بیٹی کیوں پیدا کی؟

19

دس روز قبل میانوالی میں عمران نامی درندے نے اپنی سات دن کی بیٹی کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا، کیوں؟ کیوں کہ وہ بیٹی کے بجائے بیٹے کی پیدائش کا خواہش مند تھا۔ اس دل ہلا دینے والے واقعے کو آج دس دن گزر چکے ہیں اور میں ابھی تک اس واقعے اور اس جیسے درجنوں واقعات کے مطالعے میں مصروف ہوں۔ مثلاً اسی طرح کا واقعہ نومبر 2012ء میں نارووال میں پیش آیا تھا جہاں عمران نامی شخص نے اپنی بیوی عشرت بی بی کو اپنی ماں کے ساتھ مل کر قتل کر دیا تھا کیوں کہ چودہ سال سے شادی شدہ عشرت بی بی کچھ ہی دنوں میں تیسری بیٹی کو جنم دینے والی تھی اور یہ ان کے سسرال کو قبول نہیں تھا، حالانکہ اس جوڑے کا ایک بیٹا بھی تھا۔ جون 2012ء میں اسلام آباد میں جب ایک ساس کو معلوم پڑا کہ اس کی بہو نے دو بیٹیوں یعنی اس کی پوتیوں کو جنم دیا ہے تو اس نے ہسپتال کے گائنی وارڈ میں شور شرابا شروع کر دیا اور ڈاکٹر پر مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی، ڈاکٹر بار بار سمجھاتی رہی کہ یہ ہمارے اختیار میں نہیں مگر وہ عورت پوتیوں کو دیکھنے کے بجائے روتی چلاتی گھر چلی گئی اور ہسپتال سے جاتے ہوئے بیٹے کو دھمکی دی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر واپس گھر آئے ورنہ اس کا گھر میں داخلہ منع ہو گا، لڑکا بھی اپنی ماں کے ساتھ گھر روانہ ہو گیا اور لڑکی کے سسرال والوں نے ہسپتال کے اخراجات اٹھائے اور اپنی لڑکی کو گھر لے گئے۔ فروری 2012ء میں تیس سالہ صبا کو اس کے شوہر، ساس، دیور اور شوہر کے بہنوئی نے تشدد کے بعد گلا گھونٹ کر مار دیا تھا، وجہ کیا تھی؟ صبا نے چاہ ماہ قبل دوسری بیٹی کو جنم دیا تھا جس پر اس کے سسرال والے ناخوش تھے۔ جون 2020ء میں سندھ کے شہر دادو میں عبداللہ سومرو نے اپنی جواں بیوی یمنہ کو دوسری بیٹی پیدا کرنے کے جرم میں لوہے کے سریے سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ اگست2019ء میں قصور میں نسرین نامی خاتون کو اس کے شوہر نے اس لیے تشدد کر کے قتل کیا تھا کہ اس کے ہاں چوتھی بیٹی نے جنم لیا تھا۔ جولائی 2019ء ڈیرہ غازی خان کے ایک پس ماندہ گاؤں میں لبنیٰ نامی لڑکی کو اس لیے اس کے سسرالیوں نے
گھر سے نکال دیا تھا کہ اس نے دوسری بیٹی کیوں پیدا کی۔ اپریل 2019ء میں جھنگ کے علاقے میں بھی ایک ایسا ہی اندوہ ناک واقعہ پیش آیا کہ باپ کو جب الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے معلوم پڑا کہ دوسری دفعہ بھی بیٹی پیدا ہو گی، اس نے اسقاط حمل کا آپشن بہتر سمجھا۔ فروری 2019ء میں پاک پتن، دسمبر 2018ء میں کوئٹہ، نومبر 2018ء میں گجرات، اگست 2018ء میں جہلم، جنوری 2018ء میں سیالکوٹ اور اکتوبر 2017ء میں گوجرہ میں بھی اس سے ملتے جلتے واقعات پیش آ چکے۔ کہیں ماں کو مار دیا گیا، کہیں بیٹی کو، کہیں معاملہ طلاق پہ ختم ہوا، کہیں ماں اور بیٹی دونوں کو مار دیا گیا اور تحقیق کے بعد ہر واقعے کے پیچھے ایک ہی کہانی ملی کہ بیٹی کیوں پیدا کی؟۔ منٹو صاحب نے کہا تھا کہ ’’ہم سارے مرد اپنے بستر پر تو عورت چاہتے ہیں مگر عورت(بیٹی) پیدا کوئی بھی نہیں کرنا چاہتا‘‘۔
یہ واقعات میڈیا نے بروقت رپورٹ کر لیے اور ہم تک پہنچ گئے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے سیکڑوں واقعات یا تو والدین بے عزتی کے ڈر سے دبا دیتے ہیں یا مخالف طبقے کی دھمکیوں کی وجہ سے اس سے ملتے جلتے واقعات تاریخ میں دفن ہو جاتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم ذہنی طور پر اس درجہ پس ماندہ کیوں ہیں؟ ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ناواقف کیوں ہیں؟ ایدھی ہوم کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق ایدھی ہوم کے جھولوں میں ڈالے گئے بچوں میں اسی فیصد بچیاں ہوتی ہیں جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں کچرا کنڈیوں میں ملنے والے نوزائیدہ بچوں کی لاشوں میں بھی 80 فی صد سے زائد بچیاں ہی ہوتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ایک طرف ہمارے مہربان نبیﷺ، جب بیٹی آتی تو آپﷺ کھڑے ہو کر اس کی پیشانی کا بوسہ لیتے اور دعاؤں سے نوازتے۔ ایک طرف ہمارا رویہ یہ ہے کہ بیٹی کی پیدائش کو منحوس تصور کرتے ہیں، بیٹے کی پیدائش پر مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور بیٹی کی پیدائش پر صفِ ماتم بچھا لیتے ہیں۔ دادا اور دادی پوتے کی پیدائش پر تو غریبوں میں پیسے تقسیم کرتے ہیں اور پوتی کی پیدائش پر ’’جو اللہ کا حکم‘‘ کہہ کر آنسو بہانے لگتے ہیں۔ ماں باپ جب بیٹوں کو اس لیے دوسری شادی پر مجبور کرنے لگیں کہ پہلی سے صرف بیٹیاں پیدا ہو رہی ہیں تو معاشرے میں ایسے واقعات تسلسل سے ہونے لگتے ہیں۔ ہم ذہنی طور پر اس قدر مفلوج ہو چکے ہیں کہ بیٹے کی پیدائش کے لیے تعویز اور دھاگے تک باندھتے ہیں تاکہ کسی طرح سے بیٹی کی پیدائش سے بچ سکیں۔ ایسے خاندانوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ وراثت اس وقت تک لاوارث رہتی ہے جب تک اس گھر میں بیٹا پیدا نہ ہو۔
ایسے واقعات میں وہ ہندوانہ سوچ کا حامل معاشرہ اور لوگ ملوث ہیں جن کے باعث بیٹیوں کی پیدائش ماں باپ کے لیے آزمائش بنا دی جاتی ہے، بیٹیوں کی پرورش اور شادی بیاہ کو اس قدر تکلیف دہ بنا دیا گیا ہے کہ لوگ بیٹیوں کو واقعی بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ ہمارے ہاں تو یہ بھی رسم چل پڑی کہ بیٹیوں کو بیٹا کہ کر مخاطب کیا جاتا ہے تاکہ بیٹیوں کو بہادر ہونے کا احساس دلایا جا سکے، کیا مرد ہی بہادری کی علامت ہے؟ کیا بیٹی کہنے سے بیٹی کمزور پڑ جاتی ہے؟ یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیٹی لفظ ہی کمزوری اور کم ہمتی کی علامت ہے، کیا بیٹیاں بہادر اور حوصلہ مند ہو سکتی ہیں، کیا بیٹیاں باپ کا سر فخر سے بلند کر سکتی ہیں؟۔ ایسی تکلیف دہ صورت حال میں جب بیٹیاں اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلتی ہیں تو ہم مرد ہی انہیں تنقید کا شنانہ بناتے ہیں حالانکہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر آج وہ وراثت میں حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر نکلی ہیں تو اس کہ کوئی وجہ تو ہو گی۔ عورت اگر اپنا وجود ثابت کرنے نکلی ہے تو اس کہ وجہ یہی ہے کہ میرے اس ’’تعلیم یافتہ‘‘ معاشرے نے اسے اس قدر مجبور کر دیا ہے کہ وہ یہ بتانے پر مجبور ہو گئی کہ میں بیٹی ہوں اور میں بھی بہادر ہوں، میں بیٹی ہوں اور میں بھی اپنے باپ کا سر فخر سے بلند کر سکتی ہیں۔ ہمیں مجموعی طور پر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ہمیں بیٹے کے ساتھ ساتھ بیٹی کی پیدائش پر بھی کہنا پڑے گا کہ ’مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے‘، جب تک ایسا نہیں ہو گا، ہم ایسے واقعات کے ساتھ ہی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

تبصرے بند ہیں.