عبدالعلیم خان کی دبنگ انٹری

12

عبدالعلیم خان نے گزشتہ دن سے پیوستہ شام (4-4-22) لاہور میں ایک دھماکہ خیز پریس کانفرنس کے ذریعے سیاسی میدان میں ایک انٹری دی۔ ویسے تو وہ پہلے ہی جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ ملاقات کر کے سیاست میں اپنی واپسی کا عندیہ دے چکے ہیں لندن میں نوازشریف کیساتھ طویل ملاقات اور کھانا تناول کر کے اپنی سیاست کا رخ بھی متعین کر چکے ہیں لیکن زیربحث پریس کانفرنس میں انہوں نے کھل کھلا کر عمران خان سے اپنی برأت کا اعلان کر کے تمام شکوک و شبہات دور کر دیئے ہیں جو ان کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں تجزیہ نگاروں کے ذہنوں میں پائے جاتے تھے۔ انہوں نے بڑے پراعتماد انداز میں پریس کانفرنس کی۔ قوم کے سامنے اپنا ذہن اور دل کھول کر رکھا۔ تحریک انصاف کے ساتھ اپنے تعلق، سیاسی سفر کے بارے میں بتایا۔ عمران خان کا شریک سفر بننے اور ان کے احکامات کی بجاآوری اور پھر علیحدگی کے بارے میں بڑے سادہ مگر صاف ستھرے انداز میں گفتگو کی۔ انہیں پی ٹی آئی کے گالم گلوچ بریگیڈ کی ان کارروائیوں کے بارے میں بھی پتہ ہی ہو گا جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں انہیں پی ٹی آئی کے جیالوں کی ان حرکات کا بھی علم ہوگا جو وہ ان دنوں، پی ٹی آئی سے علیحدہ ہو کراپوزیشن کے ساتھ کھڑے اپنے ممبران اسمبلی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ علیم خان کی حمایت کے لئے سردست کوئی گروہ یا پارٹی بھی موجود نہیں ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود انہوں نے ایسے وقت میں کپتان کے خلاف محاذ کھولا ہے جب محاذ تازہ تازہ گرم ہوا ہے اور گرم ہوتا ہی چلا جا رہا ہے کپتان اپنے نوجوانوںکے جذبات کو خوب بھڑکا رہا ہے مخالفین کی کردار کشی اور اپنے روٹھے ہوئوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے سینہ سپر ہو چکا ہے ایسے وقت میں جب تشدد کی سیاست گرم ہوتی نظر آ رہی ہے، علیم خان کا کھل کھلا کر میدان سیاست میں آنا اور عمران خان کے خلاف ڈٹ جانا معمولی بات نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تو اگر تھانیدار کسی کے خلاف ہو جائے تو وہ ڈرنے لگ جاتا ہے اور اگر وہ کاروباری بھی ہو تو وہ خوف زدہ ہو جاتا ہے کہ کہیں اس کے کاروبار کو ہی نقصان نہ پہنچ جائے۔ علیم خان نے تو حال ہی میں کروڑوں نہیں اربوں روپے لگا کر الیکٹرانک میڈیا ہائوس اور بینکنگ کے شعبے میں کاروبار کا آغاز کیا ہے۔ سما چینل اور سلک بینک کی
خریداری کے ذریعے انہوں نے کاروبار کو پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے حالات میں عمران خان کے مقابلے میں ہی نہیں بلکہ مخالفت میں کھڑا ہونا اور وہ بھی سینہ تان کر، کوئی آسان کام نہیں اس کے لئے بڑے دل گردے کے ساتھ ساتھ پختہ کردار کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی پریس کانفرنس کو سن کر اور ان کی باڈی لینگوئج دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ وہ ہر قسم کی مخالفت کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں وہ چپ کر کے نہیں بیٹھیں گے وہ دب کر اور ڈر کر بھی نہیں رہیں گے۔
علیم خان صاحب کی شخصیت کے حوالے سے دو باتیں ہمیں ذاتی طور پر معلوم ہیں جب وہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے تو یہ دونوں باتیں ہمارے پیش نظر تھیں۔ ایک بات ہمارے والد محترم عبدالرشید بٹ مرحوم و مغفور کے سانحہ رحلت سے متعلق ہے جب علیم خان تعزیت کے لئے تشریف لائے ہمیں ذاتی طور پر تعزیتی خط بھی لکھا۔ انسان جب صدمے سے دوچار ہوتا ہے تو اسے اچھے اور برے واقعات ضرور یاد رہتے ہیں۔ ہمارے دل پر ان کی ایسی تعزیت ابھی تک یاد ہے۔ سیاست دان تعزیتیں وغیرہ ضرور کرتے ہیں لیکن غیرمعروف اور عام سے شہری کے لئے جس کا سیاستدان کے ساتھ کوئی بھی معاشرتی یا سیاسی رابطہ اور واستی بھی نہ ہو، اچھے طرز عمل کا مظاہرہ یقینا قابل ستائش ہے اور علیم خان صاحب ایسا رویہ ہمارے سارے بھائیوں کے دلوں میں ابھی تک زندہ و جاوید ہے اور ان کے لئے عزت و احترام کے جذبات لئے ہوئے ہیں۔
دوسرا واقعہ ہماری سرکاری زندگی کی یادوں سے متعلق ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) میں ہماری بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر تعیناتی کے دوران ایک فیڈرل سیکرٹری سعید علوی کو اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا۔ یہاں تعیناتی سے پہلے وہ چودھری پرویز الٰہی دورِ حکمرانی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری بھی رہ چکے تھے، اس دور میںعلیم خان (2003-07) انفارمیشن ٹیکنالوجی کے صوبائی وزیر بھی رہے یہ وہ دور ہے جب ملک پر جنرل پرویز مشرف چھائے ہوئے تھے وزیر، طاقتور اور بااختیار ہوتے تھے۔ سعید علوی ڈی ایم گروپ کے دھڑلے دار سیکرٹری تھے آپ نے سی ایس ایس میں پورے ملک میں اول پوزیشن حاصل کی تھی آپ بڑے زیرک اور خوفناک قسم کے ایڈمنسٹریٹر تھے انتھک کام کرنے اور کام لینے والے افسر کی شہرت رکھتے تھے۔ ٹیوٹا کی چیئرمینی کے دوران انہوں نے بہت سے اچھے کام کئے۔ انہوں نے بطور سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ، علیم خان صاحب کی وزارت کے دور میں بہت سے ایسے فیصلے کئے جن کے آنے والے وقتوں میں مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ آج ہم جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کا مشاہدہ کر رہے ہیں تو صوبے میں اس کی بنیادیں علیم خان صاحب کے دور وزارت میں رکھی گئیں جن کے سیکرٹری (سیکرٹری ڈیپارٹمنٹ) سعید علوی صاحب ہوتے تھے۔ علوی صاحب ایک روایتی قسم کے سربراہ نہیں تھے وہ ہاں میں ہاں ملانے والوں کے بجائے ان کی رائے سے اختلاف کرنے والے افسران کو پسند کرتے تھے۔ لیکن ان کی رائے سے اختلاف کرنے کے لئے موثر دلائل کا ہونا بھی ضروری ہوتا تھا۔ علوی صاحب ہمیں اختلاف رائے ہی نہیں بلکہ اپنی رائے رکھنے کے باعث پسند بھی کرتے تھے اور اپنے قریب بھی رکھتے تھے۔ ہم نے ان سے خوب سیکھا۔ کارسرکار کو بہتر انداز میں کرنے کی صلاحیت پیدا کی۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ (آمین)
انہوں نے ہمیں ایک دفعہ بتایا علیم خان صاحب (بطور وزیر) بڑے فعال اور متحرک آدمی تھے اپنی دھن کے پکے اور کر گزر جانے والے آدمی تھے۔ جب وہ وزیر بنے تو انہوں نے اپنا دفتر اور اس سے متعلقہ سہولیات کا خود بندوبت کیا۔ اپنے دفتر کی تشکیل و تزئین کے لئے ہمیں یعنی محکمے کو تکلیف نہیں دی بلکہ یہ سب کچھ اپنی جیب سے کیا۔ ان کی یہ کوالٹی ہمارے ذہن میں ابھی تک پیوست ہے۔
بیان کردہ دونوں باتوں کے تناظر میں ان کی زیربحث پریس کانفرنس ایک اصول پسند اور اپنی ہی طرز کے انسان و سیاستدان کی باتیں لگتی ہیں۔ انہوںنے جس سادگی اور سلاست کے ساتھ باتیں کیں، صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا اس سے ان کے عزم کی سچائی اور پختگی نظر آتی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ وہ اپنے طویل سیاسی سفر کو ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ دوبارہ شروع کرنے کا پختہ ارادہ کر چکے ہیں۔ وہ لاہور سے اٹھنے و ابھرنے والے ایک بڑے سیاستدان کے طور پر سامنے آنے کی بھرپور تیاری کر چکے ہیں۔ اللہ انہیں ان کے عزائم میں کامیابی عطا فرمائے اور ملک و قوم کے لئے سودمند بنائے۔ (آمین)

تبصرے بند ہیں.