سرپرستوں کے بغیر ’’روندو‘‘ کھلاڑی کا انجام

22

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھجوا دی۔ اس پر صدر نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ دوسری طرف اپوزیشن اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جبکہ چیف جسٹس نے پہلے ہی سپریم کورٹ کا فل کورٹ سیشن بلا لیا تھا۔پاکستان کی قومی سیاست ایک فیصلہ کن موڑ لینے جا رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے ایک نامور ، بڑے اور پراثر کھلاڑی کا ’’انجام‘‘ ہونے جا رہا ہے اس کھلاڑی نے کھیل کے میدان میں بڑا نام کمایا۔ پاکستان کے لئے ورلڈ کپ کی صورت میں ایک عزت اور وقار حاصل کیا۔ لوگوں کے دلوں میں ایک جگہ بنائی۔ عزت کمائی۔ عمران خان زندہ باد۔
قوم نے اس کی آواز پر لبیک کہا کینسر ہسپتال کی تعمیر کے لئے عمران خان کی اپیل پر لوگوں نے نوٹوں کی بارش کر دی۔ عمران خان کے خواب کو ایک تعبیر مل گئی۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال عمران خان کے خوابوں کی ایک زندہ اور جاوید تعبیر ہے۔ خیراتی کاموں کے شعبے میں عمران خان نے ایک عظیم الشان مثال قائم کر دکھائی۔ عمران خان زندہ باد۔
اس دوران عمران خان ایک اچھے مقرر کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے موٹیویشنل سپیکر کے طور پر اپنا آپ منوایا۔ انہوں نے ہر طبقہ فکرو معاش کو اپنی گفتگو سے متاثر کیا ،ان کی کھلاڑی کے طور پر عالمی شہرت، پاکستان کے قومی ہیرو اور پھر ایک موٹیویشنل سپیکر کے طور پر کامیابی انہیں سیاست کے پرخار میدان میں لے آئی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں ایک عالمی سازش کے مہرے کے طور پر میدان سیاست میں اتارے گئے۔ اس حوالے سے حکیم سعید شہید کے سفرنامہ جاپان میں ذکر کا حوالہ بھی موجود ہے اور ڈاکٹر اسرار مرحوم و مغفور کی ایک تقریر کا ریفرنس بھی دیا جاتا ہے۔ یہ حوالہ جات اس وقت کے ہیں جب عمران خان ابھی سیاست کے طفل مکتب بھی نہیں تھے، بہرحال جب عمران خان میدان سیاست میں اترے یا اتارے گئے۔ بے معنی سا لگتا ہے کیونکہ اب فیصلہ کرنے کے لئے ان کی کارکردگی ہی ایک معیار و قیاس ہے جو ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔
عمران خان میدان سیاست میں نئی طرز سیاست، صحافت اور معاشرت کے بانی شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے موٹیویشنل سپیکر کے طور پر پاکستان میں پائی جانے والی برائیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کی پرجوش کاوشیں کیں۔ تاریخی حوالہ جات کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام حیات کا تڑکہ بھی لگاتے ہوئے انہوں نے بہت سارے مسائل کی وجوہات کی نشاندہی کی۔ سچ جھوٹ کی آویزش اور آمیزش کے ساتھ جب اونچی سروں میں بات کی جاتی ہے تو پھر جوش میں کسی کو اس بات کا یارا نہیں رہتا کہ وہ ان حوالہ جات کو دیکھ لیں۔ پرکھ لیں جن کا سہارا لے کر عمران خان اپنا کہیں بنا رہے ہیں اپنا کیس پیش کر رہے ہیں۔ بہرحال عمران خان صاحب ایک عرصہ تک اپنی جذباتی تقریروں کے سہارے پاکستان کے مسائل پر روشنی ڈالتے رہے حتیٰ کہ 2011ء میں ان کی مینار پاکستان کے سائے تلے ’’رونمائی‘‘ کا بندوست کیا گیا اور انہیں ایک متبادل کے طور پر قوم کے سامنے پیش کیا گیا۔ ہمارے ملک کے فیصلہ سازوں نے پیپلز پارٹی (آصف زرداری) اور مسلم لیگ (نواز) کے مقابل ایک تیسری قوت کے طور پر ابھارنا شروع کیا۔ سیاست و صحافت کے آلات اور حالات کو عمران خان کی ایک قوت کے طور پر آبیاری کے لئے وقف کر دیا گیا حتیٰ کہ 2018ء کے انتخابات میں زور لگا کر انہیں ’’کامیاب‘‘ قرار دلایا گیا اور مختلف جماعتوں کے اراکین کو متحرک کرا کر، لوٹے بنا کر عمران خان کی حمایت میں کھڑا کیا گیا۔ آزاد ممبران کو بھی عمران خان کی حمایت پر مجبور کیا گیا اس طرح عمران خان اور ان کی پارٹی مرکز اور پنجاب میں مسلط کر دی گئی جبکہ کے پی کے میں2013ء سے بھی ان کی حکمرانی قائم تھی۔
20/22 سال کی تیاری /جدوجہد کے بعد عمران خان صاحب کو ایوان اقتدار میں داخل کیا گیا پھر ان کی شخصیت کے جوہر اور بھی طاقت اور شدت کے ساتھ کھلنے لگے۔ انہوں نے ریاستی طاقت کے ساتھ، اپنی بولنے اور مسلسل بولنے کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک نئی مگر بری طرز حکمرانی کو بھی نہیں بلکہ انتقامی سیاست کو بھرپور صلاحیت کے ساتھ فروغ دینا شروع کیا۔ اگست 2018ء سے لے کر اپریل 2022ء تک انہوں نے صرف اور صرف اپنوں کو ناراض اور مخالفین کو بے زار کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ پکڑ دھکڑ، نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی سیاست کو فروغ دیا۔ اپنے اقتدار کے سارے عرصہ کے دوران انہوں نے شریف، زرداری، بھٹو خاندانوں اور ان سے وابستہ افراد کو کرپٹ، چور اور بے ایمان ثابت کرنے میں نہیں بلکہ صرف اور صرف بدنام کرنے کی کاوشیں کیں۔ شریف خاندان کو منی لانڈرر ثابت کرنے کی کاوشیں بھی کی گئیں لیکن انہیں کسی محاذ پر بھی کامیابی نہ ہو سکی۔ عدالت کے ذریعے نواز شریف کو سزا دلائی گئی۔ عمران خان کی مرضی کے ساتھ عدالت نے نواز شریف کو علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت دی اور پھر عمران خان کف افسوس ملتے رہے گئے۔ عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں ملکی معیشت اور معاشرت شدید توڑ پھوڑ کا شکار ہوئی۔ معاشی طور پر پاکستان دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکا ہے۔ معاشی ماہرین کے ایک طبقے کی رائے ہے کہ پاکستان عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو عملاً ایک دیوالیہ ریاست کے طور پر ہی ڈیل کر رہا ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے مرکزی بینک کو عملاً آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ ٹیکس نظام پر بھی انہی کا کنٹرول ہو چکا ہے۔ عالمی قرضے نامعلوم حدود کو چھو رہے ہیں۔ بجٹ خسارہ ہو یا تجارتی خسارہ قابو سے مکمل طور پر باہر ہو چکا ہے۔ قدر زر میں شدید کمی ہو چکی ہے۔ روپے کی بے توقیری تاریخی ہے۔ روزگار کے مواقع نامعلوم کہاں کھو چکے ہیں۔ سرکاری ادارے کارکردگی کے اعتبار سے اپنی انتہائی پست سطح تک جا پہنچے ہیں۔ پنجاب میں چیف سیکرٹریوں کے تبادلے ایسے ہوتے ہیں جیسے کسی کلرک یا منشی کو لگایا یا ہٹایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں آئی جی بھی ایسے ہی تعینات اور تبدیل ہوتا رہا پھر کارکردگی تو ایسی ہی ہو گی۔ رشوت و اقربا پروری عام ہے۔ اس حوالے سے باتیں زبان زد عام ہیں۔ وزیراعظم کے حوالے سے توشہ خانہ کیس (گھڑی سکینڈل) ایسی ہی کارکردگی کا شاخسانہ لگتا ہے۔
سفارتی سطح پر پاکستان مکمل طور پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ ہمارے سرحدی ہمسائے ایران، ترکی، چین کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ حد یہ ہے کہ افغانستان وہ طالبان جن کے لئے ہم نے 20سال تک دہشت گردی کا مقابلہ کیا، ہم سے ناراض ہیں۔ انہوں نے وزراء خارجہ کانفرنس میں اپنا وزیرخارجہ نہ بھیج کر اپنی ناراضگی کا کھلا اظہار بھی کر دیا ہے۔ چین سی پیک معاملات کے حوالے سے حکومت سے خوش نہیں ہے۔ ہمارا ابدی دوست سعودی عرب بھی ہم سے ناراض ہے۔ ہمارا تاریخی شراکت دار امریکہ بھی مبینہ طور پر عمران حکومت کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ ہم عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔
ایوان حکومت، پارلیمان میں بھی عمران خان مکمل طور پر تنہائی کا شکار نظر آرہے ہیں۔ ان کے اتحادیوں کی غالب اکثریت ان سے برات کا اعلان کر چکی ہے۔ سوائے جی ڈی اے اور ق لیگ کے ان کے تمام اتحادی ایوان میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حامی بن چکے ہیں۔ ق لیگ وزارت اعلیٰ پنجاب لے کر ان کے ساتھ کھڑی ہے حالانکہ ق لیگ خود بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آرہی ہے۔ جہاں تک حکمران جماعت کا تعلق ہے وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔ ان کے علیم، ترین اور چھینا گروپ کھل کھلا کر سامنے آچکے ہیں۔ دیگر 22 اراکین باغی ہو چکے ہیں۔ عمران خان صاحب پارلیمان میں اپنی ننھی منی اکثریت کھو چکے تھے۔ آج صرف ایوان میں اس حقیقت کی تصدیق ہونا باقی تھی۔
اب یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ کرے گی کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو گی یا عدم اعتماد ۔ بہرحال دونوں صورتوں میں وزیراعظم عمران خان اب سابق ہو چکے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.