سپریم کورٹ نے ریاستی عہدیداروں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سےروک دیا

170

 

اسلام آباد: سپریم کورٹ قومی اسمبلی کی آج کی کارروائی کے خلاف اپوزیشن اور سپریم کورٹ بار کی درخواست پرسماعت شروع ہوگئی ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

 

قومی اسمبلی میں ہونے والی آج غیر آئینی کارروائی کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی از خود نوٹس لیا جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو چیلنج کیا۔تین رکنی بنچ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتیں پرامن رہیں، کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے۔اسمبلی میں جو ہوا اس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لینے کا فیصلہ کیا۔ تمام ریاستی دارے کوئی غیر آئینی قدم نہ اٹھائیں۔

 

قبل ازیں نیئر بخاری نے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ  ڈپٹی اسپیکر کا اقدام آئین کے آرٹیکل 66،17،95 کی خلاف ورزی ہے  ۔ ڈپٹی اسپیکر کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے ۔ درخواست میں اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر،وزیر اعظم،صدر کو فریق بنایا گیا ہے۔

 

دوسری طرف قومی اسمبلی میں ہونے والی غیر آئینی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ بار نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

تبصرے بند ہیں.