سامنے کی دیوار پہ لکھا سوال

23

وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے آج صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کیے جانے کے ساتھ اسلام آباد کی طرح لاہور بھی سیاسی گہما گہمی کا مرکز بن گیا ہے۔ دونوں دھڑے ارکان اسمبلی کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے کئی روز سے زور لگا رہے ہیں۔ خفیہ اور ظاہری ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے مگر حتمی طور پر کیا ہوتا ہے اس کا فیصلہ مرکز میں ہونا ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے سر پرائز پہ سرپرائز دئیے جانے کا کہہ کر چو نکائے چلے جا رہے ہیں۔ اب تک ارکان قومی اسمبلی کا وزن دیکھا جائے تو اپوزیشن کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے؛ چنانچہ یہ دلچسپی کا باعث ہے کہ آخر وہ کس سرپرائز کی بات کر رہے ہیں؟ موجودہ حالات میں تو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی میں بھی سرپرائز والی کوئی بات نہیں کہ یہ بظاہر واضح ہے۔ ان حالات میں سرپرائز اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگر یہ بازی پلٹ جائے۔
قارئین کرام، شاید یہ سب اب تک آپ کے سامنے کل گزر جانے والی اتوار کے روز ہو چکا ہو۔ مگر لمحہ بہ لمحہ حالات جس سرعت سے تبد یل ہو رہے ہیں ان میں تو ہر لکھا ہوا جملہ ماضی کا قصہِ پارینہ بن جاتا ہے۔ تو کہنا یہ مقصود ہے کہ عدمِ اعتماد میں اب تک کسی سرپرائز کی گنجائش بچی ہے یا نہیں، البتہ سیاسی رہنماؤں کے بیانات میں کافی سرپرائز موجود ہیں۔ وزیراعظم نے جمعہ کے روز سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات اور انٹرویو میں بھی کچھ چونکا دینے والی باتیں کیں۔ ان کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ وہ اگلے الیکشن کا ذہن بنائے بیٹھے ہیں اور عوام تک یہ پیغام پہنچا رہے ہیں کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ملک ٹھیک ہو تو انہیں بھاری اکثریت دی جائے۔ حقیقت یہی ہے کہ ملے جلے کا نظام ہمارے ملک میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پایا۔ مگر اس میں عوام سے زیادہ وزیراعظم کی اپنی جماعت کی سیاسی حکمت عملی کی ناکامی ہے کہ ساری بازی الیکٹ ایبلز پر لگا دی گئی۔ کون نہیں جانتا کہ 2018ء کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کے لیے پی ٹی آئی کے نزدیک کسی امیدوار کی پہلی قابلیت اس کے جیتنے کی حیثیت تھی۔ یوں ہماری سیاسی ڈکشنری میں الیکٹ ایبل کی اصطلاح شامل ہوئی۔ اس طرح تحریک انصاف انتخابات میں سیٹیں تو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی مگر جن شخصیات پر اس جماعت نے انحصار کیا ان کی وفاداری اس جماعت کے منشور کے ساتھ نہیں تھی، بلکہ وہ الیکٹ ایبلز تھے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اس المیے کو کم از کم ساڑھے تین سال بھگتا اور اس کی سزا اس ملک کے عوام نے پائی۔ اس دوران معیشت کا جو حال ہوا وہ
محتاجِ بیان نہیں۔ ڈالر اب 184 روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔  برآمدات میں اضافے کا کوئی امکان نہیں بلکہ وزیراعظم پچھلے کئی روز سے جن اندیشوں کا بار بار ذکر کر رہے ہیں، ان کے پیش نظر آنے والے دنوں میں برآمدات میں مزید گراوٹ خارج از امکان نہیں۔ ملکی سطح پر پیداوار بڑھانے کے اقدامات میں بھی کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آتا اور یہ بھی مان لینا چاہیے کہ بحیثیت قوم ہم ابھی اس سطح کو نہیں پہنچ سکے جہاں ملکی مصنوعات کو ترجیح دے کر درآمدات کا بوجھ کم کرنے کا سوچیں۔ آج بھی بہت سی ضروری اشیاء کے ساتھ متعدد غیرضروری اشیاء درآمد کی جاتی ہیں اور اس پر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے اور کم برآمدات اور عالمی ادائیگیوں کی وجہ سے ہمارے پاس زرِ مبادلہ کی قلت ہے۔ ان عوامل نے معیشت کو کمزور، مہنگائی میں اضافہ اور انفرادی قوتِ خرید کو کم کیا ہے۔ 2018ء میں پی ٹی آئی جو منشور لے کر آئی تھی اس میں سرگرم اور پُرعزم جدوجہد کی ضرورت تھی، مگر حکومت ایسی جدوجہد یقینی نہیں بنا سکی۔ حکومت کی کارکردگی پر ’’حرکت تیز اور سفر آہستہ‘‘ کا مصرع صادق آتا ہے مگر اس کا سبب کیا الیکٹ ایبلز تھے یا پی ٹی آئی میں منصوبہ بندی کا فقدان اور قحط الرجال؟ اس کا جائزہ پی ٹی آئی کو جماعتی سطح پر ضرور لینا چاہیے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ معیشت، صنعت اور روزگار کی ترجیحات کو چھوڑ کر ساری توانائیاں احتساب میں جھونک دینے سے حکومت کو اعتماد کا ایسا ماحول بنانے میں ناکامی ہوئی جو معاشی تحرک کے لیے ناگزیر تھا۔ عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر حکمران جماعت اس اعتماد کی طاقت کو درست طور پر بروئے کار لانے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔ عوام اس جماعت کو قومی سیاست میں تیسرے آپشن کے طور پر لیتے ہیں مگر اپنے اس پوٹینشل، عوام کے اعتماد کی طاقت اور اپنے انتخابی منشور کو عملی شکل دینے میں پی ٹی آئی کی ناکامیاں شبے سے بالاتر ہیں۔ بہرحال دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف اس فائدے کی ضرور حق دار ٹھہرتی ہے کہ قومی سطح کی سیاست اور حکومت سازی کے پہلے تجربے کی ناکامیوں میں نیت کا نہیں حالات کا زیادہ ہاتھ تھا۔ ان ناکامیوں سے کچھ سیکھا جا سکے تو بہت بہتر ہو گا۔ ایک قومی سیاسی جماعت دہائیوں کا ورثہ ہوتی ہے، اس کی ناکامی قومی المیے سے کم نہیں مگر اپنی غلطیوں سے اگر سیکھا نہ جائے تو انہیں دہرائے جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ جلسے، جلوس، الزامات، جوابی الزامات، جارحانہ بیان بازیاں بہت ہو چکیں۔ اتوار کے بعد پیر اور پیر کے بعد منگل نے بھی آنا ہے۔ تحریکِ عدم اعتماد کا نتیجہ جو بھی نکلے، ضروری ہے کہ اب اس ملک، اس کی معیشت اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچا جائے! اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آئند ہ مالی سال کا بجٹ بھی تیار کرنا ہے۔ سر جوڑ کر بیٹھا جائے کہ ان چیلنجز سے کیسے نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے۔ سامنے کی بات تو یہ ہے کہ حالات کی اس ابتری کا اصل نشا نہ عوام بن رہے ہیں۔ انہیں ان سیاسی حالات سے ویسی غرض اب نہیں رہی جیسی کبھی ماضی میں ہو جایا کر تی تھی۔ بقول شخصے کسی نے بھو کے سے جب پو چھا کہ دو اور دو کتنے ہو تے ہیں، تو اس نے ترنت جواب دیا چار روٹیاں۔ ڈالر جس برق رفتاری سے سر پٹ دوڑ رہا ہے، تو اس پہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکا ب میں۔ پٹرول کی قیمت میں گزشتہ ماہ جس مصنوعی طریقے سے کمی کی گئی، ابھی تو عوام کو اس کا بھی خمیازہ بھگتنا ہے۔ ان حالات میں اپوزیشن اگر اقتدار سنبھالتی ہے، تو سامنے دیوار پہ لکھا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے عوام کی میز تک دو وقت کا کھانا پہنچا پائے گی۔ ہمارے سیاسی حالات کی گمبھیرتا اور خارجہ پالیسی کی گمبھیرتا، ایک طرف، مگر بات وہی سامنے کی دیوار پہ لکھا سوال کہ کوئی بھی برسرِ اقتدار آنے والی پارٹی عوام کی میز تک دو وقت کا کھانا پہنچانا کیسے جاری رکھ سکے گی؟

تبصرے بند ہیں.