اقتدار کسی سے وفا نہیں کرتا

18

پاکستان میں منتخب وزیراعظم کا اوسط عرصہ اقتدار اڑھائی سے تین سال ہی ہوتا ہے۔ بیرونی عوامل نہ بھی ہوں تو برسراقتدار پارٹی دوسرے بندے کو موقع دینے کے لیے وزیراعظم بدل دیتی ہے جیسے یوسف رضا کے بعد راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بنے تھے یا ق لیگ حکومت میں ظفر اللہ جمالی کی جگہ شوکت عزیز کو لایا گیا بلکہ بیچ میں شجاعت حسین کو بھی ایڈجسٹ کیا گیا تھا مگر جس طریقے سے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی ہے یہ بہت سے سوال پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ اللہ نے ان کو ایسے انداز میں سبکدوش کیا جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا گویا انہوں نے خود ہی اپنے ہاتھوں اپنی حکومت ڈسمس کی سوچنے والوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔
جب اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کو نئے انتخابات کی ڈیمانڈ کی جاتی تھی تو حکومتی ترجمان کہتے تھے کہ 2023ء سے پہلے الیکشن بھول جائیں بلکہ اسی سانس میں کہا جاتا تھا کہ 2023ء کا الیکشن بھی عمران خان کا ہے لہٰذا اپوزیشن 2028ء تک انتظار کرے۔ لیکن حالات نے اتنی تیزی سے پلٹا کھایا کہ ان کی ساری ہوائی منصوبہ بندیاں تنکوں کا ڈھیر بن گئیں۔
عمران خان ایک بات بہت تواتر سے کرتے تھے کہ جتنا مغرب کو میں جانتا ہوں کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے باوجود جتنے بڑے بڑے Blunders مغرب کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے انہوں نے کئے ہیں شاید کوئی اور کر ہی نہیں سکتا تھا ہماری خارجہ پالیسی ان کے دور میں بری طرح ناکام ہوئی جس پر روس کے دورے نے مہر لگا دی ۔ تاریخ میں پہلی بار یورپی یونین کے 22 ممالک کے اسلام آباد میں تعینات سفیروں نے ہمارے فارن آفس کو باقاعدہ خط لکھ دیا کہ آپ یوکرائن پر روسی حملے کی مذمت کریں۔ یہ بھی تاریخی بات ہے کہ ان کے دور میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کا یہ عالم تھا کہ ہمارے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی امداد کے باوجود امریکی صدر نے ہمارے وزیراعظم کو فون کرنا پسند نہیں کیا۔ انہیں یہ اعتراض تھا کہ جب افغانستان کی بابت امریکہ نے پاکستان سے اڈے مانگے ہی نہیں تو پھر میڈیا پر آ کر Absolutely Not کہنے کا کیا مطلب ہے۔ تحریک انصاف خاموش سفارت کاری کی بجائے ہر بات میڈیا کی چکا چوند روشنی میں کرنا چاہتی تھی حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔
وزیراعظم صاحب نے جوش خطابت میں ملائیشیا، انڈونیشیا اور ترکی کو خوش کرنے کے لیے نئے اسلامی بلاک کے قیام کی حمایت کر دی یہ بلا سوچے سمجھے کہ ہمارا دیرینہ دوست سعودی عرب OIC کو کبھی کارنر نہیں ہونے دے گا۔ پھر جب سعودی شہزادے نے اپنے قرضے کی واپسی ادھار تیل کی بندش اور سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو واپس کرنے کی دھمکی دے دی تو انہیں احساس ہوا کہ
سفارت کاری کتنا مشکل کام ہے اس میں آپ ایک لفظ بھی بولیں تو اس کے دوہرے اور دور رس اثرات ہوتے ہیں اصل میں وزیراعظم ہر کام جلدی جلدی کرنے پر یقین رکھتے تھے اور اپنے ہر بیان کا فوری اثر چاہتے تھے جس نے انہیں مشکلات کا شکار کر دیا۔
جس انداز سے عمران خان نے اپنی حکومت کو زمیں بوس کیا یہ بذات خود اپوزیشدن کے لیے بھی بہت حیرت انگیز تھا یہ ایسے ہی تھا جیسے اخبار میں خبر آتی ہے کہ بے قابو بس کھائی میں جا گری پی ڈی ایم کا مطالبہ تھا کہ حکومت معاشی فرنٹ پر ناکام ہو چکی ہے۔ مہنگائی اور اشیائے ضروریہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں لہٰذا ملک میں نئے انتخابات ہونے چاہئیں جب تحریک انصاف نے دیکھا کہ ان کی پارٹی میں ترین گروپ اور علیم خان گروپ ان کے مخالف ہو چکے ہیں اور ان کے اتحادی بھی سر عام اپوزیشن سے معاملات طے کرتے پھر رہے ہیں تو اس وقت عمران خان کو چاہیے تھا کہ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کر دیتے مگراس میں مسئلہ یہ تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے حکومت اتنی غیر مقبول ہو چکی تھی کہ ان کا دوبارہ منتخب ہونا ناممکن تھا اس موقع پر حکومت نے اپنا پلان B لانچ کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے مہنگائی کا ایشو پس منظر میں چلا جائے یہ پلان وقتی طور پر کامیاب ہوا۔ اسلامو فوبیا کو موضوع بنایا گیا مذہب کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور عوام کے اندر امریکہ مخالف جذبات کو کیش کرانے کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی جو کہ Absolutely Not سے بھی ایک قدم آگے تھی۔ یہاں سے غیر ملکی مراسلہ یا لیٹر گیٹ سکینڈل کا آغاز ہوتا ہے۔ا س معاملے میں شدت کی وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن کو پتہ چل گیا تھا کہ ادارے غیر جانبدار ہیں جس کی وجہ سے انہیں حکومت کر ہرانے کا موقع مل گیا۔ حکومت کے ناراض ارکان پہلے ہی اپنی پارٹی کے خلاف غصے سے بھرے ہوئے تھے انہوں نے اپوزیشن کا ساتھ دیا جس کے بعد حکومت کو اپنی ہار صاف نظر آنے لگی مگر عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد آئینی طور پر وزیراعظم کے لیے اسمبلیاں توڑنا ممکن نہیں تھا۔
اس موقع پر وسیع تر قومی مفاد میں چاہئے تو یہ تھا کہ گارنٹر سر گرم عمل ہو جاتے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لیے اور وزیراعظم نئے انتخابات کا اعلان کر دیں مگر ایسا نہ ہو سکا۔ وزیراعظم کے مشیروں نے انہیں ایسے غلط مشورے دیئے کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں ووٹ کاؤنٹ کو انا کا مسئلہ بنا لیا حالانکہ جب آپ اکثریت کھو چکے ہیں تو اخلاقی طور پر استعفیٰ دینا چاہیے تھا انہوں نے ناعاقبت اندیش مشیروں کے غلط مشورے پر جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی اور ڈپٹی سپیکر کو ایک ایسے ماورائے آئین اقدام پر مجبور کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اپوزیشن پر غداری کا الزام لگا کر عدم اعتماد کو خارج کر دیا گیا اور سمجھا گیا کہ معاملہ اب داخل دفتر ہو گیا ہے چند منٹ کے وقفے میں وزیراعظم کی ہدایت پر اسمبلیاں توڑ دی گئیں۔ اب یہ معاملات اعلیٰ ترین عدالت میں پہنچ چکے ہیں جہاں فیصلہ ہونا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام کتنا صحیح یا کتنا غلط تھا۔
پاکستان کے عوام کے لیے شاید مستقبل قریب میں کوئی اچھی خبر سننے کو نہ ملے نئے انتخابات سے پہلے ملکی کرنسی روزانہ کی بنیاد پر اوپر جا رہی ہے سب سے زیادہ ایکسپورٹ یورپ اور امریکہ کی ہوتی ہے جن کے ساتھ تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر امداد کا اگلہ مرحلہ روک دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے وعدہ خلافی کی ہے۔ کسی کے پاس معاشی مسائل کا کوئی حل یا پروگرام نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے قریبی لوگ اپنی پارٹی کے خلاف ایسی ایسی کرپشن کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں کہ احتساب کا انتقامی ادارہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ جس نیب کو سیاسی مخالفین سے بدلہ لینے کے لیے استعمال کیا گیا تھا وہی نیب اب ان کا احتساب کرے گا نئی حکومت کے لیے خارجہ پالیسی میں ہونے والے Blunders کی اصلاح احوال سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ میرے نزدیک انصاف کا دوبارہ اقتدار میں آنا ناممکنات میں سے ہے۔ عوام کا اعتماد اور عوام کی حالت دونوں بہت زخمی ہیں اور اس کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.