوں سے زیادہ غور و فکر کیا سب سے ملے اپوزیشن سے متعدد ملاقاتیں ظہرانے، عشائیے، وزیر اعظم کی چائے بھی پی بالآخر مایوس ہو کر اپوزیشن کی حمایت کا یہ کہتے ہوئے اعلان کیا کہ منکشف جلدی سے ہوتے ہی نہیں ہیں ہم لوگ ہم اگر ہاتھ اٹھالیں تو حکومت گر جائے۔ اور واقعی ان کے ہاتھ اٹھاتے ہی حکومت گر گئی۔ سات سیٹوں کا فیصلہ، فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ق لیگ مخمصے میں پھنسی رہی اور جال میں پھنس گئی۔ کبھی بلیک میل نہ ہونے والا وزیراعظم پنجاب حکومت بچانے کے لیے چودھریوں کے ہاتھ بلیک میل ہوا اور اپنے پیارے اکرم پلس کی قربانی دینے پر آمادہ ہو گیا۔ مگر عثمان بزدار کی قربانی رائیگاں گئی جہانگیر ترین اور علیم خان گروپوں کی حمایت نے حمزہ شہباز کی پوزیشن مستحکم کردی شاید اسی وجہ سے پرویز الٰہی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات پر مجبور ہوئے کہتے ہیں ایک شخص کی گائے بیمار ہوگئی اس نے منت مانی کہ گائے صحت یاب ہوجائے تو بکرے کی قربانی دوں گا گوشت خور دوستوں نے صبح بکرا قربان کرا دیا شام کو گائے مر گئی، خود رہے۔

تبصرے بند ہیں.