فیر کیندے نیں عوام گالاں کڈدی اے

33

گزشتہ دنوں ہونے والے تماشے سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے عمران خان صاحب کا ایک ہی رونا بیرونی سازش اور اپوزیشن کا ایک ہی کہنا تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کراؤ۔ آخر کار اپوزیشن کی سنی گئی اور وزیر اعظم عمران خان کے نام کے ساتھ سابق لگانے میں کامیاب ہو گئی مگر یہ کس قدر کٹھن تھا کہ صبح ساڑھے دس بجے سے لے کر رات کو 11:40 پر سپیکر اسد قیصر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور سپیکر قومی اسمبلی کے فرائض ایاز صادق کو سونپ دیئے۔ سپریم کورٹ اگر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے واضح احکامات جاری نہ کرتی  تو عمران خان کو کوئی مائی کا لعل گھر نہ بھیج سکتا۔ رات 10 بجے اسلام آباد ہائی کورٹ کھولنے کا حکم اور عملے کو پہنچنے کی ہدایت کی گئی جس سے حکومت کے کان کھڑے ہوئے اور خبریں آنے لگیں کہ اسد قیصر کو آمادہ کیا جا رہا ہے ووٹنگ پر۔ سپیکر کا دو بار پارلیمنٹ سے وزیراعظم ہاؤس جانا صاف ظاہر کر رہا تھا کہ پی ٹی آئی اس وقت مشکل میں ہے۔ پھر بارہ بجے کے قریب سپریم کورٹ کے دروازے بھی کھول دیے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال اس انتظار میں ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں ایک بار اڑایا جائے پھر عمران خان کی خیر نہیں۔ آخر آئین کی جیت ہوئی، ایاز صادق کے زیر صدارت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنا غصہ لفٹ میں صحافیوں پر نکالا جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے پارلیمنٹ کو وزیراعظم ہاؤس بنا دیا ہے۔ جو گالیاں آج عوام پی ٹی آئی کو دے رہے ہیں پی ٹی آئی اراکین وہی گالیاں صحافی برادری کو حقیقت دکھانے پر دے رہے ہیں۔ کبھی صحافیوں کو کرائے کے ٹٹو کہہ کر کبھی اس طرح کے نازیبا الفاظ استعمال کر کے، یہ بات تو حقیقت ہے کہ سابق حکومت کو گالی کی برگیڈ سیاست کا نام دیا گیا ہے اور انھوں نے ثابت بھی کیا ہے۔ عمران خان صاحب نے جو یہ دن دیکھے ہیں وہ سب اپنی انا کی وجہ سے دیکھے ہیں۔ سب سے پہلے تو غیر منتخب مشیر جو انہیں لے ڈوبے ہیں اور پھر مہنگائی کی سیاست، اپوزیشن کو گالیاں دے دے کر کوسا گیا اور غیر منتخب مشیر فضول قسم کے بیانات اور صحافی برادری کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے۔ عمران خان صاحب آپ اس ظلم کے جواب دہ ہیں جو آپ نے بے جا مہنگائی کر کے ساڑھے تین سال عوام پر کیا۔ آپ کے دور اقتدار میں جو رمضان المبارک گزرے آپ ہر بار اس ماہ مبارک کیآغاز سے پہلے عوام کو لارے دیتے، اس بار مہنگائی پر خود نظر رکھوں گا مگر وہ محض باتیں ہی رہیں اور عوام روتے دکھائی دیتے رہے۔ عمران خان کی حکومت میں جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو ایک غریب کو ہر سال روزہ کھولنا اتنا ہی مشکل ہوتا گیا اس بار بھی جتنے روزے گزرے عوام پریشان ہی دکھائی دیئے۔ مانتے ہیں مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے مگر دوسرے ممالک کو دیکھیں تو ان ملکوں میں وہاں کے عوام تنخواہیں ہی اتنی لیتے ہیں کہ ان لوگوں کو فرق محسوس نہیں ہوتا۔ پھر وہاں کی حکومت اپنے عوام کو سہولیات مہیا کرتے ہیں جو نوکری پیشہ نہیں ہوتے اس لیے ان لوگوں کو مہنگائی اتنی محسوس نہیں ہوتی۔ مگر یہ پاکستان ہے شاید آپ یہ مہنگائی کرتے وقت بھول جاتے رہے کہ یہاں تو غریب بندہ اپنے دو وقت کی روٹی بھی بہت مشکل سے پوری کرتا ہے۔ عمران خان صاحب آپ نے حکومت میں آ کر بھی کسی سے بنا کر نہیں رکھی کسی سے نہ سہی عوام سے ہی بنا لیتے تاکہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر آتش بازی کر کے اور جشن منا کر آپ کے جانے کا عوام کی طرف سے شکر ادا نہ کیا جاتا۔
آپ کے فیصلوں نے آپ کو آج اس موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا کہ آپ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے والے پہلے وزیراعظم پاکستان کا ٹھپہ اپنے نام کے ساتھ لگوانے میں کامیاب ہوئے۔ بارہا بار کہہ چکے تھے آپ کو کہ عوام ناراض ہے اور اپوزیشن فائدہ اٹھائے گئی جب عوام کی سنتے تھے تو کہتے تھے آپ عوام فضول مہنگائی پر چیخ رہے ہیں، اتنی بھی کوئی مہنگائی نہیں۔ آپ کے غیر منتخب مشیر ہمیں گالیاں دیتے رہے جو صحافی آپ کی مہنگائی پر بولتے اور لکھتے رہے تو آپ دیکھ لیں کہ عوام پھر جو آپ کو جن الفاظ میں یاد کرتی رہے، وہ ٹھیک تھے۔۔۔

تبصرے بند ہیں.