قومی اسمبلی اجلاس، عدم اعتماد پر ووٹنگ شام 8 بجے کرانے پر اتفاق

58

 

اسلام آباد:  قومی اسمبلی میں اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والا   اہم ترین اجلاس تاخیر کا شکار ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک نکتے پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوپہر 2:30 بجے دوبارہ شروع ہو گیا، اجلاس کی صدارت امجد نیازی کررہے ہیں جبکہ  عدم اعتماد پر ووٹنگ شام 8 بجے کرائی جائے گی۔

 

تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بعد شاہ محمود قریشی کی  تقریر کے دوران شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی نہ کرنے اور عدم اعتماد پر ووٹنگ شام 8 بجے کرانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

 

واضح رہے کہ  آج صبح ساڑھے 10 بجے شروع ہونے والے قومی اسمبلی  اجلاس میں شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اپوزیشن کے احتجاج کے باعث سپیکر قومی اسمبلی نے 11 بجے  اجلاس کو دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کیا جس کے بعد  حکومت اور اپوزیشن میں اجلاس دوبارہ شروع کرنے پر ڈیڈ لاک  پیدا ہو گیا تھا اور اجلاس  ساڑھے 12 بجے دوبارہ شروع نہ ہو سکاتھا۔

 

شاہ محمود قریشی کے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران شہباز شریف سمیت اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور شور شرابہ شروع کر دیا  اور  مطالبہ کیا  کہ اسپیکر عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کرائیں ۔

 

وزیرخارجہ شاہ محمد قریشی کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال

 قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کی گنجائش موجود ہے ، تسلیم کرتا ہوں تاہم اس کا جمہوری اور آئینی انداز میں  دفاع کرنا حکومت کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ آئین شکنی سے بھری پڑی ہے، 12 اکتوبر 1999 کو ایک آئین شکنی کی گئی ۔شاہ محمود قریشی  نے کہا کہ  اپوزیشن 4 سال سے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے ،وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرکے گھر جانے کا اعلان کیا  پھر اپوزیشن کیوں عدالت گئی ،سوموٹو لیاگیا اس کا پس منظر کیا ہے، اتوار کو دفاتر کھولے گئے ،عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوا  اور عدالت نے آپ کو تحریک عدم اعتمادکیلئے دوبارہ اجلاس کا کہا ، عدالت کے فیصلے کے مطابق گھڑی پیچھے کی گئی ،آج 3 اپریل ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بیرونی سازش کی تحقیقات ہونا ضروری ہے ،قومی سلامتی کمیٹی نے سائفر دیکھا تو نتیجہ نکلا معاملہ سنگین  ہے ۔

 

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال

قبل ازیں اجلاس کے آغاز میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف شہباز شریف نے  اظہار خیال کرتے ہوئے کہا  کہ آج پارلیمان آئینی و قانونی طریقے سے ایک سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جا رہا ہے۔انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھائیں۔تاہم اسد قیصر نے کہا کہ ایوان میں بین الاقوامی سازش سے متعلق بھی بتانا چاہتے ہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ  اگر یہ سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی، ہم آپ کی طرح پاکستانی ہیں ، سازش کی بات ہوگی تو پھر سب کو ننگا کروں گا، سپریم کورٹ کا آرڈر ہے آج صرف ووٹنگ کرائیں ۔

 

 

واضح رہے کہ آج سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کا باقاعدہ آغاز ساڑھے 10 بجے تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پڑھی گئی اور پھر قومی ترانہ پڑھا گیا۔جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا اجلاس کی صدارت شروع کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ  کے فیصلے کے مطابق من و عن کارروائی اجلاس کی کارروائی کروں گا ۔

 

 

 

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کے اہم سیشن کے موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ بند رہے گا جبکہ منحرف اراکین اسمبلی کے لیے اضافی سکیورٹی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

 

 

یاد رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ کوکالعدم قرار دیتے ہوئے 9 اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم دیا تھا۔

 

اعلیٰ عدالت کے تحریری حکم نامے کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ڈپٹی اسپیکر کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا حکم نامہ واپس لیا اور قومی اسمبلی کااجلاس آج طلب کیا تھا  جس کے چھ نکاتی ایجنڈے میں  اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی وزیراعظم کیخلاف  تحریک عدم اعتماد پر آرٹیکل 95 کے تحت ووٹنگ بھی ہو گی، اجلاس کے ایجنڈے میں  وقفہ سوالات، دو توجہ دلاؤ نوٹس اور ایک نکتہ اعتراض بھی  شامل ہے۔

 

 

دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے اجلاس سے قبل  پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کیا جس میں   تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ روکے جانے کی صورت میں مقابلہ کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی طے کی گئی، متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں  176 ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔

تبصرے بند ہیں.