ہم سب نیوٹرل ہیں

19

پاکستان کی معاشی صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ بحران میں دھنستی جا رہی ہے۔ اس وقت روپے کے مقابلے میں ڈالر 182 روپے پر پہنچ چکا ہے ملک کے ماہانہ امپورٹ بل میں دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر یہی حال رہا تو جون تک ڈالر 200 روپے تک جا سکتا ہے جس سے پٹرول کی قیمت مزید اوپر جائے گی اور ملک میں مہنگائی کا طوفان تباہی برپا کر دے گا آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات خراب ہو چکے ہیں اور وہ قرضے کی اگلی قسط سے انکاری ہے وہ کہتے ہیں حکومت نے ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔
اس نازک معاشی صورت حال کے باوجود یہ معاملہ پاکستان کے قومی ایجنڈے میں سر فہرست نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ وہ آلو اور ٹماٹر کے لیے اقتدار میں نہیں آئے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت کو اشیائے خورو نوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں پریشانی کا باعث نہیں ہیں۔ اس وقت سارا زور اس بات پر ہے کہ عدم اعتماد کا مقابلہ کیسے کیا جائے اور اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو کیسے بچایا جائے اگر عوام کی سانسیں ڈوب رہی ہیں تو قطعاً گھبرانے کی بات نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت اس وقت بند گلی میں گھر چکی ہے تو اس کی وجہ ان کے اپنے عمال ہیں۔
جمہوریت میں صبرو تحمل ، برداشت اور مخالفانہ مؤقف کو سننے اور اظہار آزادی کا حق دیتی ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ تقریباً 4 سال میں اگر کوئی کام تواتر اور دل جمعی کے ساتھ کیا ہے تو وہ اپوزیشن کی کردار کشی ہے یا پھر نیب کو ایک ریاستی ہتھکنڈے کی شکل دے کر مخالفین پر کھلا چھوڑ دیا گیا جمہوریت میں تو ایک دوسرے کی بات سننے اور ڈائیلاگ کا راستہ اپنایا جاتا ہے اور مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے اگر جمہوری روایات کی پاسداری کو بالائے طاق نہ رکھا جاتا تو شاید یہ تحریک عدم اعتماد پیش ہی نہ ہوتی گویا یہ حالات ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں جس کی وجہ سے ان کے اپنے اتحادی ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اتحادی تو کیا حکومتی پارٹی کے اندر بغاوت ہو چکی ہے جو اب راز نہیں رہا اس کے باوجود حکومت کہتی ہے کہ
وہ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوں گے۔
اگر حکومت کو اتنا ہی اعتماد تھا کہ ان کے لوگ ان کے خلاف نہیں ہیں تو عدم اعتماد تحریک پر اتنی ٹال مٹول اور تاخیری حربے کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں یہاں تک کہ ایک جانبدار سپیکر کے ذریعے آئین سے انحراف کرتے ہوئے اجلاس بلانے کی آئینی مدت کی خلاف ورزی کی گئی جس کے لیےOIC کے اجلاس کا بہانہ بنایا گیا سپیکر صاحب نے اپنی سیاسی عاقبت خراب کی ہے پر انہیں آئین شکنی کے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا فیصلہ عدم اعتماد کے بعد ہو گا۔
جن حکومتی اراکین نے بغاوت کی ہے ان کی منظم کردار کشی کی مہم اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کر چکی ہے۔ وزیراعظم انہیں سر عام بکاؤ مال اور 20 کروڑ لے کر مخالفوں سے ملنے کا الزام دیتے ہیں جس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ان کے فون نمبر سوشل میڈیا پر ڈالے گئے اور منظم طریقے سے ان کی کردار کشی کی گئی جس کی مثال نہیں ملتی لیکن ان کے اعتراضات کا کسی فورم پر جواب نہیں دیا گیا۔
اب پراپیگنڈا یہ کیا جا رہا ہے کہ باغی اراکین کو تاحیات نا اہل کرایا جائے گا حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہو گا۔ اگر کسی منتخب رکن اسمبلی سے پارٹی کے ساتھ اختلاف رائے کا حق چھین لیا جائے تو پھر آئین میں عدم اعتماد کی شق خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور عملاً وزیراعظم اگر بن جاتا ہے جس کے حکم کے بغیر منہ کھولنا پارٹی سے غداری قرار پائے گا لیکن آئین اس طرح کی سنگین آمریت کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کا کلچر اس طرح کا ہو چکا ہے کہ پارٹی سربراہ ہی طاقت کا سرچشمہ ہوتا ہے اور اس سے اختلاف کرنا دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر رکھنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے خاص طور پر ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں یہ روایات زیادہ ہے ان حالات میں جب تحریک انصاف منظر عام پر آئی تو توقع یہ تھی کہ وہ سیاسی پارٹیوں میں ملوکیت یا آمریت کا خاتمہ کرے گی لیکن عملی طور پر یہ پارٹی ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے بہت آگے نکل گئی کہ اختلاف رائے رکھنے والے پر تاحیات سیاست میں پابندی کی حمایت کرنے لگی یہ پارٹی کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے یا تو یہ پارٹی ٹوٹ جائے گی یا پھر روسی لوٹ بیورو کی شکل میں پوری آمریت کے ساتھ واپس آئے گی اور پارٹی سربراہ کو روسی صدر پیوٹن جیسے اختیارات سے لیس کرے گی جس میں اگر کسی رکن پارلیمنٹ کے موت کا پروانہ اس کے دستخط کے لیے اسی کو پیش کیا جائے تو وہ انکار نہ کر سکے۔ لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہمیں جمہوریت کی نئی Definition وضع کرنا ہو گی۔
اطلاعات میں کہ حکومت عدم اعتماد پر ووٹنگ کو ایک سے ڈیڑھ ماہ تک مؤخر کرنے کا سوچ رہی ہے اور اس سلسلے میں ترین گروپ کو منہ مانگی قیمت پر فنڈز کی فراہم کا وعدہ کیا جا رہا ہے سب کو پتہ ہے کہ ترقیاتی فنڈز کے نام پر دیئے جانے والے پیسے کون کون سی راہداری سے ہوتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ کی جیب کا رخ اختیار کرتے ہیں۔ ترین گروپ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر اپنے اعتراض سے دست بردار ہو جائیں۔
جس طریقے سے اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات خصوصاً ق لیگ نے دونوں طرف مذاکرات کیے ہیں اور اپنے لیے سودا بازی کی بہترین آفرز حاصل کر رکھی ہیں یا جس پر اسرار طریقے سے چوہدری نثار علی خان کو 4 سال کا روزہ توڑنے پر آمادہ کیا گیا ہے یہ ہماری دیسی جمہوریت کا روایتی کارنامہ ہے۔ چوہدری نثار علی کو یہ تو پتہ ہے کہ وہ چار سال بعد روزہ کھول رہے ہیں لیکن روزہ ہمیشہ حلال چیز سے ہی افطار کیا جاتا ہے اندھیرے میں کی گئی سودے بازیوں کے حلال ہونے پر فتویٰ کہاں سے آئے گا۔ ان حالات میں عوام ایک دفعہ پھر یہ بات سوچنے پر مجبور ہیں کہ نیوٹرل کو ایک حد تک ہی نیوٹرل رہنا چاہیے جب پانی سر سے گزر جانے والا ہو تو پھر Neutrality قائم رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ جہاں تک ملک کے 23 کروڑ عوام کی بات ہے تو حقیقت یہ ہے کہ ہماری ساری سیاست جھنڈے اٹھانے اور یومیہ اجرت پر لانگ مارچ میں شرکت کی حد تک ہے جب اقتدار کی اصل بندر بانٹ کا فیصلہ کن مرحلہ آتا ہے تو عوام مکمل طور پر نیوٹرل ہیں۔

تبصرے بند ہیں.