صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

33

صحافی کا کام تو حقائق عوام تک پہنچانا ہوتا ہے نہ کہ عوام کو اپنے نظریات پہنچانا۔بدقسمتی سے اس وقت ہمیں جس صحافت کا سامنا ہے اس میں صورتحال ایسی ہے کہ سوشل میڈیا کو تو چھوڑ ہی دیں وہاں ہر کوئی پروفیشنل صحافی نہیں ہے ۔الیکٹرانک میڈیا کا اگر جائزہ لیں تو بہت دلچسپ صورتحال ہے ہر جگہ ایسے لوگ قبضہ کر چکے ہیں جو اینکر کم اور سیاسی پارٹی کے کارکن زیادہ نظر آتے ہیں ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جنھیں انکی پارٹی نے اپنے اثر و رسوخ سے مختلف چینلز میں بھرتی کروایا جہاں وہ صرف اپنی پارٹی کا موقف پیش کرتے ہیں ۔ ایسے میں اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے دور میں تو یہ کام عروج پر پہنچ چکا ہے ۔اگر ہم دیکھیں تو عمران ریاض ،صابر شاکر ، چوہدری غلام حسین ،ارشاد بھٹی ،ملیحہ ہاشمی سمیت بہت سے نام سامنے ہیں جو صرف یکطرفہ بیانیہ پیش کرتے ہیں حتیٰ کہ کامران خان جو ایک مانے ہوئے صحافی ہیں انکے پروگرام بھی یکطرفہ جا رہے ہیں جن سے انکی کریڈیبلیٹی بھی متاثر ہوئی ۔اگر ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہو گا کہ مسلم لیگ ن کے پاس تو صرف ایک صالح ظافر تھا جو اس وقت کے وزیر اعظم کے پہنے ہوئے کپڑوں کے رنگ کی تعریف کرنا بھی اپنا فرض سمجھتا تھا لیکن اس وقت تحریک انصاف کے پاس بہت سے صالح ظافر موجود ہیں مسلم لیگ ن بھی کسی سے کم نہیں رہی اس نے بھی بہت سے نئے صالح ظافر پیدا کئے ہین جن میں جیو ٹی وی کے شاہزیب خانزادہ ،نجم سیٹھی ،غریدہ فاروقی سمیت بہت سے اینکرز کے نام شامل کئے جا ہیں ۔جیو ٹی وی کے معروف اینکر حامد میر اور کامران شاہد بھی آجکل صرف اپوزیشن کا بیانیہ دیتے نظر آ رہے ہیں ۔
پاکستان میں اس بات کی آئینی ضمانت دی گئی ہے کہ صحافی آزادانہ طور پر اپنے فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔ ایک آزاد اور خود مختار پریس ہی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں نام نہاد چیمپیئنوں نے میڈیا اداروں کو کھوکھلا کر دیا جب تک کہ وہ میڈیا کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہیں گے ایسی صحافت جاری رہے گی۔
سابق چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اے آروائی کے اینکرپرسن ارشد شریف کو عدالت میں بلاکر کیا کہا گیا، پہلے یہ پڑھتے چلیں۔
چیف جسٹس! آپ عدالت میں زیرسماعت مقدمات پر اپنے پروگرام میں کیسے کہہ سکتے ہیں جبکہ دونوں مہمان کہہ رہے تھے کہ مقدمہ زیرسماعت ہے، آپ پھر بھی ان پر دبائو ڈال رہے تھے اور پروگرام میں دھڑلے سے کہہ رہے تھے کہ بلالیں آپ تو مغرور ہوکر بول رہے تھے۔ ہم نے تو نیب کو بھی پگڑیاں اُچھالنے سے روک دیا تو میڈیا کیسے پگڑیاں اُچھال سکتا ہے؟ آپ کا ان معاملات سے کیا تعلق؟ کیا آپ جج ہیں؟ عدالت ہیں؟ آپ عدالت میں زیرالتواء مقدمات میں اپنے پروگرامز میں بحث نہیں کرسکتے۔ایک اور مثال ڈاکٹر شاہد مسعود کی ہے ان کے ایک پروگرام پر نہ صرف ان پر پابندی لگی بلکہ چینل کو بھی بند کیا گیا، صرف اس وجہ سے کہ خبر میں سنسنی خیزی، غلط بیانی، الزامات، گھٹیا گفتگو اور انتہا درجے پر جاکر دوسروں کو ذلیل وخوار کرنا،ظاہر ہے اس کے پیچھے صحافتی اصول تو نہیں کوئی ذاتی مفاد ہی ہونگے۔آجکل اینکر ایسے ہیں جن کی بدزبانی، غیراخلاقی گفتگو، سیاستدانوں کی براہ راست پگڑیاں اُچھالنا، ان کے خلاف غلط ثبوت پیش کرنا، ایک دوسرے کو آپس میں لڑانا، اپنے پروگرامز میں دوسروں کے خلاف براہ راست پارٹی بن جانا، یہ تو الیکٹرانک میڈیا کی بنیادوں اور اس کی روایات میں شامل کرلیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان کا مقصد صرف اپنی ریٹنگ بڑھانا ہے اور اس فن میں وہ بڑے ہرفن مولا ہیں مگر اس سے قوم شخصیات اور اداروں پر بُرا اثر پڑرہا ہے۔ خدارا! یہ صحافت نہیں ۔ ایک دور تھا جب پرنٹ میڈیا میں ایک فقرہ لب عام تھا یعنی زرد جرنلزم کی آڑ میں قلم کے ذریعے عزتوں کو سرعام تار تار کیا جاتا تھا۔ اسی طرح آج قلم کی جگہ کیمرے نے لے لی اور یہ کیمرہ اب بدتمیز اور ریٹنگ میں رنگا اینکر کو لگتا ہے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا خمیر کیا ہے اور کس ڈھٹائی سے گند پھیلایا جا رہا ہے۔ آسمان سے اُترے بعض اینکرز نے تو صحافت ہی نہیں معاشرے کو بھی اپنی گندی اور بلیک میلر زندگی کے لحاف میں لے رکھا ہے۔ ان کے پاس ایک ہی ڈگری ہے گالیاں دینا،، غلط الزامات لگانا، بے ہودہ گفتگو کے ذریعے ماحول کو خراب کرنا، غلط دعوے لگانا، یہ وہ اینکر حضرات ہیں جو پلانٹڈ مسودات کے ذریعے روزانہ اپنا ضمیر بیچتے ہیں۔
ان میں سے کچھ تو صحافت کی چاردیواری سے باہر سے برآمدشدہ ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ صحافت کی تمام کتابیں انہوں نے ہی پڑھی ہیں اور انہوں نے ہی صحافت کو ایجاد کیا ہے اور وہی اس کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ہیں۔ عمران خان کے اوپر تو الزام ہے کہ انہوں نے سیاست میں گالی کو متعارف کرایا مگر ان میڈیا کے اینکرز سے کوئی تو پوچھے کہ انہوں نے نئی نسل کو کیا دیا ہے؟ صحافت کے اندر انہوں نے بھی تو نئی نسل کو گالی دی، لڑنا سکھایا، بدزبانی دی، جھوٹ، نفرت اور فریب بازیاں سکھائیں، کس طرح شریف انسان کی پگڑی اُچھالی جاتی ہے یہ بھی انہی چند بڑے اور نامور اینکرز نے سکھایا، گھر بلا کر بے عزت کرنے کی تمیز تو آپ ہی نے دی ہے۔کیا یہ صحافت ہے؟
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کا اپنا ہی قانون، اور یہاں قابض چند بڑے اینکرز کے ہاتھوں آج صحافت ہی نہیں، ادارے ہی نہیں، قوم ہی نہیں، پوری ریاست بے عزت ہورہی ہے۔ ان بعض اینکرز کا خیال ہے کہ وہ ہیں تو میڈیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ بے لگام گھوڑے دوڑائے چلے جارہے ہیں۔ کون دوڑا رہا ہے ،ان میں سے بعض کو تو تنخواہ بھی کہیں اور سے ملتی ہے۔کیوں ملتی ہے اس کا سب کو علم ہے۔
سنسنی خیزی اور طوفان بدتمیزی کا عنصر چند چینلز پر بیٹھے ان اینکرز کو اب روکنا ہو گا۔ اگر ان کو نہ روکا گیا، اگر ان کو دائرے میں نہ کھڑا کیا گیا، اگر ان کا طوفان بدتمیزی نہ روکا گیا، اگر ان کو عزت داروں کی پگڑیاں اُچھالنے سے باز نہ کیا گیا تو پھر شاید شریف لوگ ان چینلز کو دیکھنا ہی بند کردیں۔
بدقسمتی سے آج معاشرے میں یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ میڈیا طاقت نہیں بڑا بلیک میلر بن کر سامنے آیا ہے۔ ہر شریف آدمی ٹی وی پر آنے سے کتراتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مخصوص اینکرز نے اپنے اپنے مخصوص چہروں کو متعارف کرا کے ان کو ہیرو بنا رکھا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا مفاد عزیز رکھتے ہیں مگر میڈیا کی سکرین پر جو دھبے لگ رہے ہیں ان کو کون اور کب صاف کرے گا؟

تبصرے بند ہیں.