عمران حکومت، تباہی کی وجوہات

19

سیاست میں گرما گرمی عروج پر ہے اور سمجھ سب کو آ رہی ہے کہ کیا ہو رہا ہے بس سمجھ اگر کسی کو نہیں آ رہی تو وہ موجودہ حکومت ہے کیوں کہ میں سمجھتی ہوں کہ شاید وہ یہ بات خود ہی سمجھنا نہیں چاہتی کہ ہو کیا رہا ہے کیونکہ عمران خان صاحب خود ہی وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے اپنے دور اقتدار کے ساتھ زیادتی کی وہ اس طرح سے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے وعدے تو بہت کیے تھے مگر 14 ایسے وعدے تھے جن پر آپ کہتے تھے کہ میں کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا قرضہ نہیں لوں گا، پٹرول گیس بجلی سستی کروں گا، میٹرو بس نہیں بناؤں گا، ڈالر مہنگا نہیں کروں گا، ہندوستان سے دوستی نہیں کروں گا، ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہیں دوں گا، آزاد امیدوار نہیں لوں گا، سکیورٹی اور پروٹوکول نہیں لوں گا، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤس کو یونیورسٹیز بناؤں گا، بیرون ملک دورے نہیں کروں گا عام کمرشل پرواز سے سفر کروں گا، ہیلی کاپٹر کے بجائے ہالینڈ کے وزیراعظم کی طرح سائیکل استعمال کروں گا، مختصر ترین کابینہ رکھوں گا، جس پر الزام ہو گا اسے عہدہ نہیں دوں گا، جو حلقہ کہیں گے کھول دوں گا اورآپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔
تو جناب یہ وہ باتیں تھیں جو آپ عوام کے ساتھ وعدہ تو کرتے رہے مگر ان پر عمل نہیں کر سکے۔ میں سمجھتی ہوں کہ آپ کی حکومت کو ناکام کرنے میں سب سے اہم کردار غیر منتخب مشیروں نے ادا کیا۔ وہ ایسی سیاست کرتے رہے کہ عوام پریشان ہوگئے۔ پی ٹی آئی کہتی ہے کے ہمارے راستوں میں اپوزیشن نے گڑھے کھودے ہیں، ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا تو عمران خان صاحب یہ کوئی نئی بات تو نہیں کی اگر اپوزیشن نے گڑھے کھودے ہیں
اپوزیشن کا تو کام ہی یہی ہے کہ اقتدار میں بیٹھی حکومت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنا آپ وہ وقت بھول گئے ہیں جب آپ 2013 کے انتخابات کے بعد نون لیگ کے راستے میں ایک اچھی خاصی رکاوٹ بنے تھے جب ڈی چوک میں پنڈال سجائے دن کو سوتے رات کو محفل سجاتے تھے اور ایسے ایسے راز فاش کرتے تھے کہ عوام کانوں کو ہاتھ لگاتے اور یہ طے کیا تھا کہ آج کے بعد ان دونوں پارٹیوں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ عمران خان صاحب اس وقت آپ عوام کو سبز باغ دکھانے میں مصروف تھے تو اب گلہ کس چیز کا، جب آپ کو تحریک عدم اعتماد کا دن دیکھنا پڑھ رہا ہے۔ اس میں اپوزیشن کا کوئی کردار نہیں، اپوزیشن کا تو کام ہے تنقید کرنا، اقتدار سے ہٹ کر اس کا تو کام ہی اقتدار میں بیٹھی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے بات صرف اتنی ہے کہ حکومت کو اپنے قدم ہی اتنے مضبوط رکھنے چاہیے کہ کوئی بھی طاقت اسے ٹس سے مس نہ سکے، تحریک عدم اعتماد میں ہوتا کیا ہے یہ تو بعد کی بات ہے مگر اپوزیشن یہ دن لانے میں کامیاب تو ہو گئی ہے اور صرف پی ٹی آئی حکومت کی نالائقی اس کا باعث بنی ہے۔
اس حکومت کو عوام برسوں تک یاد رکھیں گے جب کبھی گالم گلوچ بریگیڈ کو یاد کیا جائے گا تو پی ٹی آئی کا نام سرفہرست ہو گا۔ اس گالم گلوچ کی سیاست نے پاکستان کا امیج کس حد تک خراب کیا ہے یہ سوچنا بھی مشکل ہے۔ بات کریں ڈالر کی تو اپریل 2018 میں نون لیگ اقتدار چھوڑ رہی تھی تو ڈالر اس وقت پر 115 روپے کا تھا اور آج 2022 میں ڈالر 181 روپے پر ہے اور حکومت عمران خان صاحب کی ہے آپ کہتے ہیں کہ نون لیگ نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول رکھا تو جناب آپ بھی تو رکھ سکتے تھے یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں تھی بس نیت ہونی چاہیے عوام کو ریلیف دینے کی۔
اب آ جائیں پٹرول کی قیمتوں پر اپریل 2018 نون لیگ کے دور آخر میں پٹرول 86 روپے لیٹر تھا اور 2022 میں موجودہ دور حکومت میں پٹرول 147 روپے پر ہے۔ حد ہی نہیں ہو گی ظاہر ہے جب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی ہوتی ہے جس سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور اپوزیشن کو ایک آسان چانس مل گیا۔ آپ کے غیر منتخب مشیروں نے آپ کے ساتھ وہ کیا ہے
کہ ہم تو ڈوبیں گے صنم
تمہیں بھی لے ڈوبیں گے
اور وہ کامیاب ہو گئے اور سارا قصور آپ کا اپنا ہے۔ اپوزیشن کو قصور وار ٹھہرانا اپنی نالائقی چھپانے کے مترادف ہے۔ مانتے ہیں مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے مگر پھر مہنگائی کے ساتھ چلنا بھی تو عوام کو آپ نے ہی سکھانا تھا تو آپ کو پھر اپنے گھر غیر منتخب مشیر جو بہت بڑھ چڑھ کر پریس کانفرنس کرتے تھے۔ ان کو تھوڑا طریقہ سکھا دیتے کہ آپ تو ریاست مدینہ کے نقش قدم پر چلنے آئے ہیں یہاں گالم گلوچ برگیڈ سے اجتناب کیا جائے۔ مگر آپ الٹا ان کو داد دیتے دکھائی دیتے کہ اپوزیشن کو میرے یہی مشیر ٹھیک کر سکتے ہیں مگر اپوزیشن نے جو کرنا تھا وہ کر دیا نقصان کس کا ہوا عمران خان صاحب آپ کا، عوام پر آپ کا ایک غلط تاثر گیا۔
پھر کچھ عرصہ پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو تماشا برپا ہوا اس نے دنیا بھر میں کیا تاثر ڈالا۔ پاکستانی سیاست دانوں کو پی ٹی آئی کے نامور وزیر کیسے بنچوں پر کھڑے ہو کر گالیاں دیتے رہے، یہ ہیں میرے ملک کے نامور سیاستدان۔ دنیا بھر میں پاکستانی قومی اسمبلی کا تماشا دیکھا گیا مگر خیر آج جو دن پی ٹی آئی دیکھ رہی ہے یہ اس اپنی نالائقی ہے۔

تبصرے بند ہیں.