بھٹو کو آزاد خارجہ پالیسی پر پھانسی دی گئی، بیرون ملک سے ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی،  پیسے سے میری حکومت گرائی جا رہی ہے: عمران خان

106

 

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں اب سنجیدہ بات کرنے لگا ہوں۔ جو سازش ہوئی ہے اس کی بات کرنے لگا ہوں۔ ملک کے مستقبل کی بات کرنے لگا ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو آزاد خارجہ پالیسی بنانے کے باعث پھانسی دی گئی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے مجھے ایک بات باور کرائی کہ تم خوش قسمت ہو کہ آزاد ملک میں پیدا ہوئے۔ بیرون ملک پاکستانیوں سے پوچھیں ملک کتنی بڑی نعمت ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کا منشور رکھا تھا کہ میں صرف اللہ کی بات مانتا ہوں اور کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔ جو انسانوں کے سامنے جھکتا ہے تو کوئی اس کی عزت نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والوں نے فارن فنڈنگ لے کر ملک میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔ میری قوم غیرت مند ہیں لیکن جو اس کے لیڈر ہیں وہ بے غیرت ہیں۔ سپرپاور کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ بھیک مانگنے اور قرضے مانگنے والی قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ میں کسی کے سامنے نہیں جھکا اور نہ ہی اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے دوں گا۔ ہمارے ملک کو پرانے لیڈرز کے کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں۔ جو ملک میں لیڈرز نے ان کو ساتھ ملا کر حکومتیں تبدیل کرائی جاتی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی تو فضل الرحمن اور نواز شریف ان دونوں کی اس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنادیے گئے ملک میں اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ آج اسی بھٹو کے داماد آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کی قربانی کو بھلا کر ان کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ شرم کرو بلاول ۔ آج پھر ملک میں ایسے ہی حالات ہیں۔ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنے کی کوشش باہر سے کی جا رہی ہے۔ اس سازش کا ہمیں مہینوں سے پتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قاتل اور مقتول جو اکٹھے ہوگئے ہیں ان کو اکٹھا کرنے والوں کا بھی ہمیں پتا ہے ۔ آج ذوالفقار علی بھٹو والا وقت نہیں اب وقت بدل چکا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے پاکستانی قوم بیدار ہے ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے۔دوستی کریں گے لیکن غلامی قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والوں کو پیسے دیے گئے ہیں باہر ملک سے اور میری حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیسہ باہر کا ہے اور لوگ ہمارے استعمال ہو رہے ہیں۔ زیادہ لوگ انجانے میں اور بعض جان بوجھ کر یہ پیسہ استعمال کر رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستانی قوم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ باہر کے پیسے لے کر حکومت کے خلاف سازش کرنے والے غلاموں کو کامیاب ہونے دیں گے ؟ جو اصل جمہوریت پسند ہوتا ہے وہ عوام کے پاس جاتا ہے چھپتا نہیں ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ باہر کہاں کہاں سے ہم دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہمارے ملکی مفاد میں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے ۔ قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں۔ میں الزامات نہیں لگا رہا ۔ میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے کسی کو شک ہے تو میں دکھادوں گا لیکن آف دی ریکارڈ۔ میں میڈیا اور قوم کہوں گا کیسے ایسے گزارا کریں گے کہ دھمکیاں مل رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں پھرسے کہہ رہا ہوں کہ بیرونی سازش ہے ایسی بہت سی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر اور جلد واپس لائی جائیں گی۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ لندن میں بیٹھا ہوا کس کس سے ملتا ہے۔ اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے کردار کس کے کہنے پر چل رہے ہیں ۔ ہمارے پاس جو ثبوت ہیں ہر چیز کو ظاہر کر رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں اسی لیے آپ کے سامنے باتیں کر رہا ہوں ۔ زیادہ تفصیل سے بات نہیں کروں گا۔ کوئی ایسی بات نہیں کروں گا کہ ملک کو نقصان پہنچے۔ مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے۔

تبصرے بند ہیں.