پاکستان کی تاریخ کا سب سے نااہل وزیر اعظم

66

ملالہ یوسف زئی کا ماننا ہے ’’جہالت کی وجہ سے سیاستدانوں کو عوام کو بے وقوف بنانے اور بدترین انتظامیہ کو دوبارہ منتخب ہونے کی اجازت ملتی ہے‘‘۔
سب سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں وزراء اعظم کو ہٹانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے اور اس کی وجوہات کیا ہوتی ہیں؟ ایوان زیریں میں جس شخص کے پاس عوامی نمائندوں کے زیادہ ووٹ ہوتے ہیں اس کو قائد ایوان یعنی وزیر اعظم بنا دیا جاتا ہے اور جب ان عوامی نمائندوں کی حمایت اسے حاصل نہیں رہتی تو اس کو قائد ایوان کے منصب سے ہٹنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے وزراء اعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور ایک وزیر اعظم کو ہٹانا اور اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیونکہ ایک مشکل عمل ہوتا ہے اس لئے پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہ ہو سکی اور یہ اعزاز عمران خان کو حاصل ہو گیا۔ 1989ء میں جب نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہوا کرتے تھے تو وزیر اعظم بینظیر بھٹو کیخلاف عدم اعتماد لائی گئی جو 12 ووٹوں کی کمی سے ناکام ہوئی، دوسری عدم اعتماد کی تحریک وزیر اعظم شوکت عزیز کیخلاف لائی گئی۔ 2006ء میں قومی اسمبلی میں شوکت عزیز کو قائد ایوان کے منصب سے ہٹانے کیلئے 172 ہی ووٹ درکار تھے مگر 136 اراکین نے عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت میں ووٹ دئیے اس طرح یہ تحریک بھی ناکام ہوئی۔
ہمسایہ ملک بھارت میں صورتحال اس سے قدرے مختلف رہی، سابق وزیر اعظم عمران خان کے بقول کیونکہ انڈیا ایک جمہوری ملک ہے اس لئے وہاں پر تین وزرائے اعظم عدم اعتماد کی تحریکوں کی کامیابی کے نتیجہ میں گھر بھیجے گئے، 2019 ء تک بھارت میں عدم اعتماد کی 27تحریکیں ودھان سبھا میں پیش کی گئیں، 1999ء میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو اس کیلئے 270 ووٹ درکار تھے اور واجپائی صرف ایک ووٹ کی کمی کی وجہ سے گھر چلے گئے۔ دنیا بھر میں 100 سے زائد سربراہان مملکت عدم اعتماد کی تحریکوں کے نتیجہ میں گھر جا چکے ہیں۔
عمران خان کیخلاف امریکی یا عالمی سازش ہوئی یا یہ بھی ان کا ہمیشہ بھی طرح ایک جھوٹ تھا اس کا جواب جاننے کیلئے ہمیں حالیہ تحریک عدم اعتماد کی ٹائم لائن پر جانا پڑے گا۔ عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی سرگرمیوں کا آغاز چار فروری سے ہوا جب
لاہور میں آصف زرداری، بلاول بھٹو اور شہباز شریف کی ملاقات ہوئی جہاں ظہرانے پر عدم اعتماد تحریک لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ شہباز شریف نے اسی روز لندن میں نواز شریف سے رابطہ کیا اور میاں نواز شریف صاحب نے عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے گفت و شنید کیلئے مجلس عاملہ کا اجلاس بلا لیا، 7فروری کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں شہباز شریف کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کیلئے سیاسی جماعتوں سے گفت و شنید کا آغاز کریں، 11 فروری کو شہباز شریف کی رہائش گاہ پر تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئیں باقاعدہ طور پر عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کرتے ہوئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔ شریف خاندان کی چودھری خاندان سے دوریوں کو 22 سال ہو چکے تھے، 13فروری کو شہباز شریف چودھری شجاعت کی
عیادت کو پہنچے اور عدم اعتماد کے حوالے سے گفتگو کا آغاز بھی ہو گیا، 7مارچ کو علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ نے بھی پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ 8 مارچ کو اپوزیشن کی طرف سے عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد اور اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرا دی گئی۔
اتنی تفصیل آپ کے گوش گزار کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ عدم اعتماد کا معاملہ واضح ہونا چاہیے، بات 8 مارچ یعنی تحریک عدم اعتماد کے جمع ہونے تک پہنچ چکی ہے، اب آتے ہیں حکومتی سرگرمیوں کی طرف۔ 13فروری کو جب شہباز شریف اور چودھری برادران کی ملاقات ہوئی تو عمران خان کا ماتھا ٹھنکا اور بنی گالہ میں ہلچل پیدا ہو گئی، عمران خان نے چیئر مین سینیٹ کی سربراہی میں ایک وفد لاہور بھیجا جس نے چودھری برادران سے ملاقات کی، اپوزیشن کو متحرک دیکھ کر روزانہ کی بنیاد پر وزیر اعظم ہاؤس میں عمران خان کی سربراہی میں اجلاس ہونے لگے، چودھری برادران نے اپنے سیاسی رنگ دکھانا شروع کیے تو عمران خان کو اپنے ڈاکو سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے گھر آنا پڑا اور انہوں نے چودھری شجاعت کی عیادت کی۔ حکومتی کیمپ نے فیصلہ کیا کہ عدم اعتماد کیخلاف عمران خان عوام کے پاس جائیں گے اور اسی سلسلہ میں انہوں نے عوامی رابطہ مہم کا آغاز بھرپور انداز میں میلسی سے کیا جہاں پر جارحانہ انداز میں ڈیزل اور تین چوہوں کا خطاب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن، شہباز شریف اور آصف زرداری کو یہ چیلنج دیا کہ میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاؤ، میں اسے ناکام بناؤں اور پھر تمہیں جیل بھیجوں۔ پھر عمران خان نے روزانہ کی بنیاد پر جلسوں، تقاریب، انٹرویوز میں عدم اعتماد کیخلاف ایک کمپین کا آغاز کیا جو ان کے فارغ ہونے تک جاری رہی، حد تو یہ ہوئی کہ عمران خان جن پر گھمنڈی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے وہ 9 مارچ کو کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد بھی جا پہنچے۔اب واپس آتے ہیں 8مارچ کی تاریخ پر، حکومتی کیمپ سے عدم اعتماد کیخلاف جو سب سے پہلی حکمت عملی لائی گئی وہ تھی آرٹیکل 63-A کے تحت کارروائی اور سپیکر اسد قیصر کو ہدایات جاری کی گئیں کہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اسی آرٹیکل کے تحت منحرف اراکین کے ووٹوں کو گنتی میں شامل نہیں کیا جائے گا، مگر قانونی ماہرین نے عمران خان کو بتایا کہ آپ ووٹ دینے سے کسی رکن کو نہیں روک سکتے۔ یہ سب چل رہا تھا مگر پھر عمران خان نے الزام لگایا کہ ان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک عالمی سازش ہے، جو کرا رہا ہے امریکہ کرا رہا ہے، اپوزیشن رہنماؤں کو اربوں روپے دئیے گئے ہیں تا کہ وہ عمران خان کی حکومت گرا سکیں، وہ عالم اسلام کے لیڈر ہیں اور استعماری طاقتیں ان کیخلاف ہو چکی ہیں کیونکہ وہ پاکستان کو آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں۔ عدم اعتماد کا معاملہ 4فروری سے شروع ہوا مگر عمران خان نے 27مارچ کے جلسے میں ایک خط لہرایا اور کہا کہ مجھے عالمی سازش کے تحت ہٹایا جا رہا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کا آغاز 4فروری سے ہوا اور عدم اعتماد 8مارچ کو جمع کرائی گئی جبکہ عمران خان نے خط 27مارچ کو لہرایا۔
خط کی جو کہانی بعد میں سامنے آئی وہ کچھ یوں تھی کہ 7 مارچ کو امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر سے ملاقات کی اور انہوں کہا کہ پاک امریکہ تعلقات اسی صورت میں بہتر ہو سکتے ہیں اگر عمران خان کو ہٹا دیا جائے۔ عمران خان نے الزام لگایا کہ 7مارچ کو لو نے اسد مجید کو دھمکی دی اور 8 مارچ کو عدم اعتماد جمع کرا دی گئی مگر عمران خان یہ بھول گئے کہ امریکہ اور پاکستان کے وقت میں 9 گھنٹے کا فرق ہے جب پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی تو اس وقت امریکہ میں بھی 8مارچ ہی تھا، یعنی جب لو نے جب دھمکی دی اس کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان میں تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی۔
واضح سی بات ہے کہ عمران خان نے اپنی حکومت بچانے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا، پہلے جمہوری کوشش کی، عوام کے پاس گئے، اسٹیبلشمنٹ کی منتیں کیں اور جب کوئی حل نہ بچا تو گھٹیا سیاست پر اترتے ہوئے اسے امریکی سازش قرار دیدیا، حالانکہ لو نے جو بات اسد مجید کو کہی وہ ساری دنیا کو پتہ ہے کہ عمران خان جیسے نااہل انسان کے ہوتے ہوئے امریکہ تو کیا پوری دنیا پاکستان کو منہ نہیں لگا رہی تھی، جو چادر پھیلائے ہر ملک میں بھیک مانگنے پہنچ جاتا اور سربراہان مملکت کا ڈرائیور بنا پھرتا تھا ، جسے امریکی صدر ایک فون تک نہیں کرتا اور یہ کوئی دھمکی نہیں بلکہ ایک کھلا سچ تھا۔ خیر عمران خان سابق ہو چکے، ان کے ساتھ آخری چند گھنٹوں میں وزیر اعظم ہاؤس میں کیا ہوا؟ انہیں کیسے نکالا گیا، ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا، یہ کہانی اگلی بار سہی کیونکہ ابھی تک بہت سی چیزیں واضح ہونا باقی ہیں، لیکن پاکستان کی تاریخ کے سب سے نااہل وزیر اعظم کا دور ختم ہوا اور جس طرح وہ وزیر اعظم ہاؤس سے نکلا وہ بھی ایک عبرت ناک داستان ہے۔

تبصرے بند ہیں.