ڈھیٹ سے آگے بھی کوئی لفظ ہے؟

21

آج ہفتہ ہے اور دن کے ڈیڑھ بج چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے آج ساڑھے دس بجے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے کہا اور ساتھ ہی یہ حکم بھی جاری کیا کہ سپیکر اسی اجلاس میں قائد ایوان کا انتخاب بھی کریں۔ آج صبح اجلاس شروع ہوا اور حکومت کی جانب سے ایک بار پھر تاخیری ہتھکنڈے استعمال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سپیکر نے اجلاس کو ملتوی کر دیا ہے اور اس وقت بھی اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی میں موجود ہیں اور ووٹنگ کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ ہے اس لیڈر کا اصل چہرہ جو کھلاڑی رہا ہے اور یہ اعلان کرتا رہا کہ میرے خلاف اگر اراکین اسمبلی کھڑے ہو گئے تو میں اسی وقت استعفی دے کر اپوزیشن میں چلا جاؤں گا۔ آج کیا وجہ ہے کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے لیے روڑے اٹکا رہا ہے۔ اس تاخیر کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسے این آر او دیا جائے۔ این آر او نہیں دوں گا کا نعرہ بلند کرنے والا آج خود اس حال میں ہے کہ اسے حکومت سے باہر نکلنے کے لیے یقین دہانیوں کی ضرورت ہے۔ دن رات بھارت کی خارجہ پالیسیوں کی تعریف کرنے والا وہاں کی جمہوریت سے سبق لینے کے لیے تیار نہیں ہے جہاں ایک ووٹ سے عدم اعتماد ہوئی اور وزیراعظم نے اپنی کرسی چھوڑ دی۔ عمران کو صرف ایک ہی خوف دامن گیر ہے اور وہ ہے کہ اس کا سارا منصوبہ ختم ہو گیا۔ جو بساط اس نے بچھائی تھی وہ لپیٹی جا رہی ہے۔ آہستہ آہستہ پارٹی بھی اس کے نیچے سے سرک رہی ہے۔ لا محدود اختیارات کی خواہش رکھنے والے اس حکمران نے پاکستان کی جمہوریت کا تماشا ساری دنیا کو دکھا دیا ہے۔ اس کی جائیں کائیں اب کانوں کو بھلی نہیں لگتی۔ وہ جان بوجھ کر حالات کو اس نہج تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ فوج کو بچانے کے لیے آنا پڑے۔ منے کے ابا نے مسئلہ حل کرانا ہوتا تو وہ آنکھ کی ایک جنبش سے اسے حل کرا دیتے۔
یہ وہ لاڈلا ہے جس کی حکومت بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری نظام میں شکست و ریخت کی تھی اور یہ حالات پیدا کر دیے تھے کہ مقبول سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم چلانے سے قاصر تھیں۔ آج وہی لاڈلہ ان کے بالوں کو آ رہا ہے۔ وہ تو امیر المومنین بننے کے لیے اقتدار میں آیا تھا اور جو نشہ وہ عوام میں تقسیم کر رہا تھا اس میں لوگ روٹی کپڑے اور مکان سے زیادہ اس بات پر یقین کرتے کہ ان کا لیڈر جو کر رہا ہے وہ صحیح کر رہا ہے۔
اس وقت پوری قوم کی نظریں ٹی وی سکرین پر لگی ہوئی ہیں۔ کاروبار بند ہیں۔ سٹاک ایکسچینج کا برا حال ہے۔ ڈالر کی اڑان نے لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہے اور سرمایہ کار اپنا سرمایہ روپے سے ڈالر میں تبدیل کر رہے ہیں۔ جن کے باہر اکاؤنٹ ہیں وہ اسے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ شروع ہو چکی ہے۔ بیوروکریسی کے حالات اس سے بھی برے ہیں۔ پنجاب کے آئی جی نے حکومت کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور پھر سے نیا آئی جی لگایا جا رہا ہے۔ عمران سمجھتا ہے کہ شائد ان اقدامات کی وجہ سے وہ مقبول ہو رہا ہے لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ان کے مریدین تو اچھل رہے ہیں لیکن عوام کو علم ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔ بدمعاشی اور سینہ زوری کو ایک عام آدمی سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تحریک انصاف اس وقت یہی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ وہ اپوزیشن اور عوام کا صبر آزمانا چاہتے ہیں تاکہ اس دوران کوئی سانحہ ہو جائے اور ان کی جان چھوٹ جائے۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ایک قبر ہے اور دو لوگ ہیں ان میں ایک کو قبر میں اترنا ہو گا۔ ملک سے غداری کا بیانیہ بکا نہیں ہے اور عمران خان اپوزیشن کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ انتقامی سیاست کرنے پر تیار ہو جائے۔ وہ اس طرح جانے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اس کا مطمع نظر سیاسی شہادت ہے تاکہ عوام کو ایک بار پھر سے بیوقوف بنایا جا سکے۔ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کا رویہ اکثر نقصان کا باعث ہی بنتا ہے۔
حکومت کی جانب سے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ بھی دیکھ رہی ہے کہ کس طرح اس کے احکامات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ عمران نے طے کر لیا ہے کہ وہ عزت سے نہیں جائے گا۔ اتوار کو احتجاجی کال بھی دے رکھی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس احتجاجی کال کا کیا اثر ہوتا ہے۔ عمران صرف اب یہی بات کر رہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی فنڈنگ مل رہی ہے اور یہ الزام بہت سی حکومتوں نے اپنی اپنی حزب اختلاف پر لگا رکھا ہے لیکن ثبوت کوئی نہیں ہے۔ یہی حال عمران خان کا ہے ملک سے غداری کے الزامات لگائے جا رہے ہیں مگر ثبوت ان کے پاس کوئی نہیں۔
اطلاعات یہ آ رہی ہیں کہ حکومت اپوزیشن کو مشتعل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ ایوان کے اندر ہنگامہ آرائی کریں اور اس کو بنیاد بنا کر اپوزیشن کے کچھ اراکین کی رکنیت کو معطل کیا جائے اور پھر اسی ہنگامہ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرا کے اسے ناکام بنا دیا جائے۔ اردو میں ذخیرہ الفاظ کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ڈھیٹ کی اگلی ڈگری کیا ہے اس کا کوئی مناسب لفظ موجود نہیں۔ ماہرین لسانیات موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی مناسب لفظ تخلیق فرمائیں تو عین نوازش ہو گی۔
عمران اور اس کے حواری ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ فوری طور پر نگران حکومت قائم کر کے انتخابات کا اعلان کیا جائے تاکہ ان کے خلاف ہونے والے تمام اقدامات الیکشن کی مہم میں دب جائیں۔ بابر اعوان اور فواد چوہدری عمران خان کے قانونی مشیر ہیں اور حکومت کو اس حد تک لے جانا چاہتے ہیں کہ نظام چلنے کے قابل نہ رہے۔ اس کا نقصان عمران خان کو بھگتنا ہوگا کہ یہ وہ فصلی بٹیرے ہیں جو آج اس جماعت میں ہیں کل کسی اور کے ساتھ ہوں گے۔ ان کا ماضی گواہ ہے کہ وہ کون کون سی جماعتوں سے ہو کر عمران تک پہنچے ہیں۔ ملیحہ لودھی نے اپنے حالیہ مضمون میں عمران خان کی غلطیوں کو گنواتے ہوئے کہا ہے کہ "کوئی بھی بات سول ملٹری تعلقات کے بغیر نامکمل ہے۔ گزشتہ سال ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی اور حکومت اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے۔ لیکن اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہوگئے ہوں یا پھر اسٹیبلشمنٹ نے اپنی حمایت واپس لے لی ہو۔تاہم فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد کے عمل میں غیر جانبداری کا رویہ اپنایا اور ماضی سے ہٹ کر حکومت کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ تو کیا یہی وجہ تھی کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے لیے درکار نمبر پورے کرنے میں کامیاب رہی؟اس پر سوال کیا جاسکتا ہے۔ جو بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان حکومت کے خاتمے کی وجہ اس کی اپنی ہٹ دھرمی، غلط طرزِ حکمرانی، اپوزیشن کو برداشت نہ کرنا، محاذ آرائی کی سیاست اور پالیسی کے حوالے سے کی جانے والی غلطیاں تھیں۔’
اس وقت تک عدم اعتماد کے حوالے سے ووٹنگ نہیں ہو سکی۔ اس حکومت کے حوالے سے کوئی بھی بات حتمی نہیں ہے۔ عمران نے جانا ہی جانا ہے لیکن یہ حقیقت سمجھنے تک وہ اس ملک کا بہت زیادہ نقصان کر چکے ہوں گے۔ عمران اپنے رویے سے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انہیں بھی امید ہے کہ وہ شائد ہی اب اقتدار میں آئے۔ آپ نے کچھ نہیں کیا تو گھبراہٹ کیوں ہے۔ فیصلے کو تسلیم کریں اور اس ملک کو آگے چلنے دیں۔

تبصرے بند ہیں.