عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی طریقے سے کریں گے، کسی ممبر کو ووٹ سے نہیں روکا جائے گا: وزیر خارجہ

9

اسلام آباد: وفاقی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی طریقے سے کیا جائے گا اور اور کسی ممبر کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے نہیں روکیں گے، او آئی سی کے اجلاس کی میزبانی ملنا وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کا ثمر ہے اور اس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہو گا۔ 
تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس ہو گا جس کیلئے تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں، پاکستان کو اجلاس کی میزبانی ملنے کا اعزاز وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، یہ کوششیں ایک جماعت کی نہیں بلکہ پاکستان کی ہیں اور او آئی سی کیلئے ہر حکومت نے اپنے اپنے دور میں کردار ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کے وزیر خارجہ بطور مہمان خصوصی آج تشریف لا رہے ہیں جبکہ مصر کے وزیر خارجہ پاکستان پہنچ چکے ہیں، تمام وزرائے خارجہ 23 مارچ کو نیشنل ڈے پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان اس اجلاس سے کلیدی خطاب کریں گے۔ 
وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں مسلم امہ کو درپیش سلگتے ہوئے موضوعات کے علاوہ 100 سے زائد قراردادیں زیر بحث آئیں گی اور انشاءاللہ پاکستان کے وقار میں اضافہ ہو گا، کل او آئی سی کی چیئرمین شپ ایک سال کیلئے پاکستان کو منتقل ہو جائے گی جبکہ اس اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہمیں دو طرفہ ملاقاتوں کا موقع بھی میسر آئے گا۔ 
اس موقع پر انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاسی کمیٹی کے اجلاس مسلسل ہو رہے ہیں، آج بھی وزیراعظم کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہو گا، ہم تصادم نہیں چاہتے بلکہ عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی طریقے سے کریں گے اور کسی ممبر کو ووٹ کاحق استعمال کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔ 
ان کا مزید کہنا تھا کہ عدم اعتماد میں نمبرز پورے کرنے کی ذمہ داری اپوزیشن کی ہے جو اس مقصد کیلئے ضمیر فروشی پر اتر چکی ہے، سپریم کورٹ سے ہارس ٹریڈنگ ختم کرنے کیلئے رہنمائی چاہتے ہیں جبکہ یہ رہنمائی بھی لیں گے کہ کیا یہ ممبران تاحیات نااہل ہوں گے؟ اور اگر ایسا ہو سکتا ہے تو انہیں یہ قدم اٹھانے سے پہلے سوچنا چاہئے، بلاول کی بہت سی باتوں پر ہنسی آتی ہے، ان سے کہتا ہوں کہ خدا کیلئے بڑے ہو جائیں۔ 

تبصرے بند ہیں.