رمضان، کاروباری معاملات اور سنت کی نورانیت

5

یہ حقیقت بڑی افسوسناک ہے کہ جب بھی ہمارے ہاں کوئی مذہبی تہوار آتا ہے مصنوعی بحران پیدا کر کے ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، تہوار کی مناسبت سے اشیاء کی قلت کا رونا رویا جاتا ہے اور پھر جب مارکیٹوں میں اس چیز کی قلت پیدا ہو جاتی ہے تو ان اشیاء کو زیادہ نرخوں پر فروخت کر کے حد سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ ملک بھر میں رمضان کی آمد سے پیشتر مصنوعی مہنگائی کا طوفان اٹھا کر عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنا منافع خور تاجروں اور دکانداروں کا معمول بن چکا ہے۔ماضی میں ہمارے ہاں یہی معمول رہا ہے کہ رمضان المبارک میں گھریلو اشیاء کی خریداری کے لئے بازار جائیں تو قیمتیں سن کر ہی پریشان ہو جائیں کہ جو چیز پورا سال آپ کو مناسب داموں پر ملتی رہی ہے اب دوگنی قیمت پر آپ کا منہ چڑا رہی ہے۔
ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کی طرف سے مارکیٹ میں رسد و طلب کے توازن کو درہم برہم کرنے کے علاوہ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرنا اور عیدالفطر تک عوام کی چمڑی ادھیڑنا جہاں سالہا سال سے ایک مستقل معمول کی صورت اختیار کر چکا ہے وہاں ہر حکومت کا وتیرہ رہا ہے کہ ماہ رمضان المبارک سے پہلے اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دینے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کا کڑا احتساب کرنے اور رسدوطلب کے توازن کو بر قرار کی یقین دہانیاں تو کراتی رہی ہے لیکن ان پر عملدرآمد کی نوبت کبھی نہیں آئی اور عوام گراں فروشوں کے ہاتھوں اذیت ناک صورت حال کا سامنا کرتے رہے جو اس ماہ مقدس کے احترام کو پامال کرنے میں مصروف رہے۔ رمضان المبارک سے پہلے ہی ماضی کی طرح اگر چہ صوبائی اور وفاقی انتظامیہ گرانی کی روک تھام گراں فروشوں کے محاسبے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کی یقین دہانیاں کراتی رہی ہیں اور گراں فروشوں منافع خوروں اور ملاوٹی عناصر کو نشان عبرت بنا دینے کے دعوے کئے تھے تاہم ذخیرہ اندوز گراں فروش اور ملاوٹی عناصر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور یہ بڑی تشویشناک صورتحال ہے کہ حکومتی وعدوں اور یقین دہانیاں کے باوجود روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا عمل جاری رہا ۔اگر رمضان سے پہلے حکومت کی طرف سے گرانی کی روک تھام اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کی ساری یقین دہانیوں کی ناکامی کا تجزیہ کیا جائے تو جہاں یہ تاثر پیدا ہوتا
ہے کہ حکومتی کوششیں دعووں اور یقین دہانیوں کے مطابق ناکافی اور تیاریاں نا مکمل تھیں جنہیں گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزاں نے اپنے روایتی چلن سے ناکام بنا دیا۔ وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے صارفین کی ضروریات کا صحیح اندازہ نہیں لگایااور اس حوالے سے مارکیٹ میں اشیا ضروریہ کی فراہمی نہ صرف ناکافی رہی بلکہ رسدوطلب کے عدم توازن نے قیمتوں کو بھی عدم استحکام سے دوچار کیا ۔
یہ بات کسی حد تک درست ہے جب کسی چیز کی طلب بڑھتی ہے تو اس کی قیمت میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور ہو جاتا ہے لیکن رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے شہریوں سے اشیائے ضروریہ کے زیادہ سے زیادہ نرخ وصول کرنا سماجی و معاشرتی ہی نہیں ایک بہت بڑا اخلاقی جرم بھی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ سب کچھ اسلام کے نام پر بنائے ہوئے ملک پاکستان میں ہر سال ہوتا ہے۔ لیکن کوئی حکومت یا ادارہ اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کے لئے تیار نہیں ہوتا جب کہ مغربی ممالک جہاں کاروباری سرگرمیوں پر غیر مسلموں کا کنٹرول ہوتا ہے وہاں رمضان المبارک میں فوڈ باسکٹ کی ذیل میں آنے والی اشیاء کو زیادہ ارزاں نرخوں پر فروخت کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ ان ممالک میں رہنے والے مسلمان اس سے فائدہ اٹھا کر رمضان المبارک میں سہولت سے روزے رکھ سکیں حتیٰ کہ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی ماہِ مبارکہ کی آمد پر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اشیائے خور ونوش اور ضروریاتِ زندگی کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی کر دی جاتی ہے ان لوگوں کا مٔوقف ہوتا ہے کہ اس موقع پر ہم اپنی عوام کو خصوصی ریلیف دیتے ہیں کمانے کے لئے تو سال میں گیارہ پڑے ہیں جب کہ ہمارے ہاں رمضان ہی کمائی کا مہینہ ٹھہرتا ہے رمضان کی آمد سے قبل ہی اشیائے خور و نوش مہنگی کر دی جاتی ہیں۔
ماہِ صیام کی آمد کے ساتھ ہی مارکیٹ میں بہت سی تبدیلیاں آ جاتی ہیں اوقات تبدیل ہو جاتے ہیں موسم کی حدت اور پیاس کا شکار دکانداروں کا لہجہ اور انداز بھی بدل جاتا ہے بازار میں رمضان کا احترام واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ افطار کا جگہ جگہ انتظام کیا جاتا ہے اسی طرح صدقات و خیرات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے یعنی جانی اور مالی عبادات میں سنت کی نورانیت محسوس کی جا سکتی ہے۔ البتہ کاروباری معاملات میں اس درجے کی پاکیزگی محسوس نہیں ہوتی جو رمضان المبارک یا کسی بھی مذہبی تہوار کا خاصہ ہو سکتا ہے مثلاً چند دن پہلے فروٹ اور دیگر اشیائے خور و نوش مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہیں تا کہ ریٹ بڑھنا شروع ہو جائیں۔ رمضان کی خصوصی اشیاء مثلاً بیسن، سوجی، میدہ، چنے وغیرہ کے نرخ بہت بڑھ جاتے ہیں، چکن اور گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔ اس طرح دودھ، دہی، سویاں، پھیونیاں وغیرہ کی قیمتیں بھی قوتِ خرید کو چیلنج کرنے لگتی ہیں۔ بچوں کی گارمنٹس، کپڑوں کی سلائی اور کپڑوں کی قیمت بھی متوسط اور غریب طبقہ کے ہوش اڑا دینے میں پیچھے نہیں رہتے۔غرض خالص کاروباری معاملات میں سنت کا وہ رنگ نظر نہیں آتا جو عبادات میں محسوس ہوتا ہے بلکہ ایک دوسرے کو مالی طور پر نچوڑنے کا عزم ہر کاروباری سرگرمی میں نمایاں نظر آتا ہے۔ بظاہر اس کیفیت کی عبادات والی کیفیت سے کوئی دور کی بھی مناسبت نظر نہیں آتی، اس طرزِ عمل کو کسی بھی زاویے سے سراہا نہیں جا سکتا۔ کاروباری لوگوں کا مٔوقف ہوتا ہے کہ ہم نے سیزن میں ہی کمانا ہوتا ہے اگر ان دنوں میں بھی منافع نہ لیں تو پھر اپنے کاروبار کو وسعت کیسے دیں لیکن یہ سوچ صرف خام خیالی پر مبنی ہوتی ہے کیونکہ اس قسم کے منافع کا زیادہ حصہ صرف ان چند لوگوں کو چلا جاتا ہے جن کی کسی خاص شے پر مکمل اجارہ داری ہوتی ہے اور پورے ملک سے پیسہ اکٹھا ہو کر ان کے پاس ہی پہنچتا ہے جب کہ باقی تمام تاجروں کو نارمل منافع ہی میسر آتا ہے کیونکہ عام تاجر اگر دوگنی قیمت پر چیز بیچتا ہے تو اسے چیزیں بھی بہت زیادہ نرخ پر لینا پڑتی ہیں گویا وہ چند لوگوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے بعد بے شمار دکانداروں کو عام قیمت سے زیادہ ادائیگی کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حقیقت میں نفع کی دوڑ نفسیاتی کمزوری ہے جس سے صرف چند خاندان فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اس دوڑ کی وجہ سے مہنگائی پیدا ہوتی ہے جب مہنگائی ہوگی تو آپ چند چیزوں میں نفع لے کر روز مرہ کی بے شمار چیزوں میں نقصان اٹھا رہے ہوں گے، صرف وہ امیر ترین کاروباری حضرات جو کسی خاص جنس کی مارکیٹ پر مکمل کنٹرول رکھتے ہوںگے وہ ابنارمل منافع کما رہے ہوں گے جب کہ متوسط درجے کے تاجر گھاٹے میں رہتے ہیں لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ رمضان کے با برکت مہینے میں جیسے عبادات میں سنت کو اپنایا جاتا ہے اسی طرح کاروباری سرگرمیوں میں بھی سنت پر عمل کو سیکھنا اور اس پر عمل کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ ماہِ رمضان رحمتوں کا مہینہ ہے اسے بد نیتی پر مبنی کوششوں سے عوام کے لئے زحمت نہیں بنانا چاہئے۔ ہم ہر قدم پر غیروں کی تقلید کرتے ہیں تو اس اہم اور خالص معاملے میں ان کی تقلید کیوں نہیں کر سکتے؟ ماہِ رمضان اللہ کی طرف سے ہم پر خاص عنایت ہے یہ مہینہ ہمارے درمیان اللہ کے مہمان کے طور پر آتا ہے اور اس کی شان کے مطابق اس کی مہمان نوازی ہم پر فرض ہے۔

تبصرے بند ہیں.