عثمان بزدار کی آخری خواہش اور امریکی سازش

33

عمران خان وزیر اعظم نہیں رہے ، پاکستان میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت مرکز میں ختم ہو چکی ہے او ر اب نظرآ رہا ہے کہ باقی صوبوں میں بھی اس کے لئے حالات اچھے نہیں رہیں گے، ایک مخلوط نئی حکومت مرکز میں حلف لے گی تو اس کے ساتھ ہی بیوروکریسی کی ایک نئی ٹیم بھی انتظام و انصرام حکومت سنبھالے گی ، ایک آدھ روز میں اس بیوروکریٹک ٹیم کا فیصلہ ہو جائے گا،دیکھتے ہیں کہ وہ بیوروکریٹک ٹیم کیسی ہو گی ؟پنجاب ، خیبر پختونخوا ،آزاد کشمیر اور جی بی میں بھی حکومتیں بنانے کے لئے متحدہ اپوزیشن کی طرف سے سیاسی توڑ پھوڑ شروع ہو جائے گی، ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تو پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں مگرآئینی ذمہ داریوں کی وجہ سے اگلے وزیر اعلیٰ کی آمد تک کام جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے پنجاب میں کیسا کام کیا اس پر تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا مگر انہوں نے اپنے طور پر اتنے چیف سیکرٹری ،آئی جی اور دوسرے افسران تبدیل کیے جن کی وجہ سے ان کا نام یقینی طور پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جا ئے گا ،چیف سیکرٹری اور آئی جی کو تو وہ اپنی واسکٹ کی طرح بدلتے تھے۔سابق وزیر اعظم عمران خان ،ہر چھ ماہ بعد ان کی خواہش پر ایک کے بعد ایک نیا چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب لگا دیتے تھے اس سلسلے میں میجر اعظم سلیمان ، یوسف نسیم کھوکھر اور جواد ملک جیسے اچھے اچھے افسران بھی بغیر کسی وجہ کے بیک جنبش قلم تبدیل ہو گئے ۔ مجھے سابق وزیر اعظم سے سخت گلہ ہے کہ انہوں نے جاتے جاتے ہمارے عثمان بزدار کی ایک دفعہ پھر چیف سیکرٹری اور آئی جی بدلنے کی آخری خواہش پوری نہیں کی ، چیف سیکرٹری کامران علی افضل اورآئی جی راو سردار خوش نصیب ثابت نہیں ہوئے کہ وہ وزیر اعلیٰ بزدار کے ہاتھوں تبدیل ہونے کا اعزاز حاصل کر تے، اس پر وہ اپنی باقی ماندہ سروس میں افسوس کا ہی اظہار کرتے رہیں گے۔ مجھے وزیر اعلیٰ بزدار کے پرنسپل سیکرٹری عامر جان سے بھی گلہ ہے کہ انہوں نے پنجاب کے موجودہ دونوں بڑے افسران کو تبدیل کرنے اور انکی جگہ نئے افسران کے ناموں کی سمری تیار کرنے سے بھی انکار کردیا جس کے بعد یہ کام وزیر اعلیٰ بزدار کے پی ایس او حیدر کے ناتواں کندھوں پر آن پڑا۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ابھی وہ وزیر اعلیٰ ہیں تو یہ حالات ہیں کل کلاں کو تو کسی سیکشن افسر نے ان کا فون بھی نہیں سننا اور جہاں تک انکی اپنی پارٹی کے لوگوں کا تعلق ہے وہ تو عمران خان کے جانے کا ایک سبب بھی ان کو گردانتے ہیں۔میرے خیال میں عثمان بزدار کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ،عمران خان کو ووٹ آؤٹ ہونے سے پہلے عثمان بزدار کی یہ آخری خواہش ضرور پوری کرنا چاہئے تھی ،دوسری طرف وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب کے لئے جن تین تین افسروں کا پینل تجویز کیا تھا ،ان میں سے بھی اکثر نے وزیر اعلیٰ کو اس آخری اعزاز ملنے میں رکاوٹیں ڈالیں ،اکثر نے تو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری عامر جان کو فون کر کے اس پر احتجاج بھی کیا کہ انہیں اس اعزاز کے لئے منتخب کرتے وقت بتایا کیوں نہیں،وہ اس اعزاز کے لئے تیاری تو کرتے،خود عامر جان بھی مجھے اچھے نہیں لگے جو اس سارے معاملے میں چھٹی پر جانے کے لئے بے تاب ہو رہے تھے۔
اس سارے معاملے سے اندازہ ہو گیا ہے کہ بیوروکریسی نے تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں پنجاب میں کس طرح کام کیا ،سچ یہ کہ آج تحریک انصاف حکومت کو جس متوقع صورتحال کا سامنا ہے اس کی بڑی وجہ بھی بیوروکریسی کو اعتماد میں نہ لینا تھا اور اس کے تجربات اہلیت سے استفادہ نہ کرنا تھا،عمران خان نے ٹوٹل انحصار اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر کیا جس کے نتیجے میں آج ان کو یہ دن دیکھنا پڑے۔
ایسے میں سوال اٹھے گا کہ عمران خان سیاسی طور پر کیا کر سکتے تھے کہ وہ اپنی مدت پوری کرنے والے پہلے وزیرِ اعظم بن جاتے؟فیصلہ آپ نے کرنا ہے مگر اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں ماضی کا سفر کرنا پڑے گا ۔محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی کمان اچانک سنبھالنے والے آصف علی زرداری کے سیاسی داو ٔپیچ کا ہر کوئی معترف ہے، انکی اکثرسیاسی چالیں کامیاب رہی ہیں، کچھ لوگ ان کی سیاست کے شاید حامی نہ ہوں لیکن ان کی چالوں کے وہ بھی معترف ہیں،حالیہ بحران میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ، 2008 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جیت کے بعد اکثر سیاسی پنڈتوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے آصف زرداری نے وزارت عظمیٰ کے بجائے صدارت کا عہدہ اپنے لیے منتخب کیا، یعنی ایک سیاسی حکومت اور اس کے صدر بنے جس نے 2008 سے لے کر 2013 تک ملکی تاریخ میں پانچ سال مکمل کیے تھے۔ پیپلز پارٹی کے اس دور کو ترقی کے اعتبار سے برا دور مانا جاتا ہے، ملکی پیداوار کم ہوئی اور بجلی کی شدید قلت پیدا ہوئی لیکن زرداری صاحب نے اپنے پانچ سال مکمل کئے۔پاکستان کی بحرانوں سے اٹی سیاسی تاریخ میں میں اگر کوئی سب سے کمزور عہدہ رہا تو وہ ہے وزیر اعظم، حکومت چاہے بھاری مینڈیٹ والی نواز شریف کی ہو یا سادہ اکثریت والی عمران خان کی ،اس کی وجوہات کا بھی سب کو پتہ ہے۔
عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت بدلنے کے پیچھے امریکی ہاتھ کی موجودگی میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کتنا، اس کا تصفیہ تو آنے والا وقت کرے گا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے سرد جنگ کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں 72 بار حکومتیں بدلنے کی کوشش کی ہے، اور اس کا پہلی بار انکشاف وکی لیکس میں سامنے آیا تھا،1947سے 1989 کے دوران امریکہ نے 72 حکومتوں کو بدلنے کی کوشش کی، وکی لیکس کے مطابق ان میں سے 66 آپریشنز خفیہ تھے جبکہ چھ ایسے تھے جہاں امریکہ نے سرعام حکومتیں گرانے کی کوششیں کیں، یہ تمام کے تمام آپریشنز سرد جنگ کے دوران کیے گئے تھے جس میں ایک جانب اگر روس کوئی حکومت بنا رہا تھا تو دوسری جانب امریکہ اسی حکومت کو گرانے کی کوشش میں شریک تھا۔
وکی لیکس کے مطابق 72 میں سے صرف 26 حکومتوں کو بدلنے میں امریکہ کو کامیابی ملی جبکہ 40 میں وہ ناکام رہا، امریکہ کی جانب سے 36 حکومتیں گرانے کی کوششیں مختلف عسکری و سیاسی گروہوں کی مدد سے کی گئیں، سیاسی طور پر صرف پانچ میں کامیابی ملی جبکہ براہ راست فوج کی مدد سے اسے 14 حکومتیں گرانے میں کامیابی ملی، حکومتیں گرانے کے 16 واقعات ایسے تھے جہاں انتخابات کے ذریعے من پسند پارٹیوں کو فنڈز دے کر اور مخالف حکومتوں کے خلاف پراپیگنڈا کر کے انہیں ختم کیا گیا۔

تبصرے بند ہیں.