موجودہ حالات کے ملکی معیشت پر اثرات

34

قارئین کرام، اپنے گز شتہ کالم میں انتہائی دکھی دِل کے ساتھ ملک بھر کے سیاستدانوں سے اپیل کی تھی کہ خدارا سب سے پہلے ملک کا سوچیں۔ مگر نہیں۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز پھر بھی شاید کوئی سُن لیتا ہو، مگر یہاں ایسا کوئی نہیں۔ اور اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ اس عدم استحکام کا براہِ راست اثر زندگی کے تمام شعبوں پر منتقل ہو رہا ہے۔ ریاستی ادارے مختلف سطحوں پر ملک کا انتظام چلاتے ہیں، معیشت کی حالت، ملکی سلامتی اور ہر شہری کی فلاح و بہبود ان کے کام پر منحصر ہے۔ ایک مستحکم سیاسی صورت حال آپ کو معیشت میں توازن قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے اور اس نظام کے ٹوٹنے سے تباہی ہوتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام بنیادی طور پر قومی کرنسی کی قدر میں کمی اور آبادی کے معیارِ زندگی میں بگاڑ کا باعث ہے۔ اس وقت ملک کی بیوروکریسی ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں جس سے امورِ حکومت مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ اس وقت ہمارے سیاست دان ملک کی معاشی صورت حال اور دنیا میں بدلتے ہوئے تقاضوں کو نظر انداز کر کے صرف اپنے سیاسی فوائد کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔ کمزور ملکی معیشت کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت ایک ہفتہ میں 38کروڑ ڈالر کی کمی سے 15 ارب 83 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئی ہے جبکہ ڈالر 180 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں پاکستان میں گندم کا ایک نیا بحران سر اُٹھانے والا ہے۔ اس بحران کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ گندم کی گزشتہ فصل سرکاری تخمینوں کے برعکس کم رہی۔ حکومت نے انہیں تخمینوں کی بنیاد پر گندم برآمد کرنے کی منظوری دی تھی جس کی وجہ سے ملک کے اندر گندم کی کمی ہو گئی ہے، اسی وجہ سے آئے روز آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ اس بار گندم کی کھڑی فصل، کٹائی سے قبل خرید لی گئی ہے، جو کہ الارمنگ صورت حال ہے۔ حکومت فوری طور پر گندم کی برآمد پر پابندی عائد کر دے، ورنہ ایک ایسا بحران جنم لے گا جس پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ حکومت کو زراعت کے شعبے میں سبسڈی فراہم کرنی چاہیے جیسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت ہم اپنی زرعی اجناس بھارت برآمد کرتے تھے۔ کسان تنظیموں نے کھاد کی عدم دستیابی پر حکومت کو خبردار کر دیا ہے کہ اس صورت حال میں رواں سال گندم کی اوسط پیداوار 50 فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو قحط تیزی سے اس
ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر کھاد نہیں ہو گی تو کپاس، چاول، گنا، دالیں اور سبزیاں کیسے تیار ہوں گی۔ تعمیراتی صنعت نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اسے ڈیفالٹ ہونے سے بچایا جائے کیونکہ یہ شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے۔ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کل آبادی کا 52 فیصد کچی آبادیوں میں رہتا ہے۔ جب تعمیرات میں بے پناہ اضافہ ہوا تو تعمیراتی اشیا کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا، جس کے ساتھ سیمنٹ، سٹیل اور دیگر اشیا کی قیمت انتہائی بڑھ گئی ہیں۔ فی ٹن سٹیل پر آٹھ ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سٹیل کی قیمت اب دو لاکھ فی ٹن سے بڑھ کر دو لاکھ آٹھ ہزار روپے ہو گئی ہے۔ سیمنٹ کے فیکٹری مالکان بڑھتی قیمت کا الزام عالمی سطح پر خام مال کی قیمت اور ایندھن کی قیمت میں اضافے سے جوڑتے ہیں۔ عالمی طور پر تیل اور کوئلے میں اضافے کے بعد سیمنٹ کی پیداواری لاگت اور خام مال کی قیمت میں اضافے کے بعد سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت سیمنٹ کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ سیمنٹ اور سریے کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ تعمیرات کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ان میں ایلومینیم، کھڑکیوں اور دروازوں میں استعمال ہونے والی لکڑی کا سامان، سینٹری کے سامان، ٹائل اور ماربل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہر نئی آنے والی حکومت اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے یہ جواز پیش کرتی ہے کہ سابق حکومت نے خزانہ خالی کر دیا اور اس نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا، اس لیے اب معیشت کی بہتری کے لیے سخت فیصلے ضروری ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے یکم مارچ کو ایک لیٹر پٹرول اور ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں دس روپے جب کہ بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت میں پانچ روپے کی کمی کی تھی۔ پٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی جون تک جاری رہے گی۔ روس پر امریکی پابندی کے باعث کہا جا رہا ہے کہ خام تیل کی قیمت میں کمی عارضی ہے اس میں پھر اضافہ ہو گا۔ صنعتی ترقی کیلئے حکومت کا کردار نہایت اہم ہے۔ لیکن اس کی حدود کا تعین ہونا چاہیے۔ مافیا اور اجاراہ داروں سے نپٹنے کیلئے ضوابط بنائے جائیں۔ چینی، آٹو موبائلز، سیمنٹ، فارماسیوٹیکلز اور بے شمار ایسی بڑی صنعتیں ہیں جنہوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور قیمتوں میں ردّ و بدل کرتے رہتے ہیں جبکہ سرکاری ادارے اس معاملے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ سیاستدانوں کی بات کریں تو تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں نے ذاتی مفادات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ کبھی ملکی مفاد کو مقدم نہیں جانا۔ عوام کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہر شہری کو مقروض کر دیا۔ آج بھی وہی پرانا طرز سیاست غالب ہے۔ نعرے ہیں، جھوٹ ہے، وعدے ہیں اور ٹانگیں کھینچنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ سیاست دانوں کی غلطیوں کا خمیازہ عام شہری بھگت رہا ہے اور نجانے کب تک بھگتے گا۔ تاریخ عالم کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہی ممالک اور اقوام کامیاب ہوئے جنہوں نے مستقل بنیادوں پر جدوجہد کی۔ حکومت کے آنے جانے سے جن کے رُخ اور لگن تبدیل نہیں ہوئے، کسی جماعت کی حکومت چند برس کے لیے آتی ہے مگر قومی اور ملکی تعمیر و ترقی اور دیرپا مستقل منصوبوں کا تقاضا کرتی ہے۔ ملکی تاریخ کے 75 ویں برس میں ہمیں اس کی سمجھ آ جانی چاہیے۔ ہم دوسروں کو دیکھ کر ہی کچھ سمجھ اور سیکھ سکتے ہیں۔ قومیں اپنے رہنماؤں کی پیروی کرتی ہیں۔ یہ ذمہ داری رہنماؤں کی ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے حالات کو دیکھ کر کچھ سبق حاصل کریں اور قوم کی رہنمائی کا حق ادا کریں۔ سیاست دانوں کو صرف اور صرف قوم اور ملک کا مفاد پیش نظر رکھنا چاہیے اور اسی صورت میں ہی ملک ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہو سکتا ہے اور اس سے سماجی سطح پر جو مثبت اثرات سامنے آئیں گے اس سے یقینا جمہوری نظام بھی مضبوط ہو گا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کا فائدہ ہے۔

تبصرے بند ہیں.