باغِ اطالیہ میں علالت کے پھول

7

ہم نیپلز سے روانہ ہوئے تو ٹرین کے بریشیا پہنچنے کا وقت رات نوبج کر چالیس منٹ بتایا گیا تھا۔ راستے میں ایک جگہ ٹرین نہ معلوم کیوں رُک کر کھڑی رہی اور کچھ اعلان کیا گیا جس کے باعث ہم دس منٹ کی تاخیر سے بریشیا پہنچے۔ یہاں خرم ہمیں لینے کے لیے پلیٹ فارم تک پہنچے ہوئے تھے۔ انھوں نے چھوٹتے ہی ہمارا سامان سفر سنبھال لیا اور ہمیں مخرج کی طرف لے گئے۔ باہر ان کے بچپن کے دوست ثاقب صاحب اپنی عالی شان گاڑی میں ہمارے منتظر تھے۔
بریشیا کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہم راستے کے مناظر دیکھتے اور یہاں کے بائیسکل کلچر کو سراہتے رہے جس کا اظہار سڑکوں پر مرد و زن کی سائیکل سواری ہی سے نہیں جگہ جگہ حکومت کی جانب سے بنائے گئے سائیکل سٹینڈز سے بھی ہوتا تھا جہاں حکومت کی جانب سے بہت سے سائیکل مہیا کر دیے جاتے ہیں جنھیں آپ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں اور پھر کسی بھی سرکاری سائیکل سٹینڈ پر واپس کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عوام پر حکومت کے اعتمادکا اظہار ہوتا ہے بلکہ سائیکل سواری سے لوگوں کی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے اور تیسری دنیا کے عوام کی طرح لوگ اپنے ہی گنبد شکم کا بوجھ اٹھانے سے محفوظ رہتے ہیں۔ بریشیا کی تاریخ تین ہزار سال پرانی ہے، یہاں بینکوں سے کہیں بڑھ کے ہیں گرجوں کی عمارات۔ تاریخی قدامت کے باوصف یہ ایک جدید شہر ہے اور قدیم عمارتیں بھی اچھی نگہداشت اور آرائش و زیبائش کے باعث جدید دکھائی دیتی ہیں۔
ثاقب صاحب نے یہاں کے عمومی ماحول کے باعث اپنے بچوں کی تربیت کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ پاکستانی تارکین وطن کے مسائل اور پاکستانی معاشرے کی خوبیاں بیان کر رہے تھے۔ میرا سوال تھا کہ اگر پاکستان اتنا اچھا لگتا ہے اور یہاں کے مسائل ایسے پریشان کن ہیں تو پھر آپ لوگوں کا فیصلہ یہاں رہائش کے حق میں کیوں ہوتا ہے؟ انھوں نے معاشی ضروریات کے علاوہ دوسرا سبب یہ بیان کیا کہ بیچ میں جب ہم پاکستان جاتے ہیں تو ہمیں یورپ سے آنے کے باعث وہاں جو پروٹوکول ملتا ہے وہ ہمارے اندر بہت احساس برتری پیدا کر دیتا ہے اور اہل وطن کی نگاہوں میں تارکین وطن کی عزت، ہمارے یہاں سے وطن واپس جانے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے … مجھے غالب کی یاد آئی ؎
غارت گر ِ ناموس نہ ہو گر ہوس زر
کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے
یونان کے احباب نے بریشیا کے کچھ متحرک پاکستانیوں کو میری آمدکی اطلاع دے دی تھی اور انھیں میرا فون نمبر بھی دے دیا تھا۔ ابھی میں نیپپلز ہی میں تھا کہ ان کی جانب سے فون آنا شروع ہو گئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ میں یہاں کچھ اجتماعات سے خطاب کروں اور اپنا قیام ان کے دوستوں کے پاس رکھوں۔ ثاقب صاحب کے ہاں سے خرم مجھے اپنے ٹھکانے پر لے گئے۔ اگلا دن طلوع ہوا تو ان احباب کی جانب سے پھر رابطہ کیا گیا۔ میں بریشیا تک تو جیسے تیسے پہنچ گیا تھا لیکن یہاں پہنچنے کے بعد علالت نے پھر زور کیا اور صبح تک بخار نے آن لیا۔ خطابات کی دعوت کے جواب میں، میں نے اپنی کیفیت بیان کر دی۔ ان لوگوں کا اصرار تھا کہ میں یہاں کے اسلامک سنٹر میں خطاب کروں لیکن میری حالت یہ تھی کہ خطاب کجا کسی سے بات تک کرنے کا یارانہ تھا۔ پھر وہ کہنے لگے کہ ہمارا یہاں کا ریڈیو بھی ہے اس کے لیے کوئی انٹرویو ہی دے دیجیے لیکن میرے لیے وہ بھی مشکل تھا۔ میرے بریشیا پہنچنے کی شہرت سن کر ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی ملاقات کے لیے تشریف لے آئے۔ ان کی خدمت میں بھی معذرت ہی پیش کی گئی۔ یہاں کے حضرات کے مطالبے پورے کرنا تو ممکن نہ تھا البتہ میں نے ان احباب کی فرمائش پر تارکین وطن کے لیے یہ پیام دیا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی آنے والی نسلیں ان کی تہذیب و ثقافت کے ساتھ جڑی رہیں تو وہ ان کی مادی ضروریات پوری کرنے کو کافی نہ سمجھیں، اپنے گھروں میں انھیں وقت (کوالٹی ٹائم) دیں، ان کے ساتھ اپنی زبان اردو میں بات کریں، اردو سے اپنا تعلق ٹوٹنے نہ دیں اگر آپ کو مذہب سے دلچسپی ہے تو ہم لوگوں کے لیے مذہب سے وابستگی کا ذریعہ بھی اردو ہی ہے، معاشرتی زندگی میں پاکستانی خاندانوں کے ساتھ آپس کے روابط بڑھائیں، یہ بھی تہذیب کی بقا کا ایک طریقہ ہے، ممکن ہو تو اپنی رہائش گاہوں میں مکانی قرب کا خیال رکھیں۔ ان لوگوں نے بڑی توجہ سے ان باتوں کو سنا اور اس بات پر بہت افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ میں ان کے کسی جلسے سے خطاب نہیں کر پایا۔
مسلسل بخار کے باعث میری حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔ ایک رات مسلسل بے خوابی کے باعث میں نے اپنی رہائش گاہ کی کھڑکی کھول کر باہر دیکھا۔ ہر جانب تاریکی کا راج تھا سڑکیں ویران اور عمارتیں خاموش، یورپ کی یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ مغرب کے بعد کاروباری مراکز بند ہو جاتے ہیں اور صبح بہت سویرے دن کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نجانے کہاں سے دیر تک بازار کھلے رکھنے اور اگلے روز، دن چڑھے تک دکانیں بند رکھنے کی بیماری در آئی ہے۔ ’’نوم الصبحۃ تمنع الرزق‘‘ (صبح کی نیند رزق کو روکتی ہے) کا شعوررکھنے والی قوم کو تو دن کا بہت جلد آغاز کرنا چاہیے۔ دن چڑھے تک خراٹے لینے کا یہی نقصان کیا کم ہے کہ انسان صبح جیسے حسین وقت کی کیفیات سے محروم ہو جاتا ہے وہ وقت جس کے بارے میں شاعر نے کہاکہ ؎
ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت ِحق کے لیے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی
کمزوری اور بخار نے اچھی طرح نچوڑ دیا تھا۔ کمزوری کا یہ عالم کہ موبائل فون بھی ہاتھ سے گر جاتا، باہر سے صرف گاڑیوں کے چلنے اور کسی ناہموار جگہ سے گزرتے ہوئے پیدا ہونے والی دھمک کی آواز سنائی دیتی تھی، پانی پینے یا گرم کرنے کے لیے بالآخر اپنے کمرے سے نکل کر کچن کا دروازہ ڈھونڈا تو ایک اور کھڑکی نظر آئی۔ گھر خالی تھا، گھر کے سب مکین اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو چکے تھے۔ جو پاکستانی کارکن ابھی کام کی تلاش میں یہاں رہ رہے ہیں وہ اپنے کمرے میں مسلسل سوتے رہتے تھے، کھڑکی سے باہر دیکھا تو وہاں زندگی ہی زندگی تھی … ایک صدر دروازے پر ایک خاتون کسی بچے کو آواز دیتی، وہ بھاگتا ہوا باہر کی سمت لپکتا اور باہر اسے لینے کے لیے آئے ہوئے ایک یا دو افراد اسے لے کر اپنی گاڑی کی سمت لے جاتے … میں دیر تک یہ مناظر دیکھتا رہا۔ بچے کیا تھے جنت کی کلیاں تھیں، اتنے پیارے کہ پھولوں کی تشبیہ بھی ان کے سامنے ماند پڑ جائے … جتنی دیر کھڑا رہ سکا یہ منظر دیکھتا رہا تھک گیا تو بستر پر آ رہا۔
جس کمرے میں قیام اطالیہ کے کئی دن گزرے اس کی ایک الماری کے دو پٹ تھے اور دونو میں آئینے لگے ہوئے تھے۔ الماری کے سامنے آنے پر بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ آپ آئینے کے سامنے ہیں۔ آپ جس آئینے کے سامنے آئیں آپ کا عکس اس میں نہیں ساتھ کے دوسرے آئینے میں بن رہا ہوتا تھا … میں اس جادوئی عمل پر حیران ہوتا رہا اور سوچتا رہا کہ ’’آئینے اپنی خیانت سے نہیں خود واقف / ان کو معلوم نہیں / زاویے ان کے بدل دیتے ہیں کرنوں کا مزاج / آج اس نور محرف سے ہے آنکھوں میں تھکن / کاش سرچشمہ اوّل سے اتر آئے کوئی راست کرن / جو مری روح کی ظلمت میں اجالا کر دے / میں کہ ہوں کور مجھے دیکھنے والا کر دے‘‘۔

تبصرے بند ہیں.