قرارداد دہلی: تحریک پاکستان کا ایک سنگ میل

41

آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب نمائندوں کے مارچ 1940میں دہلی میں منعقدہ کنونشن میں منظور کی جانے والی قرارداد جس سے تاریخ میں قرار داد دہلی کے نام سے پکارا جاتا ہے کی تفصیل بیان کرنے سے قبل یہ وضاحت کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے لیے موقر جریدے ماہنامہ "اردو ڈائجسٹ ” لاہور کے ایک پرانے شمارے (مشرقی پاکستان نمبر دسمبر 2000) میں 4, 5عشرے قبل کے ایک نامور صحافی محمد بد رِ منیر کے تحریک پاکستان کے دو نامور بنگالی راہنماوں جناب حسین شہید سروردی اور شیر بنگال مولوی فضل الحق کے بارے میں چھپنے والے مضامین سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ پہلے تھوڑا سا ذکر شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق اور حسین شہید سروردی کا اور اس کے بعد دہلی کنونشن اور اس میں منظور کی جانے والی قرارداد کی تفصیل۔
ابو القاسم مولوی فضل الحق جو شیرِ بنگال کے لقب سے پہچانے جاتے ہیں، وہ شخصیت ہیں جنہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ منٹو پارک لاہور میں مشہورِ عالم قراردادِ لاہور جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا پیش کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد مولوی فضل الحق پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن، مشرقی پاکستان کے وزیرِ اعلیٰ و گورنر اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ اور وزیرِ تعلیم رہے۔ حسین شہید سہُروردی بھی تحریک پاکستان کے نامور راہنما تھے۔ بنگال مسلم لیگ کے سیکرٹری کے حیثیت سے مسلم لیگ کی تنظیم نو کے سلسلہ میں دن رات کام کیا۔ اُن کی کوششوں اور ان کی زیرِ سرکردگی چلائی گئی بھرپور انتخابی مہم کے نتیجے میں 1945-46ء
کے عام انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو بنگال میں زربردست کامیابی ملی اور وہ دستور ساز اسمبلی کی کل 6 کی 6 مسلم نشستوں اور صوبائی اسمبلی کی کل 119نشستوں میں سے 112 پر کامیاب رہی۔ حسین شہید سہروردی متحدہ  بنگال کے وزیرِ اعظم بنے ۔ قیامِ پاکستان کے بعد 50کی دہائی کے برسوں میں پاکستان کے وزیرِ قانون اور بعد میں وزیرِ اعظم بھی رہے۔ 1956ء کے دستور کی تیاری اور منظوری میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ حسین شہید سُہروردی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے 1945-46ء کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے دستور ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے کنوینشن منعقدہ دہلی میں قراردادِ لاہور (قراردادِ پاکستان) میں انتہائی اہم ترمیم منظور کروائی جس کی رو سے کہا گیا کہ مسلمانانِ ہند برصغیر کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دو آزاد مملکتوں کے بجائے ایک ہی مملکت (پاکستان) کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔
45-46  کے عام انتخابات میں فقید المثال کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام ارکان کو دہلی میں طلب کر لیا گیا۔  اس کنونشن کو تاریخی بنانے کے لیے کلکتہ سے ایک اسپیشل ٹرین دہلی روانہ ہوئی جسے ـ”پاکستان میل” کا نام دیا گیا جس کے انجن پر مسلم لیگ کا پرچم لہرارہا تھا اور اس میں بنگال سے منتخب تمام ارکان اسمبلی سوار تھے۔ یہ ٹرین کلکتہ اور دہلی  کے درمیان ہر بڑے اسٹیشن پر رکتی رہی اور مسلمانوں نے اس کا "زندہ باد” کے نعروں سے استقبال کیا۔ قرارداد لاہور سے قرارداد دہلی ۱۹۴۶ء تک کا سفر ایک لازوال سفر تھا جس میں ہر قدم پر اس قوم کو فتح حاصل ہوئی تھی اور اس تاریخ ساز سفر نے برصغیر کے طول و عرض میں آباد مسلمانوں کو لسانی، معاشرتی، ثقافتی اختلافات کے باوجود ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا تھا۔ کنونشن کا  ما حاصل وہ قرارداد تھی جسے "قرارداد دہلی” کا نام دیا گیا۔ اس میں پاکستان کا لفظ پہلی بار شامل کیا گیا۔ قائداعظم کی اجازت سے بنگال اسمبلی میں مسلم لیگ پارلیمنٹری پارٹی کے رہنما  اور متحدہ بنگال کے وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی نے قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ "ہر گاہ اس وسیع برصغیر میں دس کروڑ مسلمانان ہند ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جو ان کے ہر شعبہ ء زندگی (سیاسی، معاشرتی، تعلیمی، ثقافتی و اقتصادی) پر محیط ہے اور جو محض روحانی نظریات اور عبادات و رسوم تک محدودنہیں ہے اور جو ہندو فلسفہ سے بالکل مختلف اور ممتاز و نمایاں ہے۔ ہندو دھرم اور فلسفے نے ہزاروں برس سے ذات پات کے نظام کو برقرار رکھا ہے، جس کے نتیجے میں چھ کروڑ انسانوں کو ذلیل اور حقیر قرار دے کر اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ جس نے انسانوں کے درمیان غیر فطری دیواریں قائم کر دی ہیں۔ جس نے اس ملک کے باشندوں کی بہت بڑی تعداد پر اقتصادی اور معاشرتی بے انصافیاں مسلط کر رکھی ہیں۔ جس سے مسلمانوں کے علاوہ ، عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کو یہ خدشہ ہو گیا ہے کہ کہیں انھیں بھی معاشی اور معاشرتی طور پر ایسی ہی غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور نہ کر دیا جائے جس سے انہیں کبھی بھی نجات نہ مل سکے”۔

تبصرے بند ہیں.