زخم خوردہ انا کی آخری ہچکی

30

عمران خان کا آفتاب جہاں تاب افق مغرب سے آن لگا ہے۔ انہونی کا نقّارہ بج رہا ہے اور میرے دوست، اظہار الحق کے بقول ؎
غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے
یہ آسمان کیوں ٹوٹا؟ خان صاحب کو فرصت ملے تو تین سو کنال پر پھیلے اپنے گھر کے سبزہ زار میں کسی تختہ گل کے پہلو میں بیٹھ کر اس سوال کی گھتیاں سلجھا سکتے ہیں۔ کچھ عرصے سے تسبیح ہر لمحے اُن کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ اُن کے افکار میں بھی صوفیانہ رنگ خاصا گہرا ہورہا ہے۔ اُن کی تقاریر بھی اسلامی تاریخ کے روشن حوالوں سے آراستہ ہوتی ہیں۔ وہ اکثر درویشانہ بے نیازی کے ساتھ بتاتے بھی رہتے ہیں کہ اُنہیں اقتدار کا کوئی لالچ نہیں۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ سو یقیناً وزارت عظمی کا چھن جانا اُن کے لئے کسی صدمے کا باعث نہیں ہونا چاہئیے۔ ایک قناعت شعار، لہوولعب سے بے نیاز اور دنیا بیزار شخص کے لئے اقتدار میں رکھا ہی کیا ہے؟ لہذا مجھے مکمل یقین ہے کہ خان صاحب، فراغت کے کچھ شب وروز ضرور نکالیں گے اور اس سوال کا جواب تلاش کریں گے کہ آخر اُنہوں نے امریکہ کا کیا بگاڑا تھا کہ جو بائیڈن سارے کام چھوڑ چھاڑ کر اُن کے پیچھے پڑ گیا؟ جس شخص کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اُنہیں ایک آدھ منٹ کی فون کال ہی کرلے وہ امریکہ کے داخلی اور خارجہ مسائل کو چھوڑ چھاڑ کر پہروں شہبازشریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن سے گفتگو کرتا اور خان صاحب کو وزیراعظم ہائوس سے بے دخل کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ لندن میں بیٹھے نوازشریف سے پینگیں بڑھاتا ہے اور تو اور اُس کا رابطہ، نچلی سطح کے سیاسی کارکنوں اور کچھ ٹی۔وی اینکرز سے بھی ہے جن کے ساتھ مل کر وہ سازش کا تانا بانا بن رہا ہے۔ ایسا کیوں ہوا ہے ؟ یقیناً خان صاحب رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں، کسی گوشہ عافیت میں بیٹھ کر غور فرمائیں گے۔
اتوار، یکم رمضان المبارک، غروب آفتاب اور افطار کے لمحہ سعید سے پہلے پہلے، ڈرامے کا آخری منظر، تماشاگاہ سیاست کا حصہ بن جائے گا۔ کیا آئین، قوانین، قواعد، ضوابط اور جمہوری روایات واقدار کے مطابق کارروائی چلے گی اور اکثریت کا فیصلہ خوش دلی سے مان لیا جائے گا؟ کیا کبھی ’’ہار نہ ماننے‘‘ اور ’’آخری بال تک لڑنے والے‘‘ خان صاحب سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کی مدد سے اپنی زنبیل سے کوئی طلسماتی آلہ نکال کر اپوزیشن کی عددی اکثریت کو اقلیت میں بدل ڈالیں گے؟ کیا خان صاحب کی اپیل پر پارلیمنٹ ہائوس کے باہر جمع ہونے والا ایک لاکھ کا پرجوش مجمع، امریکی سازش کے ’’وطن دشمن‘‘ کرداروں کا ایوان میں داخلہ ناممکن بنا دے گا؟ کیا عدم اعتماد کی تحریک منظور ہوجانے کے بعد بھی خان صاحب آسانی سے وزیراعظم ہائوس کا قبضہ چھوڑ دیں گے؟ ان سوالوں کے جواب ملنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ خان صاحب کو ’’ایزی‘‘ نہیں لینا چاہئے۔
خان صاحب جو کل تک اپنے قلعہ اقتدار کو قصرفولاد تصور کرتے تھے، اب فلک بوس بلندیوں سے زینہ زینہ نیچے اترتے سنگلاخ زمینی حقیقتوں تک آن پہنچے ہیں۔ 2018؁ سے بہت پہلے، علامہ اقبال کے الفاظ میں، ’’فطرت نے لالے کی حنا بندی‘‘ شروع کردی تھی۔ کوشش کے باجود، مشرف کے مارشل لاء ، شہرہ آفاق ریفرنڈم کی جنوں خیز حمایت اور آمرِ وقت کی بلائیں لینے کے باوجود خان صاحب کا غنچہ آرزو بِن کھلے مرجھا گیا۔ تب موسموں کی صورت گری کرنے والی مقتدر ہوائوں نے اُن کی تمنائوں کے چمنستان کو شاداب کرنے کی ٹھانی۔ خان صاحب کی راہوں کے کانٹے چُنے جانے لگے۔ سب سے بڑے سیاسی حریف نوازشریف اور اس کی گستاخ بیٹی کو انتخابی میدان سے باہر کرکے مقدمات میں الجھا دیا گیا۔ جیلوں کی کوٹھڑیاں آباد ہوگئیں۔ انتخابات کی بساط بچھی۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ عین ووٹ شماری کے وقت نتائج کی ترتیب وترسیل کے نظام (RTS) کی نبضیں ڈوب گئیں۔
مُشکبو ہوائیں ملک کے طول وعرض میں پھیل گئیں۔ صبح دم انہوں نے لوح تاریخ پر رقم کیا ’’نصر من اللہ وفتح قریب‘‘ اور خان صاحب فاتحانہ شکوہ وجلال کے ساتھ ایوان اقتدار میں داخل ہوگئے۔
خان صاحب کی تکمیل آرزو کے بعد بھی مشفق ہوائوں نے خان صاحب کو تنہا نہ چھوڑا۔ پونے چار سال تک اُن کی بلائیں لیتی اور اُن کے سر پر منڈلاتی بلائوں سے لڑتی رہیں۔ بات پھر بھی نہ بنی تو ہوائیں تھک سی گئیں۔ تھکن اتارنے اور آرام کے لئے اپنے اپنے منطقوں کو چلی گئیں۔
خان صاحب کو یکایک یوں لگا جیسے وہ لق ودق صحرا میں تنہا کھڑے ہیں۔ اچانک چاروں سمت سے بگولے اٹھنے لگے۔ ہاتھ پائوں مارنے کے باوجود خان صاحب کو سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ کیا کریں۔ انہوں نے اپنی مشفق ہوائوں کو پکارا لیکن صحرائی بگولوں کے فلک شگاف شور میں اُن کی آواز دب گئی۔ یوں بھی مشفق ہوائیں سالوں پر محیط اپنی بے کراں شفقت اور بے پایاں مہرومحبت کے باوجود خان صاحب کی کشتِ ویراں کی لاحاصلی سے مایوس ہوکر گوشہ نشین ہوچکی تھیں۔ سو، خان صاحب کو لق ودق صحرا میں اپنے دست وبازو پر چھوڑ دیا گیا۔ ستم یہ ہوا کہ سالوں تلک آغوش مادرِ مشفق میں رہنے کے سبب اُن کے دست وبازو مفلوج ہوچکے تھے۔ انہیں عادت ہی نہیں رہی تھی کہ انہیں کیسے حرکت میں لائیں۔
تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لئے تنہا ہوجانے کے بعد خان صاحب نے اپنے عالی دماغ مشیروں کی شوریٰ بلائی اور اپنے قلعہ اقتدار پر حملہ آور ہونے والی سپاہ کا راستہ روکنے کے لئے نئی دفاعی لشکربندیاں کیں۔ انہیں بتایا گیا کہ اپوزیشن آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ بائیس کروڑ عوام کے دل آپ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ آپ جلسوں پہ نکلیں۔ لاکھوں عوام متحرک ہوں گے تو ماحول بدل جائے گا اور عدم اعتماد کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ سو پہلی دفاعی لائن کے طور پر خان صاحب رابطہ عوام کی مہم پر نکل پڑے۔ بڑے جلسے کئے۔ اپوزیشن کو وہ وہ سنائیں کہ آسمان بھی لرز گیا۔ لیکن تحریک عدم اعتماد قائم رہی۔ دوسری دفاعی لائن کے طور پر عدالت عظمی میں ایک بے سروپا ریفرنس دائر کردیاگیا تاکہ دانہ دانہ بکھرتی پارٹی کو سمیٹا جاسکے لیکن یہ حربہ بھی کارگر نہ ہوا۔ ان کی جماعت کے منحرفین میں اضافہ ہوتا گیا۔ تب تیسری دفاعی لائن کے طور پر دس لاکھ کے عظیم الشان مجمع عام پر انحصار اٹھا رکھاگیا جو منہ زور سیلاب کی طرح حرکت میں آئے گا اور قراردادعدم اعتماد کو بہالے جائے گا۔ جلسہ ہوگیا۔ مجمع ایک لاکھ کی تعداد سے بھی کوسوں دور رہا۔ اس مجمع کی پٹاری سے ایک سفارتی جائزہ رپورٹ کا کینچوا نکلا جسے امریکی سازش کا نام دے کر ساری اپوزیشن کو غداروں کا ٹولہ قرار دے دیا گیا۔ یہ سودا بھی نہ بکا تو وزیراعظم کو اسٹیبلشمنٹ کی مدد لینا پڑی۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کچھ تجاویز رکھیں اور التماس کی کہ بیچ بچائو کرادیں۔ یہ تجاویز اپوزیشن کے سامنے رکھی گئیں جس نے اجتماعی طور پر ’این۔آر۔او‘ دینے سے انکار کردیا اور کہا ’’خان صاحب قرار داد عدم اعتماد کا سامنا کریں۔‘‘
اپنی اس بے بسی ولاچارگی کاتصور خان صاحب کے احاطہ وہم وگمان میں بھی کبھی نہیں آیا تھا۔ آخری دفاعی لائن کے طور پر خان صاحب سپریم کورٹ کو متحرک کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی ’’امریکی سازش‘‘ کا نوٹس لیتے ہوئے متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کو غدار قرار دے۔ اُن کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمات کی اجازت دے اور قراردادعدم اعتماد کی کارروائی کو آگے بڑھنے سے روک دے۔ عدالت عظمی نے نہ سنی تو ایک لاکھ کا لشکر جرّار بہر حال متحرک ہوگا اور پارلیمنٹ کے مطبخ میں پکنے والی ہنڈیا عین ’ڈی۔چوک‘ میں کرچی کرچی ہوجائے گی۔
توقع کے عین مطابق خان صاحب کے قانونی ماہرین ایک ایسی آئینی شق نکال لائے ہیں جس کے تحت عدم اعتماد ہوجانے کے بعد بھی وزیراعظم اپنے عہدے پر کام کرتا رہے گا جب تک صدر مملکت فرمان جاری نہیں کرتے۔ شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ اس فرمان کے جاری کرنے کی کوئی مدت مقرر نہیں لہذا خان صاحب عدم اعتماد ہوجانے اور پارلیمانی اکثریت کھو جانے کے بعد بھی بدستور وزیراعظم رہیں گے اور امکانی طور پر ڈیڑھ سال کی باقی مدتِ اقتدار پوری کریں گے۔ اس صورتحال میں قومی معیشت، داخلی وخارجہ معاملات اور ملکی سلامتی واستحکام پر کیا گزرتی ہے؟ اس سے خان صاحب کا کچھ تعلق واسطہ نہیں۔ یہ ’’حب الوطنی‘‘ اور ’’غداری‘‘ کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہے۔
آئین کچھ بھی کہتا رہے، ملک کا مفاد زیادہ عزیز ہوگیا ہے۔ ماضی کے تمام آمر بڑی صراحت کے ساتھ یہ بتا چکے ہیں۔ اگرچہ یکایک خان صاحب کو کئی آزار لاحق ہوگئے ہیں لیکن اُن کے دل میں زہرآلود خنجر کی طرح ترازو دُکھ ایک ہی ہے کہ مادرِمشفق جیسی اُن ہوائوں کو کیا ہوا جو برسوں اُنہیں لوریاں دیتی، اُن کے ماتھے پہ بوسے ثبت کرتی، اُن کی طرف اُٹھنے والی میلی آنکھ میں سلائیاں پھیر دیتی، اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی زبانیں کھینچ لیتی تھیں، وہ یکایک اجنبی کیوں ہوگئی ہیں؟ میرے خیال میں خان صاحب کو وزارت عظمی جانے کا اتنا قلق نہیں جتنا قلق دیرینہ رفاقت رکھنے والی ان دل نواز ہوائوں کی بے رُخی کا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سازشی عناصر ان کی جان کے درپے ہیں لیکن اجنبیت کی چادر اوڑھے ہوائوں میں ہلکی سی لرزش بھی پیدا نہیں ہوئی۔ خان صاحب کو ایسی بے مہری وبے نیازی کی توقع نہ تھی۔
زخم خوردہ انا کی آخری ہچکی ڈوب جانے کو ہے۔ جلد یا بدیر خان صاحب کو اس سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ یہ آسمان کیوں ٹوٹا؟
میں غور کرتا ہوں تو اپنے ایک اور دوست امجد اسلام امجد کا شعر یاد آجاتا ہے ؎
نہ آسماں سے نہ دشمن کے زور و زَر سے ہوا
یہ معجزہ تو مرے دست بے ہنر سے ہوا

تبصرے بند ہیں.