پیک اپ

61

پیک اپ کی اصطلاح عمومی طور پر بلکہ خاص طور پر کسی فلم، ڈرامہ، سرکس، نوٹنکی، کنسرٹ یا تھیٹر کی شوٹنگ کے اختتام پر جب پروڈیوسر، ہدایت کام، اداکار و دیگر کام مکمل کر چکتے ہیں تو استعمال ہوتی ہے۔ جس میں تمام لوگ اپنے اپنے آلات، ملبوسات، ساز و سامان اکٹھا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے حسن نثار بھائی نے ایک ڈرامہ ’’ہوا پہ رقص‘‘ لکھا تھا۔ بہت زبردست اور شاہکار ڈرامہ تھا۔ سکرپٹ، موضوع، مکالمے، منظر کشی کمال درجے کی تھی، ان دنوں حسن نثار صاحب نے بتایا کہ آج وہ لکی ایرانی سرکس جہاں لگی ہوئی ہے، رات وہیں بسر اور صبح سرکس کیسے اٹھتی ہے، دیکھیں گے۔ یعنی سرکس سے متعلقہ فنکاروں کی صبح دیکھیں گے۔ سیکڑوں لوگوں کا رزق وابسطہ ہوتا ہے سب کے سب وہیں موجود ہوتے ہیں۔ شاید تین دن لگ گئے کیونکہ سرکس کا سیٹ اتنا بڑا تھا کہ مشاہدہ ایک صبح کی نظر میں مکمل نہ ہو پایا۔ جب یہ ٹی وی ڈرامہ تیار ہوا تو 9/11 ٹریجڈی ہو گئی۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر زمین بوس ہو گیا، اس واقعہ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ورنہ دنیا وہ ڈرامہ دہائیوں تک یاد رکھتی۔ میں جب امریکہ میں تھا تو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی چھت پر بھی وزٹ کیا۔ ہمیشہ موسم نہیں ہوتا کہ چھت دیکھی جا سکے، 114 منزل 58 سیکنڈ میں لفٹ انسان کو وہاں پہنچاتی، جہاں بادل کہیں نیچے اس عمارت کے پاؤں کو چھو کر برس جایا کرتے تھے۔ بادلوں کو ان دو ٹاورز کی چھت دیکھنا نصیب نہ تھی۔ بات دوسری طرف نکل گئی سرکس سے شروع ہوئی تھی۔ سرکس، نوٹنکی، فلم اور دیگر میگا پروجیکٹس سمیت بہت بڑے اور قیمتی ہوا کرتے ہیں۔ اب تو مجھے جناب امیر حمزہ آصف (میرو) معروف رائٹر، ڈائریکٹر، اینکر بھی بتاتے رہتے ہیں۔ وہ ’’ڈسکور پاکستان‘‘ سے منسلک ہیں چھوٹے چھوٹے پروجیکٹس میں بہت بڑے بڑے سیٹ لگانے پڑ جاتے ہیں۔ بہرحال حکومتی سطح پر جو موجودہ سیٹ ہے، ایک میگا پروڈکشن ہے، پاکستان کی مہنگی ترین فلم کبڑا عاشق کی طرح ناکام ہوا۔ اس کے فن کاروں میں شیخ رشید ٹلی والی سرکار جو بدو بائی سے بھی زیادہ سخت جان واقع ہوا ہے، خود بتاتا ہے کہ لال حویلی بدو بائی کا ڈیرہ تھا، وہ مر گئی اس کے بعد تین چار لوگوں نے کوٹھی، جو کوٹھی خانہ تھا، خریدی مگر وہ زندہ نہ رہ سکے۔ شیخ رشید نے خریدی اور اب تک قائم ہیں۔ ترجمانوں میں شہباز گل شیخ رشید کی جگہ لے رہا ہے۔ کسی نے تتیا (ڈیموں) سے پوچھا، تمہاری پہچان کیا ہے۔ وہ کہنے لگا، جس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھو گے تمہیں پتہ چل جائے گا، عام مکھی ہے کہ تتیا (ڈیموں) ہے۔ موجودہ حکومت میں بھی جس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھیں، تتیا ہی ثابت ہو گا۔ یعنی جہیڑا پنو اوہی لال اے۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ میاں شہبازشریف بھٹو خاندان کی کہانی سنا کر اپنے خاندان کو تعاون پر قائل کرتے رہے اور عمران خان گریٹ بھٹو صاحب کا نام لے کر کن کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سب کو علم ہے۔ شیدے، مودے تو دنیا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں مگر بھٹو خاندان سیاسی حوالہ میں ضرب المثل رہے گا، خلا کسی نہ کسی نے پُر کرنا ہوتا ہے بلاول بھٹو تو نانے اور والد کی نقش قدم پر چل ہی رہے ہیں، جناب نوازشریف اور مریم بھی خلا پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عمران خان ق لیگ2 ثابت ہوں گے۔
نئی نسل جس نے عمران خان کو رہنما سمجھ لیا ہے ان کو چھانگا مانگا اور مری معلوم نہیں، مگر ہم اس کے چشم دید گواہ ہیں۔ جو لوگ چھانگا مانگا میں اراکین کو اکٹھا کرنے میں میاں نوازشریف کے ساتھی تھے، ان میں شیخ رشید سب سے آگے تھا۔ وقت بدل گیا اب ہم نے موبائل چھانگا مانگا 2018 میں ترین کے جہاز کی صورت بنی گالہ میں اترتے دیکھا۔ تب یہ ضمیر کی آواز تھی۔ علیم خان کا مال علیم خان پر حرام اور بنی گالہ کی سیاست پر جائز تھا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو 2017 بلکہ 2011 سے پی ٹی آئی کی رونق بنے۔ وہ پراپیگنڈے شروع ہوئے کہ سابقہ سیاست دان کرپٹ ہیں، عمران نیازی دیانت دار ہے۔ لوگوں کے مال پر تکیہ کرنے والا ایماندار ٹھہرا۔ بہرحال بات آگے بڑھتی ہے۔ جنرل حمید گل کی انگلی پکڑ کر آنے والا عبدالستار ایدھی کو دھمکانے والا، مشرف کا پولنگ ایجنٹ سہاروں کے سہارے سفر کرتا ہے۔ 22 سالہ بندوبست کو 22 سالہ جدوجہد کا نام دیتا ہے۔ ایک بہت بڑے میگا پراجیکٹ اور سیٹ کے اہتمام میں وزیر اعظم کا کردار پاتا ہے۔ لوگ بے کفن بیٹے دفناتے ہوں، بیماری، مہنگائی، بے انصافی، بھوک، افلاس سے مرتے ہوں۔ اندرونی طور پر ملک خلفشار اور انتشار کا شکار ہو، بیرونی محاذ پر تنہائی کا شکار ہو۔ اس حکومت کو کوئی پروا نہیں۔ اپوزیشن چور ڈاکو ہے، سابقہ حکمران چور ڈاکو ہیں اور حیرت ہے انہی حکمرانوں کی جماعتوں کے لوگوں سے اپنی جماعت کی صورت گری کی۔ ساڑھے تین سال اپوزیشن کو طعنے دیئے جاتے رہے، حکومت اپوزیشن کے انداز سے کی گئی۔ امریکہ کے دورے اور ٹرمپ کے دیدار کو ورلڈ کپ قرار دیا۔ مودی کی جیت کو مسائل کا حل قرار دیا۔ کیا کیا لکھیں، ان کی تقریریں ان کی تقریروں کی نفی کرتی رہیں، بالآخر اپوزیشن نے ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنایا اور حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی۔ اب مختلف توجیہات ڈھونڈی جا رہی ہیں۔ پروپیگنڈے اور سابقہ حکمرانوں کو شکست دینے کے لیے عمران خان کے لیے بندوبست کر کے اقتدار دیا گیا تھا مگر موصوف نے ہر کام ہی ایک ان کے ذمہ لگا دیا، پھر انہوں نے عزت بچائی اور نیوٹرل ہو گئے۔ حکومتی ارکان میں سے درجنوں اپوزیشن کے ساتھ جا ملے ہیں اور سب کے سب عزت نفس کی خاطر گئے ہیں، مخالفین کو گالیاں اور عمران خان کی بے جا تعریف نہ کر سکے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں ہمارے ارکان 18/20 کروڑ روپے میں خریدے گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو میرے خیال میں نویں مہینے ہی موجودہ حکومت اقتدار سے باہر ہوتی۔ 5/10 ارب روپے دینے والی تو کئی پارٹیاں ہیں اور ویسے بھی ارب پتی لوگ ہیں جن پر کروڑوں کے عوض بکنے کا الزام ہے۔ وزیر اعظم صاحب! وقت نے فیصلہ دے دیا، حکومت تو نہیں اپوزیشن نے ڈلیور کر دیا اب اختتام ہے، موجودہ حکومت کی فلم کی آخری ریلیں اور مناظر چل رہے ہیں لوگ کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اگلے شو میں نئی فلم ہو گی چونکہ سیٹ اپ بہت بڑا تھا۔ بڑی مہنگی پروڈکشن تھی مگر فلم ڈبہ نکلی، اب اس کا پیک اپ جاری ہے، کوئی ترپ کا پتہ نہیں، کوئی آرٹیکل نہیں، بس 172 اراکین اگر ہیں تو ٹھیک ورنہ جلسے جلوس کی تو میرے خیال سے ویسے ہی نوبت نہیں آئے گی۔ جھوٹ اور یوٹرن کو اصول قرار دینا موجودہ حکومت کا کارنامہ رہے گا۔ بد زبانی، دشنام طرازی و الزام تراشی کے ساتھ معاشرت کی بربادی اضافی کارنامے ہیں۔ سرکاری تجزیہ کار  حکومت کی ساکھ بحال نہ کر پائیں گے۔

تبصرے بند ہیں.