’’حمزہ ہی ضروری ہے‘‘

38

حمزہ شہباز شریف کے پارلیمانی پارٹی کی طرف سے وزیراعلیٰ نامزد ہونے اور میاں نواز شریف کی طرف سے منظوری ہونے کے ساتھ ہی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حمزہ شہباز شریف ہی کیوں۔ دلچسپ یہ ہے کہ یہ سوال اٹھانے والے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹویٹس کے ساتھ ساتھ وہ صحافی بھی ہیں جو عمران خان کو بہرصورت وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو مسلم لیگ نون میں ایک خاص دھڑا، پہچان اور تعارف رکھتے ہیں۔ سوال موروثیت کا اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پورے پنجاب میں نواز لیگ کے پاس کوئی ایسا کارکن نہیں تھا جسے یہ عہدہ دیا جا سکتا۔ بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جان بوجھ کر خواجہ سعد رفیق کا نام لیا جا رہا ہے جو اس موقعے پر غلط فہمیاں پیدا کرنے کی باقاعدہ سوچی سمجھی سازش بھی ہوسکتی ہے۔ یہ لوگ نظرانداز کر رہے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں، انہوں نے ابتدا میں ہی، ضمنی انتخاب میں عمران خان کو شکست دینے کے بعد، پنجاب اسمبلی کی نشست خالی کر دی تھی اور اب اگر انہیں وزیراعلیٰ بنایا جائے تو اس کے لئے انہیں ایک مرتبہ پھر پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑنا ہو گا، کیا مسلم لیگ نون کے پاس اس وقت اتنا موقع ہے کہ وہ ایک آزمودہ جنگجو سپاہی کو قومی محاذ سے صوبے میں لائے؟
’حمزہ کیوں ضروری ہے‘، کا ایک چھوٹا سا، سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ نو ن کی پارلیمانی پارٹی کو اس پر اعتراض نہیں ہے تو دوسروں کے اعتراضات کیا ضرورت اور اہمیت ہے، چلیں، مان لیتے ہیں کہ جمہوریت میں سب کو اعتراض کرنے کا حق ہے توکیا یہ اعتراض کو کرنے والوں کی یادداشت اتنی کمزور ہے کہ انہیں تین، چار دن پرانی باتیں بھی یاد نہیں رہتیں۔ متحدہ اپوزیشن کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز شریف ہرگز نہیں تھے، یہ پگ چوہدری پرویز الٰہی کو پہنائی جارہی تھی جنہوں نے شہباز شریف کے بجائے عمران خان کے ساتھ جانا اپنے لئے سیاسی طور پر زیادہ بہتر سمجھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کے اس فیصلے کے بعد پہلا تاثر یہی تھا کہ عمران خان نے پنجاب فتح کر لیا ہے اور متحدہ اپوزیشن کو یہاں ایک تگڑاامیدوار چاہئے تھا جو حکومتی ارکان کو بھی اپنی طرف کھینچ سکتاہو۔ میں، یہاں اعتراض کرنے والوں سے کہوں گا کہ وہ تمام ارکان اسمبلی کی ایک فہرست بنا لیں ، یہ فہرسست ابھی ایک دوسرے کام بھی آنی ہے ،اوروہ نام بتا دیں جو حمزہ شہبازسے بہتر چوہدری صاحب جیسے سیاسی جادوگر کا مقابلہ کر سکتا ہے جن کا رکھ رکھاؤ اور دسترخوان بہت مشہور ہے بلکہ ہمارے کچھ تجزیہ نگار دوستوں میاں حبیب اللہ اور محسن گورایہ نے توچوہدری صاحب کوسیاست کے کھیل میں آصف زرداری سے بھی ماہر قرار دیا تھا۔میں جانتا ہوں کہ کوئی ایسا نام نہیں ملے گا جو حمزہ شہباز سے بہتر مقابلہ کر سکتا ہو، پانسہ پلٹنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس وقت عمران خان کے حامیوں کی دھوکہ دیتی باتوں سے متاثر ایک یا دو فیصد فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں تو کسی کمزور امیدوار کے نامزد کرنے پرپارٹی کے ننانوے فیصدحامیوں نے لعن طعن کرنی تھی، کہنا تھا کہ یہ کیا چول ماری ہے۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ ترین گروپ حمزہ شہباز کی وجہ سے کمفرٹ ایبل محسوس کر رہا ہے۔
چلیں، چوہدری پرویز الٰہی سے مقابلے کو ایک طرف کر دیتے ہیں اور اعتراض کرنے والے چونکہ بہت زیادہ جمہوری اور اصولی ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ اب وہ ایک میرٹ لسٹ بنالیں۔اس میرٹ لسٹ میں مشرف دور سے یعنی کم از کم کوئی بیس پچیس برس کی جدوجہد رکھیں، استقامت رکھیں، قربانیاں رکھیں، سیاسی مقام رکھیں ، موزونیت رکھیں، کارکنوں سے تعلق رکھیں،حکومتی امور کا تجربہ رکھیں اور سب سے بڑھ کر جیل ہی نہ رکھیں بلکہ اس کے ساتھ اپنی مرضی سے پانچ، سات میرٹ مزید بنا لیں اورپھر ان پر نمبر دینے شروع کر دیں۔ میں منتظر رہوں گا کہ وہ کس رکن پنجاب اسمبلی کو حمزہ شہبازسے زیادہ نمبر دیتے ہیں۔ وہ نوجوان جس نے پورے خاندان کی جلاوطنی کے دوران یہاں اکیلے رہ کر اپنے خاندان کے کاروباری اور سیاسی مفادات کاتحفظ کیا اور آپ مشرف دور کی ہی بات کیوں کرتے ہیں اس نے عمرانی آمریت میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پورے حوصلے سے اس طرح جیل کاٹی کہ جب اللہ تعالیٰ نے طویل عرصے کے بعد بیٹی کی صورت اولاد جیسی عظیم نعمت عطا کی تب بھی اس نے رہائی کی بھیک نہیں مانگی، کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ باتیں کہنے میں بہت آسان لگتی ہیں لیکن جو کرتا ہے وہ جانتاہے کہ وہ کس حوصلے اور برداشت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
میں اس نامزدگی کو ایک اور طرح سے بھی لیتا ہوں کہ حمزہ شہباز کی پنجاب میں بطور وزیراعلیٰ کامیابی کے امکانات کسی بھی دوسرے سے زیادہ اس لئے موجود ہیںکہ والد شہبا ز شریف وزیراعظم ہوں گے ۔جہاں ایک باپ اپنے بیٹے کو کامیاب دیکھنا چاہے گا وہاں حمزہ کام کے حوالے سے اپنے والد کی کاپی ثابت ہوسکتے ہیں، وہ صوبے میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے شہباز سپیڈ واپس لا سکتے ہیں جس کی چین تک میں دھوم تھی۔ یوں بھی یہ ایک عبوری دور ہے جو تین ماہ جاری رہتا ہے یا ڈیڑھ برس، اس کے حوالے سے کچھ واضح نہیں ہے۔ مسلم لیگ نون نے پنجاب کے ووٹر کو ایک پیغام دینا ہے کہ وہ شیر پر ٹھپے لگا کرامن، ترقی اور خوشحالی کادور واپس لا سکتے ہیں تو ضروری ہے کہ پنجاب کی مینجمنٹ محض شہباز شریف کی فیملی کے ساتھ بغض میں کسی وائیں، وٹو، نکئی یا بزدار جیسا کمزور شخص کے حوالے نہ کی جائے۔ پنجاب آدھے سے زیادہ پاکستان ہے اورا س کی مینجمنٹ پورے پاکستان سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ میںکسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ پارٹیوں میں جمہوریت کا حامی ہوںاور موروثیت کے خلاف لیکن اگر بار بار کے مارشل لاوں کے بعد موروثیت ہی پارٹیوں کو بچا رہی ہے اور چلا رہی ہے تو جب تک کوئی جمہوری انقلاب برپا نہیں ہوتا اس سے پرے ہو کے سیاسی جماعتوں کو نہیں چلایا جا سکتا۔ یہ برصغیر کے عوام کے خمیر میں ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کی اولادوں کو بھی لیڈر بنا لیتے ہیں اور یوں بھی اگر آپ کو تاجر کے بیٹے کے تاجر ہونے ، وکیل کے بیٹے کے وکیل ہونے اوربیوروکریٹ کے بیٹے کے بیوروکریٹ ہونے پر اعتراض نہیں تو اسی طرح سیاست بھی ایک پیشہ ہے، مہارت ہے، ایک فن ہے سو یہاں زیادہ جذباتی ہونے کی کوئی فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے منظرنامے میں تیزی سے کئے جانے والے موثر فیصلوں کی ضرورت ہے، ہاں، جب نئے انتخابات کے بعد پانچ برس کا وقت ہو گا، فیصلے وقتی ضروریات کے بجائے تدبراور حکمت کے ساتھ ہو رہے ہوں گے تو ہم ضرور اصرار کریں گے کہ جمہوری اصولوں کو راسخ کیا جائے،خواجہ سعد رفیق جیسے سیاسی کارکن کو اس کا حق دیا جائے مگر اس وقت حمزہ ہی ضروری ہے، ناگزیر ہے، بہترین ہے۔

تبصرے بند ہیں.