ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

15

اسلامی وزرائے خارجہ کا د و رو زہ اجلاس ختم ہو گیا۔ اسلامی کانفرنس کی نمائندگی کرنے والے اس  اجلاس سے پہلے امت مسلمہ کس حال میں تھی اور اس اجلاس کے انعقاد کے بعد کس حال میں ہوگی؟ اس سوال کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ رتی برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ ستاون اسلامی ممالک جن پالیسیوں پر چل رہے ہیں انہی پر چلتے رہیں گے۔ اگر انہیں بھارت کے ساتھ تجارت میں فائدہ ہے تو بھارت سے تجارت جاری رکھیں گے بلکہ اس میں مزید اضافے کی راہیں تلاش کرتے رہیں گے۔ اگر انہیں اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دشمنی کا راستہ اچھا نہیں اور وہ اس سے تعلقات بہتر بنانے کے راستے پر چل نکلے ہیں تو یہ کانفرنس انہیں اس سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ اسی طرح کانفرنس سے پہلے والے پاکستان اور کانفرنس سے بعد والے پاکستان کی حالت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ درجنوں بلکہ بیسیوں قراردادوں کی منظوری کے باوجود، کشمیر کے مسئلے پر کوئی ایک بھی اسلامی ملک ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا نہیں ہو گا، نہ ہی بھارت کی ناراضگی مول لے گا۔ ان قراردادوں میں کشمیر یا فلسطین کے بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا، اس سے نہ کشمیریوں کی غلامی کی زنجیریں کٹیں گی نہ فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و تشدد میں کوئی کمی آئے گی۔ اس طرح کی کانفرنسیں اب ایک لاحاصل سی روایت بنتی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد، شاید خود کو تسلی دینا اور یہ احسا س دلانا ہوتا ہے کہ ہم امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور بس۔
عرب لیگ سے لے کر اسلامی کانفرنس تک، مسلم امہ کے نام سے بننے والی کوئی تنظیم نہ تو اسلام کو کوئی فائدہ پہنچا سکی، نہ اسلامی ممالک کو۔ اسرائیل کا قیام، اس کے توسیع پسندانہ عزائم، فلسطینیوں کو ان کی زمین پر ان کے حقوق سے محروم کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ رکنے میں نہیں آیا۔ جنگیں ہوئیں تو ساری امت مسلمہ مل کر بھی مٹھی بھر اسرائیل کا کچھ نہ بگاڑ سکی بلکہ الٹا اپنے علاقے بھی گنوا بیٹھی۔ ستاون ممالک کبھی ، مکمل اتحاد و اتفاق کے ساتھ اسرائیل کے بارے میں کوئی ایسی پالیسی نہ بنا سکے، جو واقعی اسرائیل کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنتی اور جو فلسطین کے عوام کو ان کے حقوق دلا سکتی۔ تیل کا ہتھیار بھی دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اب، اسرائیل کے حوالے سے زیادہ سخت پالیسی اختیار کرنے والے اسلامی ممالک کے رویے میں یک لخت تبدیلی آگئی ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ سعودی عرب نے بھی خاصا نرم رویہ اختیار کر لیا ہے۔ پاکستان نے اصولی موقف اختیا کرتے ہوئے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ لیکن عرب ممالک ، پاکستان سے بات کئے بغیر، اسرائیل کے قریب ہو رہے ہیں۔ یہی حال کشمیر کے مسئلے کا ہے۔ آج پاکستان کے لئے زندگی اور موت جیسی اہمیت رکھنے والے اس مسئلے پر کوئی ملک پوری یکجہتی کے ساتھ ہماری آواز میں اپنی آواز شامل نہیں کر رہا۔ دو سال قبل نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا۔ ہم کچھ نہ کر سکے۔ اسی کوغنیمت جانا کہ عمران خان نے ایک تقریر کر لی۔ ہمیں کشمیر پر اپنی مرضی کی قرارداد منظور کرانے کے لئے بھی اسلامی ممالک سے مطلوبہ تعاون نہیں ملا۔ ابھی کل کی بات ہے۔ بھارت کا ایک ایٹمی میزائل ہماری سرزمین پر آ گرا۔ خوش قسمتی سے اس میزائل کے ساتھ کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں تھا ورنہ خدانخواستہ نہ صرف بہت بڑی تباہی آتی بلکہ ایٹمی جنگ کا بھی آغاز ہو سکتا تھا۔ پاکستان نے اس بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کیا لیکن دنیا میں کسی نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ حتیٰ کہ اسلامی ممالک نے بھی چپ سادھے رکھی۔ اس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ  ـ” افسوس  ہے دنیا نے اس معاملے پر بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا اور بھارتی موقف قبول کر لیا” ۔
یہ تو اسلامی تنظیم کا سیاسی پہلو ہے۔ اس کے علاوہ آپ دیکھیے کہ   "امت مسلمہ”  کا علم، فن، سائنس اور ٹیکنالوجی میں کیا حال ہے؟ تمام مسلم ممالک کے نوجوان (جن کے پاس وسائل ہیں)  اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم دوچار اعلیٰ درجے کی یونیورسٹیاں ہی بنا لیں جہاں اعلیٰ، معیاری، تعلیم دی جاتی ہو۔ جو اپنا سکہ دنیا بھر میں جما لیں۔ جہاں نہ صرف ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کریں بلکہ دیگر ممالک کے نوجوان بھی ادھر کا رخ کریں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم کسی گنتی شمار میں نہیں آتے۔ تحقیق کے سر چشمے سوکھ چکے ہیں۔ ادویات ہوں یا سائنسی ساز و سامان، کسی وبا کی ویکسین ہو یا جدید تریں ٹیکنالوجی کے آلات، سبھی کچھ غیر مسلم دنیا سے آ رہا ہے۔ بہت سے اسلامی ممالک تو امریکہ اور مغرب کے زیر اثر اور تابع ہو گئے ہیں۔ وہ غیروں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے، ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ آج بھی اس کے مظاہرے کچھ کم نہیں۔
پاکستان کو ایک بات پلے باندھ لینی چاہیے۔ وہ یہ کہ جو کچھ ملنا ہے، اپنے زور بازو پر ملنا ہے۔ اپنی کوششوں اور اپنی جدوجہد سے ملنا ہے۔ اگر ہماری حالت یہی رہی اور ہم اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لئے بھی دوسروں کے محتاج رہے تو ہماری حیثیت بھکاری جیسی ہی رہے گی۔ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ شدید ضرورت کے وقت جب وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب گئے اور جھولی پھیلائی تو سعودی عرب نے تین ارب ڈالر ہمیں نمائشی طور پر اپنے ہاں رکھنے کے لئے دئیے۔ شرط یہ کہ اس پہ بھاری سود بھی لگے گا، اسے ہم خرچ بھی نہیں کر سکیں گے اور جب سعودی عرب چاہے گا، چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر یہ رقم واپس لے جائے گا۔ کیا اب بھی ہمیں یہ توقع رکھنی چاہیے کہ مسلم امہ بھارت جیسے دشمنوں ، یا امریکہ اور مغرب کی مخالفانہ پالیسیوں میں ہماری مدد کو آئے گی؟۔ شاید نہیں۔۔۔۔۔۔۔ جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ہی ہوتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.